تازہ ترین
سابق جنرل نے لکھا ہے کہ نازک گھڑی میں مودی نے فوج کو اکیلا چھوڑدیا: راہل- پرینکا
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے سابق فوجی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے چینی دراندازی کے نازک وقت پر سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ کر فوج کو اکیلا چھوڑ دیا اور جب سابق جنرل کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کی تفصیلات کی بنیاد پر وجوہات پوچھی جاتی ہیں، تو پارلیمنٹ میں بولنے سے روکا جا رہا ہے۔
مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا نے بدھ کو لوک سبھا سے بجٹ اجلاس کے لیے معطل کیے گئے کانگریس کے آٹھ ارکان کے پارلیمنٹ ہاؤس کے ’مکر دوار‘ پر احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے بعد صحافیوں سے کہا کہ بحران کی نازک گھڑی میں فوجی چیف کو انتظار کروایا گیا۔ جنرل نروانے نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ اس وقت سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا تھا اور اب جب اس کی وجوہات پوچھی جا رہی ہیں، تو اپوزیشن لیڈر کو پارلیمنٹ میں بولنے سے روک کر جمہوریت اور ملک کے عوام کی توہین کی جا رہی ہے۔
سابق فوجی چیف کی کتاب صحافیوں کو دکھاتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کے بارے میں اسپیکر اوم برلا اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کہہ رہے ہیں کہ کتاب چھپی ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر نوجوان کو دیکھنا چاہیے کہ اس کتاب میں لداخ کا پورا سچ لکھا ہوا ہے۔ کتاب میں دی گئی تفصیلات سے واضح ہے کہ اس وقت پورے نظام نے جنرل نروانے کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر گاندھی نے کہا، ’’جب جنرل نروانے نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو فون کر کے بتایا کہ چینی فوج کے ٹینک کیلاش رِج پر آ گئے ہیں اور پوچھا کہ کیا کرنا ہے، تو کوئی جواب نہیں ملا۔ نروانے کی جانب سے راج ناتھ سنگھ، وزیر خارجہ جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر سے پوچھنے پر بھی کوئی جواب نہ ملا۔ نروانے نے راج ناتھ سنگھ کو دوبارہ فون کیا، جس پر وزیر دفاع نے کہا کہ میں ’اوپر‘ سے پوچھتا ہوں۔ اس وقت اعلیٰ سطح سے یہ حکم تھا کہ اگر چینی فوج ہندوستان کی سرحد میں داخل ہو، تو ہماری اجازت کے بغیر فائرنگ نہ کی جائے۔ فیصلہ لینے کے وقت وزیر اعظم کی جانب سے پیغام آیا کہ جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔‘‘
مسٹر مودی پر طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم کی اب لوک سبھا آنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے۔ اگر وزیر اعظم ایوان میں آتے ہیں، تو وہ خود جا کر انہیں یہ کتاب سونپیں گے، تاکہ وہ اسے پڑھ سکیں اور ملک کو یہ معلوم ہو سکے کہ لداخ تعطل کے دوران حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’کتاب میں صاف لکھا ہے کہ جب چینی فوج ہماری سرحد میں گھس آئی تھی، ایسی نازک گھڑی میں فوجی چیف کو انتظار کروایا گیا۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا، ’’یہی وہ سچائی ہے، جسے بولنے سے انہیں پارلیمنٹ میں روکا جا رہا ہے۔ ملک سوال پوچھ رہا ہے اور حکومت جواب دینے سے بھاگ رہی ہے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ جب فیصلہ لینے کا وقت آیا، تو وزیر اعظم نے سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کر لیے۔ جنرل نروانے نے خود لکھا ہے کہ اس وقت انہیں محسوس ہوا کہ سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا۔‘‘
محترمہ واڈرا نے حکومت پر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب حکومت چاہتی ہے کہ ایوان میں خلل پیدا کیا جائے تو وہ نشیکانت دوبے کو بولنے کے لیے کھڑا کر دیتی ہے۔ جب مسٹر گاندھی کو شائع شدہ کتاب کے اقتباسات پڑھنے نہیں دیے گئے، تو نشیکانت دوبے چھ کتابیں لے کر ایوان میں آئے لیکن ان کا مائیک بند نہیں کیا گیا۔ ایوان میں بار بار نہرو جی کا نام لے کر ملک کی توجہ بھٹکائی جا رہی ہے۔ حکومت دکھانا چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ میں صرف انہی کی چلتی ہے۔ یہ اسپیکر کے عہدے، پارلیمنٹ، جمہوریت اور ملک کے عوام کی توہین ہے۔ اپوزیشن لیڈر ایک فرد نہیں ہیں- وہ پوری اپوزیشن کے نمائندے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت ان کروڑوں لوگوں کا منہ بند کرنا چاہتی ہے جنہوں نے اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ کو ووٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مودی حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو نروانے جی کی لکھی ہوئی باتیں معلوم نہ ہوں۔ جب چین کی فوج ہماری سرحد پر تھی، تو اقتدار میں بیٹھے لیڈر یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ اب کیا کرنا ہے۔ دو گھنٹے بعد حکومت یہ کہتی ہے کہ آپ خود ہی فیصلہ لے لو اور بی جے پی کے یہی لوگ اندرا گاندھی جی اور تاریخ کی باتیں کرتے ہیں۔‘‘
