ہندوستان
وزیراعظم مودی نے ویر بال دیوس پر گرو گوبند سنگھ جی کی ‘لافانی تعلیمات’ کو خراجِ عقیدت پیش کیا

نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز دسویں سکھ گرو، سری گرو گوبند سنگھ جی کے صاحبزادوں کی جرأت اور قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ویر بال دیوس کے سالانہ موقع پر انہیں یاد کیا۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک جذباتی پیغام میں وزیر اعظم نے 26 دسمبر کو پورے ملک کے لیے ‘عقیدت و احترام کا دن’ قرار دیا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘ویر بال دیوس عقیدت و احترام کا دن ہے جو بہادر صاحبزادوں کی قربانی کی یاد کے طور پر وقف ہے۔ ہم ماتا گجری جی کے پختہ یقین اور سری گرو گوبند سنگھ جی کی لافانی تعلیمات کو یاد کرتے ہیں۔ یہ دن جرأت، یقین اور راست بازی سے وابستہ ہے۔ ان کی زندگیاں اور نظریات آنے والی نسلوں تک لوگوں کو تحریک دیتے رہیں گے۔’
بعد ازاں وزیراعظم نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ایک قومی سطح کے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس تقریب میں ملک بھر سے نوجوان شریک ہوں گے جن میں پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار کے اعزاز یافتہ بچے بھی شامل ہوں گے جواس دن کی تاریخی اہمیت کی نمائندگی کریں گے۔
حکومت نے ملک بھر میں متعدد تقریبات کا اہتمام کیا ہے جن میں قصہ گوئی کے سیشنز سے لے کر ڈیجیٹل نمائشیں شامل ہیں تاکہ نوجوان نسل کو کم سن شہیدوں کی ‘بے مثال بہادری’ سے روشناس کرایا جا سکے۔
حکومت ہند نے2022 میں’ ویر بال دیوس‘ کو باضابطہ طور پر منانے کا اعلان کیا تھا تاکہ صاحبزادہ بابا زورآور سنگھ جی اور صاحبزادہ بابا فتح سنگھ جی کی شہادت کی یاد منائی جا سکے۔
1705 میں، گرو گوبند سنگھ جی کے دونوں چھوٹے صاحبزادے، جن کی عمریں بالترتیب 9 اور 7 برس تھیں مغل افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ ان سے اپنا مذہب ترک کرنے کے بدلے دولت اور تحفظ کی پیشکش کی گئی لیکن کمسن صاحبزادے اپنے عقیدے پر ڈٹے رہے۔
انکار کی سزا کے طور پر سرہند کے مغل فوجدار وزیر خان کے حکم پر انہیں دیوار میں چنوا دیا گیا۔ ان کی دادی ماتا گجری جی، جو ٹھنڈا برج (سرد مینار) میں ان کے ساتھ قید تھیں کچھ ہی عرصے بعد شہادت پا گئیں۔
صدیوں سے ان کی داستان سکھ تاریخ کا ایک بنیادی ستون رہی ہے، جو جسمانی جبر پر روحانی قوت کی فتح کی علامت ہے۔
اس دن کو قومی سطح پر منانے سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ صاحبزادوں کی ‘امر داستان’ بھارت کے مستقبل کے لیے ‘قوتِ حیات’ ہے، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ان کی شجاعت کی تاریخ ملک کے نوجوانوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
یو این آئی ۔ایم جے۔ ایس وائی
ہندوستان
کھرگے، راہل اور پرینکا نے اہل وطن کو دی بدھ پورنیما کی مبارکباد
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ پورنیما کے موقع پر جمعہ کو اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے سب کی خوشحالی کی خواہش کی ہے مسٹر کھرگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ “بدھ پورنیما کے مبارک موقع پر سب کو دلی مبارکباد بھگوان بدھ کی زندگی اور تعلیمات لافانی، ہمہ گیر اور عالمگیر علم کا ذریعہ ہیں۔ سچائی، ہمدردی، عدم تشدد، بیداری اور برابری کا ان کا پیغام نہ صرف ہماری تہذیب کو تشکیل دیتا ہے، بلکہ تصادم اور غیر یقینی صورتحال سے بھرے دور میں بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا راستہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اندرونی امن ایک منصفانہ اور ہم آہنگ دنیا کی بنیاد ہے۔ ہم آہنگی برقرار رہے، بھائی چارے کے بندھن گہرے ہوں اور ہماری زندگی نیک صفات سے متاثر ہو۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ “آپ سب کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔ بھگوان بدھ کا فلسفہ حیات اور ان کے خیالات پوری انسانیت کے لیے درس ہیں۔ عدم تشدد، ہمدردی، سچائی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقیات کا ان کا دکھایا ہوا راستہ ہمیں ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کی طرف چلنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔”
محترمہ گاندھی نے کہا کہ “بھگوان بدھ کی سب سے بڑی سیکھ ہے کہ نفرت کو صرف محبت سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ بھگوان بدھ نے سچائی، عدم تشدد، انسانیت، رحم اور ہمدردی جیسی عظیم اقدار پر چلنے کی ترغیب دی اور دنیا کو امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کا راستہ دکھایا۔ تمام اہل وطن کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔”
