تازہ ترین
جاپان میں شدید برف باری،اموات کی تعداد 30 تک پہنچ گئی
ٹوکیو، جاپان میں غیر معمولی طور پر شدید برفباری کو گزشتہ دو ہفتوں میں 30 افراد کی اموات کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت نے آوموری میں رہائشیوں کی مدد کے لیے فوج بھیج دی ہے جو سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے اور جہاں دور دراز علاقوں میں زمین پر 4.5 میٹر تک برف موجود ہے۔
وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے منگل کی صبح ایک خصوصی کابینہ اجلاس بلایا اور وزرا کو ہدایات دیں کہ وہ اموات اور حادثات کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔
ایک طاقتور سرد ہوا کی لہر حالیہ ہفتوں میں بحرِ جاپان کے ساحل پر شدید برفباری کا باعث بنی ہے جبکہ بعض علاقوں میں معمول سے دوگنا یا اس سے زیادہ برف پڑی ہے۔
فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 20 جنوری سے منگل تک شدید برفباری کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
آوموری کے گورنر سوئچیرو میاشیتا نے پیر کو کہا کہ انہوں نے جاپان کی فوج سے ہنگامی امداد کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوج سے اپیل کی کہ وہ اس علاقے میں ایسے بزرگوں کی مدد کریں جو اکیلے رہتے ہیں اور برف ہٹانے میں مدد کے محتاج ہیں۔ گورنر نے کہا کہ علاقائی دارالحکومت آوموری شہر کی سطحِ زمین پر 1.8 میٹر تک اونچی برف کی دیواریں موجود ہیں جبکہ سڑکوں اور گھروں سے برف صاف کرنے والے مقامی کارکنوں پر کام کا بوجھ حد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے واقعات جیسے چھتوں سے گرنے والی برف کے باعث مہلک حادثات یا عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا ۔
دنیا
خطے کے تنازعہ میں روس کے ممکنہ کردار پر حزب اللہ کی مثبت توقعات
بیروت، حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے ڈپٹی ہیڈ محمود قماطی نے اسپوتنک کو بتایا کہ حزب اللہ کو امید ہے کہ روس، جس کے ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، خطے میں جاری تنازعہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
محمود قماطی نے کہا کہ ’’آج روس، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور علاقائی سطح پر لبنان اور کئی عرب ممالک کے ساتھ مخلصانہ روابط کی بدولت ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور ہمیں ایسی ہی امید ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، امریکہ کسی بھی روسی کردار کی راہ میں رکاوٹیں اور دیواریں کھڑی کر رہا ہے۔‘‘
مسٹر قماطی کے مطابق، آج امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ نے ایران پر اثر انداز ہونے اور جنگ بندی کے حصول کے لیے روس کی طرف رجوع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جلد یا بدیر، انہیں روس کی ضرورت پڑے گی۔‘‘
حزب اللہ کے رہنما نے خطے میں روس کے موقف، اس کی پالیسیوں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری سمیت انسانی اور ریاستی حقوق کے تحفظ کے عزم کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ خطہ امریکی تسلط، جارحیت، قتل و غارت اور تباہی کی لپیٹ میں ہے۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا
امریکی سینٹکام پیر سے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا
نیویارک،
امریکہ کی مرکزی فوجی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روزہندستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے ایران کی سمندری ناکہ بندی شروع کرے گی۔
سینٹکام کے بیان کے مطابق، “امریکی افواج صدر کے اعلان کے مطابق 13 اپریل کو امریکی وقت صبح 10 بجے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی تمام بحری آمد و رفت کو روکنے کے لیے کارروائی شروع کریں گی۔”
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ناکہ بندی بلا امتیاز ہوگی، یعنی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی جو ایران کی بندرگاہوں یا اس کے ساحلی علاقوں، بشمول خلیج فارس اور خلیج عمان کی بندرگاہوں، میں آتے جاتے ہیں۔
تاہم، سینٹکام نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ان جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی جو ایرانی بندرگاہوں کے علاوہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے لیے جا رہے ہوں۔
دریں اثنا، اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ان تمام جہازوں کی نگرانی اور روک تھام کرے گا جو ایران کو راستہ استعمال کرنے کے لیے ادائیگی کرتے ہیں۔
یو این آئی اسپوتنک، ایم جے
ہندوستان
معاہدے کے قریب پہنچ کر ایران کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا: عباس عراقچی
نئی دہلی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایم او یو پر دستخط کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم اسے ’’سخت ترین مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
عباس عراقچی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ خیر سگالی سے خیر سگالی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی، تاہم “اسلام آباد ایم او یو” کے قریب پہنچنے پر امریکی جانب سے سخت شرائط اور ناکہ بندی کے اعلان کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی
جموں و کشمیر1 week agoجموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟
دنیا6 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا6 days agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
ہندوستان5 days agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
دنیا1 week agoپاسدارانِ انقلاب کا ریاض حملے میں ملوث ہونے سے انکار
دنیا1 week agoامریکہ۔ ایران جنگ: ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر تبادلہ خیال
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایرانی افزودہ یورینیئم قبضے میں لینے کا عندیہ، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا
دنیا1 week agoایران کی جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کیلئے نئی ہدایات، کئی کمپنیوں نے مسترد کر دیں
دنیا4 days agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoادائیگی کے مسائل کے باعث ایرانی تیل کے ٹینکر کا رخ چین موڑنے کی رپورٹ غلط : وزارتِ پیٹرولیم
جموں و کشمیر6 days agoلشکر طیبہ کا بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا انکشاف، دو پاکستانیوں سمیت 5 گرفتار











































































































