تازہ ترین
راہل گاندھی کو لے کر راجیہ سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تکرار، کانگریس کا واک آؤٹ
نئی دہلی، کانگریس نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ دینے کا معاملہ جمعرات کو راجیہ سبھا میں بھی اٹھایا، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت نوک جھونک ہوئی اور بعد میں کانگریس نے ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ایوان میں قانون ساز دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد چیئرمین نے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے کو بولنے کا موقع دیا۔ کھڑگے نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دباکر جمہوری عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ وہیں ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ لوک سبھا کی بحث کو لے کر راجیہ سبھا میں معاملہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کے مطابق کانگریس نے لوک سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کو صدر کے خطبے پر جواب دینے سے روکنے کے بعد اب راجیہ سبھا میں بھی اسی حکمت عملی پر کام کرتے ہوئے وزیر اعظم کو بولنے سے روکنے کی کوشش کی۔
نڈا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کھڑگے بہت تجربہ کار اور سینئر ہیں، انہیں کانگریس کو راہل گاندھی کا “یرغمال” نہیں بننے دینا چاہیے۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نہرو نے بھی کہا تھا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی بحث سے جڑے مسائل کو دوسرے ایوان میں اٹھانا اچھی روایت نہیں ہے۔ انہوں نے کھڑگے اور دیگر اراکین سے کہا کہ وہ لوک سبھا کے مسائل کو اس ایوان میں نہ اٹھائیں، یہ پارلیمانی روایت کے خلاف ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ دونوں ایوانوں سے مل کر بنتی ہے اور اگر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک کے مفاد کی کوئی بات اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت دی جانی چاہیے۔ نڈا نے کہا کہ حکومت ہر موضوع پر بحث کے لیے تیار ہے اور وزیر اعظم بھی لوک سبھا میں جواب دینے کے لیے تیار تھے لیکن کانگریس نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔ انہوں نے کھڑگے سے کہا کہ آپ اتنے تجربہ کار اور سینئر ہیں، آپ کو پارٹی کو ایک معصوم بچے کا یرغمال بننے سے روکنا چاہیے۔ رجیجو نے کہا کہ راجیہ سبھا میں تین دن سے بہت اچھی بحث چل رہی تھی، اچانک کانگریس کو نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ اب اس ایوان میں لوک سبھا کے مسائل اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایوان وزیر اعظم کے صدر کے خطبے پر جواب کو سننے کے لیے بے تاب ہے لیکن کانگریس کسی اور ایجنڈے کے تحت ایوان کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ دونوں ایوانوں سے چلتی ہے لیکن حکومت ایک ایوان کو مفلوج بنا کر پارلیمنٹ چلانا چاہتی ہے جو ملک کے لیے دھوکہ ہے۔ انہوں نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے حکمران اتحاد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوک سبھا میں راہل گاندھی کو بولنے سے روکنے اور پنڈت نہرو و سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بارے میں ناشائستہ باتوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ نڈا نے الزام لگایا کہ کانگریس ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ملک کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے اور ایک خاندان کے مفاد کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ اس دوران کانگریس کے اراکین وقفے وقفے سے نعرے بازی کرتے رہے اور بعد میں واک آؤٹ کر گئے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ایران کی نئی تجاویز پاکستان کے حوالے، امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت کا امکان
اسلام آباد، ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز کا مسودہ پاکستان کو ثالثی کے لیے بھیج دیا ہے، جسے اب امریکی حکام تک پہنچایا جائے گا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کی گئیں، جہاں سے انہیں امریکہ کو ارسال کیا جائے گا اور بعد ازاں امریکی ردعمل ایرانی حکام تک پہنچایا جائے گا۔
تاحال اس معاملے پر کسی بھی فریق کی جانب سے سرکاری سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس نئے مسودے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
تاہم ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق ایران کی تجاویز میں مرحلہ وار امن عمل شامل ہو سکتا ہے، جس کے تحت پہلے جنگ بندی کو مستحکم کیا جائے گا، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر غور ہوگا اور بعد ازاں جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات زیر بحث لائے جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان اس پورے عمل میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کے لیے دونوں فریقین کو اہم سمجھوتے کرنا ہوں گے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے بعض ایرانی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اس معاملے پر کہ ایران جوہری پروگرام کو فوری طور پر زیر بحث لانے کے بجائے مؤخر کرنا چاہتا ہے، جو کسی جامع امن معاہدے میں بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی ۔ م س
جموں و کشمیر
سری نگر: سی آئی ٹی یو کا یومِ مئی پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا عزم، تاریگامی کی اتحاد کی اپیل
سری نگر،سری نگر میں ‘سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز’ (سی آئی ٹی یو) کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مئی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کی تاریخی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے خلاف مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے عزم کو دہرایا گیا۔
پروگرام کا آغاز شکاگو کے ‘مارکیٹ افیئر’ کے ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا جن کی عظیم قربانیوں نے دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ یومِ مئی مزدوروں کے اتحاد، استقامت اور انصاف کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر کے صدر اور رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا مزدور کبھی انتہائی نامساعد حالات میں 17 سے 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور تھے۔آج ہمیں جو حقوق حاصل ہیں—چاہے وہ باقاعدہ اوقاتِ کار ہوں، مناسب اجرت ہو یا بنیادی تحفظ—یہ کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دیے، بلکہ یہ دہائیوں کی انتھک جدوجہد، اتحاد اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
تاریگامی نے خبردار کیا کہ گزشتہ دہائیوں میں جو حقوق حاصل کیے گئے تھے، وہ اب بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور لیبر قوانین کی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا:
“جب تک لوگ آواز نہیں اٹھاتے، کوئی نہیں سنتا۔ تبدیلی تب ہی آتی ہے جب مزدور متحد ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔”
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے حال ہی میں نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے مزید کہا کہ یومِ مئی محض ماضی کی یاد منانا نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—جو معاشرے کو سماجی انصاف، محنت کی عظمت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے تمام محنت کشوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور منظم رہیں۔
اس تقریب میں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مزدوروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
یو این آئی۔م ا ع
دنیا
ایران کے خلاف فوجی آپریشن پہلے شروع کرنا چاہیے تھا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن پہلے شروع کرنا چاہیے تھا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی 90 فی صد میزائل فیکٹریاں تباہ کر دیں، ایران پر پابندیاں کامیاب ہیں اور ایران معاہدہ چاہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہند۔ پاک جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ میں نے 3 سے 5 کروڑ انسانوں کی جانیں بچائی ہیں۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے مزید کہا کہ اسکی معیشت تباہ ہوتی جارہی ہے، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دینی چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان6 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان7 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
جموں و کشمیر3 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا6 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا4 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں













































































