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
شاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
نئی دہلی، کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ لداخ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر شاہ جمعہ کو پپرہوا کی بدھ باقیات کی “عظمت بیان کرنے ” میں مصروف ہیں، جب کہ لداخ کے عوام کے ریاستی درجے، چھٹے شیڈول کے درجے اور زمین و روزگار کے تحفظ جیسے اہم مطالبات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں مسٹر رمیش نے کہا کہ لداخ میں اس طرح کے مذہبی اور تاریخی مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جس سے وزیر داخلہ شاید ناواقف ہیں۔ انہوں نے 14 جنوری 1949 کے ایک تاریخی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن بھگوان بدھ کے دو اہم شاگردوں سارپتر اور مہا موگلان کی مقدس باقیات، جنہیں 1851 میں وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم لے جایا گیا تھا، انہیں واپس ہندوستان لایا گیا تھا۔ ان باقیات کو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے وصول کر کے کولکتہ میں مہابودھی سوسائٹی آف انڈیا کے حوالے کیا تھا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق، 1949 میں ہی مسٹر نہرو نے لداخ کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ اس دوران ممتاز بدھ لیڈر کوشک بکولا رنپوچھے نے ان سے درخواست کی تھی کہ ان باقیات کو لداخ بھی لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل مئی 1950 میں شرمندہ تعبیر ہوئی، جب ان مقدس باقیات کو 79 دنوں تک پورے لداخ میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ اس کے بعد انہیں رنگون، کولمبو اور سانچی میں نصب کیا گیا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی تقریبات کا مقصد صرف مذہبی عقیدت نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ مکالمہ اور ان کے جذبات کا احترام بھی ہوتا تھا۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے بدھ پورنیما کی مبارکباد دی، بدھ کے نظریات پر نئے عزم کا اعادہ کرنے پر دیا زور
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بدھ پورنیما کے موقع پر ملک کو مبارکباد دیتے ہوئے گوتم بدھ کی تعلیمات کی پائیدار اہمیت اور معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ان کے رول پر زور دیا ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ بدھ پورنیما پر نیک خواہشات بھگوان بدھ کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمارا عزم بہت مضبوط ہے۔ ان کے خیالات ہمارے معاشرے میں خوشی اور یکجہتی کے جذبے کو مزید گہرا کریں۔
انہوں نے اپنے بیانات سے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکومت امن، ہمدردی اور اتحاد جیسی اقدار کو فروغ دینے پر مسلسل زور دے رہی ہے جو بدھ مت کے فلسفے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
بدھ پورنیما ، جسے ویساک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، گوتم بدھ کی پیدائش ، روشن خیالی اور مہا پری نروان کی علامت ہے اور اسے ہندوستان اور دنیا بھر میں لاکھوں پیروکار مناتے ہیں ۔ یہ دن ہندوستان میں خاص اہمیت کا حامل ہے ، جہاں بدھ کی زندگی سے وابستہ کئی مقامات-بشمول بودھ گیا ، سار ناتھ اور کشی نگر-زیارت اور ثقافتی ورثے کے بڑے مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں ۔
وزیر اعظم کا پیغام ہندوستان کی خوشحال روحانی روایات کو عالمی سطح پر پیش کرنے کی وسیع تر کوششوں سے ہم آہنگ ہے، خاص طور پر ان اقدامات کے ذریعے جو اس کی ثقافتی سفارت کاری کے حصے کے طور پر ملک کے بدھ ورثے کو اجاگر کرتے ہیں ۔
مسٹرمودی کی “خوشی اور یکجہتی کے جذبے” کو گہرا کرنے کی اپیل ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب عوامی گفتگو اکثر سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی ذمہ داری پر زور دیتی ہے ، ایسے موضوعات جو بدھ کی تعلیمات کے ساتھ مضبوطی سے گونجتے ہیں ۔ ان کا پیغام سیاسی نقطہ نظر سے تمام لیڈروں کی نیک خواہشات کے سلسلے میں شامل ہے، جو تہوار کی عالمگیر اپیل اور امن اور ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان7 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر4 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا7 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا7 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار










































































































