جموں و کشمیر
Amazon will let customers try on clothes before they buy
Nulla pariatur. Excepteur sint occaecat cupidatat non proident, sunt in culpa qui officia deserunt mollit anim id est laborum.

Et harum quidem rerum facilis est et expedita distinctio. Nam libero tempore, cum soluta nobis est eligendi optio cumque nihil impedit quo minus id quod maxime placeat facere possimus, omnis voluptas assumenda est, omnis dolor repellendus.
Nulla pariatur. Excepteur sint occaecat cupidatat non proident, sunt in culpa qui officia deserunt mollit anim id est laborum.
Sed ut perspiciatis unde omnis iste natus error sit voluptatem accusantium doloremque laudantium, totam rem aperiam, eaque ipsa quae ab illo inventore veritatis et quasi architecto beatae vitae dicta sunt explicabo.
Neque porro quisquam est, qui dolorem ipsum quia dolor sit amet, consectetur, adipisci velit, sed quia non numquam eius modi tempora incidunt ut labore et dolore magnam aliquam quaerat voluptatem. Ut enim ad minima veniam, quis nostrum exercitationem ullam corporis suscipit laboriosam, nisi ut aliquid ex ea commodi consequatur.
At vero eos et accusamus et iusto odio dignissimos ducimus qui blanditiis praesentium voluptatum deleniti atque corrupti quos dolores et quas molestias excepturi sint occaecati cupiditate non provident, similique sunt in culpa qui officia deserunt mollitia animi, id est laborum et dolorum fuga.
“Duis aute irure dolor in reprehenderit in voluptate velit esse cillum dolore eu fugiat”
Quis autem vel eum iure reprehenderit qui in ea voluptate velit esse quam nihil molestiae consequatur, vel illum qui dolorem eum fugiat quo voluptas nulla pariatur.
Temporibus autem quibusdam et aut officiis debitis aut rerum necessitatibus saepe eveniet ut et voluptates repudiandae sint et molestiae non recusandae. Itaque earum rerum hic tenetur a sapiente delectus, ut aut reiciendis voluptatibus maiores alias consequatur aut perferendis doloribus asperiores repellat.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipisicing elit, sed do eiusmod tempor incididunt ut labore et dolore magna aliqua. Ut enim ad minim veniam, quis nostrud exercitation ullamco laboris nisi ut aliquip ex ea commodo consequat.
Nemo enim ipsam voluptatem quia voluptas sit aspernatur aut odit aut fugit, sed quia consequuntur magni dolores eos qui ratione voluptatem sequi nesciunt.
جموں و کشمیر
مظاہروں سے نہیں، بات چیت سے ہی جموں و کشمیر کے حقوق بحال ہوں گے: الطاف بخاری
سرینگر، جموں و کشمیر کی اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر نے 5 اگست 2019 کو جو حقوق کھوئے ہیں، انہیں احتجاجی مظاہروں یا تصادم کے ذریعے واپس نہیں پایا جا سکتا۔ انہیں صرف بات چیت، مشاورت اور ایک واضح روڈ میپ کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی پارٹی ریاست کا درجہ، آرٹیکل 370 اور 35اے کی بحالی، قیدیوں کی رہائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی مفاد کے دیگر مسائل اٹھانے والی کسی بھی جماعت کی حمایت کرے گی۔
مسٹر بخاری نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “5 اگست جموں و کشمیر کے لیے ایک سیاہ دن ہے اور جب تک ہمارے حقوق بحال نہیں ہو جاتے، یہ سیاہ دن ہی رہے گا۔ تاہم، ان حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کے بجائے بات چیت، مشاورت اور ایک واضح فریم ورک کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات اور شکایات کا ازالہ کرنے اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35اے کی منسوخی کے آٹھ ماہ بعد، مارچ 2020 میں سابق اراکینِ اسمبلی اور سابق وزراء کی جانب سے ‘اپنی پارٹی’ تشکیل دی گئی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران جموں کے خطے میں مذہب کے نام پر ہندو ووٹروں کو متحد کیا تھا۔ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا، “اب ایسا لگتا ہے کہ جموں کی اکثریتی ہندو برادری کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس طرح کی سیاست جموں و کشمیر کے وسیع تر مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
پی او کے میں بدامنی پر فاروق عبداللہ کا سوال، پی ایم مودی اور جے شنکر کی خاموشی پر تنقید
سرینگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او کے) میں بدامنی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی متعدد ہلاکتوں پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی مبینہ خاموشی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
