ہندوستان
بجٹ 27-2026: سرمایہ کاری میں کمی اور بڑھتی ہوئی معاشی ناانصافی بڑی چیلنجز ہیں، کانگریس

نئی دہلی، کانگریس نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالیاتی بجٹ 27-2026 کے سامنے سرمایہ کاری میں سستی، گھریلو بچتوں میں گراوٹ اور بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری جیسے سنگین مسائل سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جئے رام رمیش نے پیر کے روز ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا شیڈول سامنے آ چکا ہے اور تقریباً 20 دنوں کے بعد نیا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بجٹ 16 ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر مبنی ہوگا، جس کی رپورٹ گزشتہ 17 نومبر کو پیش کی جا چکی ہے۔ یہ سفارشات 2026 سے 2031 تک مرکز اور ریاستوں کے درمیان ٹیکسوں کی تقسیم کے طریقہ کار کو طے کریں گی۔
جئے رام رمیش نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ان بنیادی مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو جی ڈی پی کی بلند شرح نمو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ
کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ اور بھاری منافع کے باوجود نجی شعبہ سرمایہ کاری سے کترارہا ہے۔عوامی سطح پر گھریلو بچتوں میں ہونے والی نمایاں کمی نے ملکی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے اور ملک میں آمدنی، اثاثوں اور قوتِ خرید کے لحاظ سے امیر اور غریب کے درمیان فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے منریگا (MGNREGA) کے نئے قانون میں 60:40 کے فارمولے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پہلے سے مالی دباؤ کا شکار ریاستی حکومتوں پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا، جو وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آنے والا بجٹ صرف اعداد و شمار کی جادوگری تک محدود رہے گا یا حکومت زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی ٹھوس اور معنی خیز قدم اٹھائے گی
یواین آئی ۔م اع
ہندوستان
کھرگے، راہل اور پرینکا نے اہل وطن کو دی بدھ پورنیما کی مبارکباد
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ پورنیما کے موقع پر جمعہ کو اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے سب کی خوشحالی کی خواہش کی ہے مسٹر کھرگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ “بدھ پورنیما کے مبارک موقع پر سب کو دلی مبارکباد بھگوان بدھ کی زندگی اور تعلیمات لافانی، ہمہ گیر اور عالمگیر علم کا ذریعہ ہیں۔ سچائی، ہمدردی، عدم تشدد، بیداری اور برابری کا ان کا پیغام نہ صرف ہماری تہذیب کو تشکیل دیتا ہے، بلکہ تصادم اور غیر یقینی صورتحال سے بھرے دور میں بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا راستہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اندرونی امن ایک منصفانہ اور ہم آہنگ دنیا کی بنیاد ہے۔ ہم آہنگی برقرار رہے، بھائی چارے کے بندھن گہرے ہوں اور ہماری زندگی نیک صفات سے متاثر ہو۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ “آپ سب کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔ بھگوان بدھ کا فلسفہ حیات اور ان کے خیالات پوری انسانیت کے لیے درس ہیں۔ عدم تشدد، ہمدردی، سچائی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقیات کا ان کا دکھایا ہوا راستہ ہمیں ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کی طرف چلنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔”
محترمہ گاندھی نے کہا کہ “بھگوان بدھ کی سب سے بڑی سیکھ ہے کہ نفرت کو صرف محبت سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ بھگوان بدھ نے سچائی، عدم تشدد، انسانیت، رحم اور ہمدردی جیسی عظیم اقدار پر چلنے کی ترغیب دی اور دنیا کو امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کا راستہ دکھایا۔ تمام اہل وطن کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔”
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
شاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
نئی دہلی، کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ لداخ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر شاہ جمعہ کو پپرہوا کی بدھ باقیات کی “عظمت بیان کرنے ” میں مصروف ہیں، جب کہ لداخ کے عوام کے ریاستی درجے، چھٹے شیڈول کے درجے اور زمین و روزگار کے تحفظ جیسے اہم مطالبات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں مسٹر رمیش نے کہا کہ لداخ میں اس طرح کے مذہبی اور تاریخی مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جس سے وزیر داخلہ شاید ناواقف ہیں۔ انہوں نے 14 جنوری 1949 کے ایک تاریخی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن بھگوان بدھ کے دو اہم شاگردوں سارپتر اور مہا موگلان کی مقدس باقیات، جنہیں 1851 میں وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم لے جایا گیا تھا، انہیں واپس ہندوستان لایا گیا تھا۔ ان باقیات کو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے وصول کر کے کولکتہ میں مہابودھی سوسائٹی آف انڈیا کے حوالے کیا تھا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق، 1949 میں ہی مسٹر نہرو نے لداخ کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ اس دوران ممتاز بدھ لیڈر کوشک بکولا رنپوچھے نے ان سے درخواست کی تھی کہ ان باقیات کو لداخ بھی لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل مئی 1950 میں شرمندہ تعبیر ہوئی، جب ان مقدس باقیات کو 79 دنوں تک پورے لداخ میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ اس کے بعد انہیں رنگون، کولمبو اور سانچی میں نصب کیا گیا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی تقریبات کا مقصد صرف مذہبی عقیدت نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ مکالمہ اور ان کے جذبات کا احترام بھی ہوتا تھا۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے بدھ پورنیما کی مبارکباد دی، بدھ کے نظریات پر نئے عزم کا اعادہ کرنے پر دیا زور
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بدھ پورنیما کے موقع پر ملک کو مبارکباد دیتے ہوئے گوتم بدھ کی تعلیمات کی پائیدار اہمیت اور معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ان کے رول پر زور دیا ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ بدھ پورنیما پر نیک خواہشات بھگوان بدھ کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمارا عزم بہت مضبوط ہے۔ ان کے خیالات ہمارے معاشرے میں خوشی اور یکجہتی کے جذبے کو مزید گہرا کریں۔
انہوں نے اپنے بیانات سے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکومت امن، ہمدردی اور اتحاد جیسی اقدار کو فروغ دینے پر مسلسل زور دے رہی ہے جو بدھ مت کے فلسفے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
بدھ پورنیما ، جسے ویساک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، گوتم بدھ کی پیدائش ، روشن خیالی اور مہا پری نروان کی علامت ہے اور اسے ہندوستان اور دنیا بھر میں لاکھوں پیروکار مناتے ہیں ۔ یہ دن ہندوستان میں خاص اہمیت کا حامل ہے ، جہاں بدھ کی زندگی سے وابستہ کئی مقامات-بشمول بودھ گیا ، سار ناتھ اور کشی نگر-زیارت اور ثقافتی ورثے کے بڑے مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں ۔
وزیر اعظم کا پیغام ہندوستان کی خوشحال روحانی روایات کو عالمی سطح پر پیش کرنے کی وسیع تر کوششوں سے ہم آہنگ ہے، خاص طور پر ان اقدامات کے ذریعے جو اس کی ثقافتی سفارت کاری کے حصے کے طور پر ملک کے بدھ ورثے کو اجاگر کرتے ہیں ۔
مسٹرمودی کی “خوشی اور یکجہتی کے جذبے” کو گہرا کرنے کی اپیل ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب عوامی گفتگو اکثر سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی ذمہ داری پر زور دیتی ہے ، ایسے موضوعات جو بدھ کی تعلیمات کے ساتھ مضبوطی سے گونجتے ہیں ۔ ان کا پیغام سیاسی نقطہ نظر سے تمام لیڈروں کی نیک خواہشات کے سلسلے میں شامل ہے، جو تہوار کی عالمگیر اپیل اور امن اور ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان6 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان7 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
جموں و کشمیر3 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا6 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا4 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں











































































































