دنیا
اسرائیلی فوج کی تازہ حملوں میں مزید 124 فلسطینی شہری شہید

غزہ، اسرائیلی فوج کےزیرِ محاصرہ غزہ کی پٹی پر، جہاں لوگوں کو بھوکا پیاسا رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے، پر حملوں میں جانی نقصان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 124 اضافے سے 30 ہزار 534 تک پہنچ گیا ہے۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ تحریری بیان میں اسرائیل کے 150 دنوں سے جاری حملوں کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 124 فلسطینیوں کو شہید کیا جس کے بعد مجموعی جانی نقصان 30 ہزار 534 ہو گیا۔
واضح رہے کہ تازہ حملوں میں 210 فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد زخمیوں کی مجموعی تعداد 71 ہزار 920 ہو گئی ہے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسرائیل نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں “13 قتل عام” کیا ہے اور یہ کہ اب بھی ملبے تلے اور سڑک کے کنارے نعشیں موجود ہیں، لیکن اسرائیلی فورسز کی رکاوٹوں کی وجہ سے طبی ٹیمیں اور شہری دفاع کے اہلکار لاشوں تک نہ پہنچ سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسلامک ریپبلک کی منظوری کے بغیر ہرمز سے کوئی بھی جہاز نہیں گزرے گا: ایرانی فوج کے سربراہ
تہران، ایرانی فوج کے سربراہ حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے اور ملک کی فوج کی اجازت کے بغیر وہاں سے کوئی بھی سمندری نقل و حرکت ممکن نہیں ہے۔
مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مسٹر سیاری نے بدھ کے روز کہا کہ ایرانی فوج اور اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز میں کوئی بھی سرگرمی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی زمینی، سمندری اور فضائی سرحدوں پر سکیورٹی مستحکم ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 18 جون کو ایران اور امریکہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت 28 فروری سے شروع ہونے والے تصادم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، 8 جولائی کے بعد سے امریکی فوج نے ایران پر متعدد بار حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف ایران کی کارروائی کے جواب میں کیے گئے تھے۔
ایرانی فوج نے مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں پر حملے کر کے اس کا جواب دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اسلامک جمہوریہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اب قابل عمل نہیں رہی۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
امریکی۔سعودی حملوں کے بعد عراق جامع دفاعی منصوبہ تیار کرے گا
بغداد عراق کی قومی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکی اور سعودی حملوں کے بعد ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع دفاعی اور سکیورٹی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
بدھ کو ہنگامی اجلاس کے بعد جاری بیان میں قومی سلامتی سے متعلق وزارتی کونسل نے کہا کہ ملک بھر میں حکومتی کنٹرول مزید مضبوط کرنے، عراق کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر جواب دینے اور کسی بھی فریق کو عراقی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ایک جامع سکیورٹی منصوبہ نافذ کیا جائے گا۔
حملے کے جواب میں کونسل نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق کارروائی کرے، اس واقعے کو دستاویزی شکل دے اور عراق کے جائز حقوق کا دفاع کرے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس نوعیت کے حملوں سے نمٹنا اور ان کا جواب دینا صرف عراقی حکومت اور ملک کے آئینی سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے منگل کی شب دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اور سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے مشرقی عراق میں “ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں” کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران امریکی فوجی اڈوں اور سعودی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب پاپولر موبلائزیشن فورسز نے کہا ہے کہ اس کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
امریکی فوجیوں پر حملے کی کوشش کے بعد امریکہ کے ایران پر شدید فضائی حملے
ماسکو، امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فوجی کمان مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی مراکز اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ مغربی ایشیا میں تعینات امریکی فوجیوں اور جنگی جہازوں پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
سینٹ کام نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی مغربی ایشیا میں تعینات امریکی افواج پر منگل کے روز کیے گئے مبینہ میزائل حملے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔
بیان کے مطابق امریکی فوج نے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے، جن میں فوجی کمان مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور دفاعی مراکز، نیز بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف شامل تھے۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد “ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی افواج، تجارتی بحری جہازوں اور خلیجی ہمسایہ ممالک کو لاحق خطرات کو کم کرنا” تھا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
دنیا1 week ago‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی





































































