مسٹر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے اپیل کی کہ وہ پی او کے کا دورہ کرے اور وہاں کے حالات کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو اس علاقے کا دورہ کرنا چاہیے، لوگوں کے مسائل کو سمجھنا چاہیے اور انہیں حل کرنے کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ “میں نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے درخواست کی ہے۔ انہیں وہاں جانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ لوگوں کے مسائل کیا ہیں۔ انہیں ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے پی او کے کے معاملے پر کیوں ‘خاموشی’ اختیار کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “میں نے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بھی درخواست کی ہے۔ وہ مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ یہ ہمارا حصہ ہے۔ اگر یہ آپ کا حصہ ہے، تو آپ بات کیوں نہیں کرتے؟ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے روکا جائے؟” مسٹر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے پی او کے میں رونما ہونے والے واقعات کی مذمت کرنے والا کوئی بیان نہیں سنا ہے۔ انہوں نے کہا، “وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ہمارا حصہ ہے۔ وہ ایسا کہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ ہمارا حصہ ہے، تو وہ اس پر بات کیوں نہیں کرتے؟ وہ اس پر بات نہیں کر رہے ہیں۔”
قابلِ ذکر ہے کہ معاشی اور سیاسی شکایات کو لے کر پی او کے میں جون سے احتجاجی مظاہرے تیز ہو گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ بدامنی مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، پیر اور منگل کو ہونے والے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جاری۔۔۔ یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی نے وادی کے پھل ملک بھر تک پہنچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا
سرینگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ اور خراب موسم کی وجہ سے سرینگر-جموں قومی شاہراہ پر بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیشِ نظر، کشمیر کی باغبانی کی پیداوار کو بروقت باہر نکالنے کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور ہنگامی ٹرانسپورٹ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پھل پیدا کرنے والوں میں بڑھتی ہوئی تشویش پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ سڑکوں کی طویل بندش کی وجہ سے جلد خراب ہونے والی پیداوار، خاص طور پر سیب کی کوالٹی اور مارکیٹ میں مسابقت کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب مارکیٹنگ کا سیزن عروج پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ “فصل کی کٹائی کا ہر سیزن ہمارے باغبانوں کے لیے ایک سال کے صبر، سرمایہ کاری اور امید کی عکاسی کرتا ہے۔ آج بہت سے باغبان تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی پیداوار سے لادے ہوئے ٹرک پھنسے ہوئے ہیں کیوں کہ وادی کا سڑکوں کا رابطہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انتظامیہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ محض ٹریفک مینجمنٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی ایمرجنسی ہے۔”
محبوبہ مفتی نے پھلوں سے لادے ٹرکوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب بھی سڑک کے حالات اجازت دیں، مناسب تجارتی گاڑیوں کے لیے مغل روڈ سمیت تمام محفوظ متبادل راستوں پر فعال طور پر غور کیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، پی ڈی پی نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کی پھلوں کی صنعت لاکھوں لوگوں بشمول باغ کے مالکان، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز، کمیشن ایجنٹوں اور پیکیجنگ ورکرز کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ سپلائی چین میں طویل رکاوٹ بڑے مالی نقصانات کا سبب بن سکتی ہے اور اس سے دیہی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
پارٹی نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ باغبانی کی پیداوار کو نکالنے کے لیے ایک وقف آپریشنل فریم ورک قائم کرے، جس میں ٹریفک مینجمنٹ ایجنسیاں، سول انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ حکام شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خراب ہونے والے پھلوں کو لے جانے والی تجارتی گاڑیوں کو حالات سازگار ہوتے ہی منظم اور بلاتعطل راستہ دیا جانا چاہیے۔
پی ڈی پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو صرف سڑکوں کے رابطے کی بحالی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں ان روزگار کے ذرائع کے تحفظ کے اقدامات بھی شامل ہونے چاہئیں جنہیں اس رکاوٹ سے خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کے پھل پیدا کرنے والوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے تیزی سے کام کریں۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا5 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
دنیا1 week ago‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا








































































































Jawn Staff
July 11, 2017 at 10:41 pm
Neque porro quisquam est, qui dolorem ipsum quia dolor sit amet, consectetur, adipisci velit, sed quia non numquam eius modi tempora incidunt ut labore et dolore magnam aliquam quaerat voluptatem.