یو این آئی- م ک
ہندوستان
حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر سونیا گاندھی کا حکومت پر نشانہ
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے ایک نجی اخبار میں شائع اپنے مضمون کے ذریعے مرکزی حکومت پر خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی کے معاملے پر شدید تنقید کی ہے محترمہ گاندھی نے پیر کو یہاں واضح طور پر کہا کہ موجودہ وقت میں اصل تشویش خواتین کا ریزرویشن نہیں، بلکہ مجوزہ حد بندی ہے، جسے انہوں نے “انتہائی خطرناک” اور “آئین پر حملہ” قرار دیا ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے خبردار کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں جس طرح سے حد بندی کا معاملہ سامنے آ رہا ہے، وہ جمہوری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جلد بازی میں اس موضوع کو آگے بڑھا رہی ہے، جس کے پیچھے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے حمایت تو مانگی جا رہی ہے لیکن اس اہم معاملے پر شفافیت نہیں برتی جا رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے کل جماعتی اجلاس کے مطالبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے یاد دلایا کہ 2023 میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ‘ناری شکتی وندن ادھینیم’ کے تحت لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی گنجائش پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ تاہم، اس کے نفاذ کے لیے مردم شماری اور حد بندی ضروری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت 2029 سے خواتین کےلیئے ریزریشن نافذ کرنا چاہتی ہے، تو یہ فیصلہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ صرف ریاضیاتی بنیاد پر نہیں، بلکہ سیاسی توازن کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے، تاکہ آبادی پر قابو پانے میں آگے رہنے والی ریاستوں (خاص طور پر جنوبی ریاستوں) کو نقصان نہ ہو۔
اس کے علاوہ انہوں نے ذات پات پر مبنی مردم شماری میں تاخیر پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بہار اور تلنگانہ جیسی ریاستوں نے کم وقت میں سروے کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ کام ممکن ہے۔
آخر میں انہوں نے 2021 کی مردم شماری ملتوی کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے کروڑوں لوگ سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم رہ گئے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ایسے اہم فیصلوں پر جلد بازی کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے اور پورے عمل کو جمہوری بنایا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
دنیا
خطے کے تنازعہ میں روس کے ممکنہ کردار پر حزب اللہ کی مثبت توقعات
بیروت، حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے ڈپٹی ہیڈ محمود قماطی نے اسپوتنک کو بتایا کہ حزب اللہ کو امید ہے کہ روس، جس کے ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، خطے میں جاری تنازعہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
محمود قماطی نے کہا کہ ’’آج روس، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور علاقائی سطح پر لبنان اور کئی عرب ممالک کے ساتھ مخلصانہ روابط کی بدولت ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور ہمیں ایسی ہی امید ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، امریکہ کسی بھی روسی کردار کی راہ میں رکاوٹیں اور دیواریں کھڑی کر رہا ہے۔‘‘
مسٹر قماطی کے مطابق، آج امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ نے ایران پر اثر انداز ہونے اور جنگ بندی کے حصول کے لیے روس کی طرف رجوع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جلد یا بدیر، انہیں روس کی ضرورت پڑے گی۔‘‘
حزب اللہ کے رہنما نے خطے میں روس کے موقف، اس کی پالیسیوں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری سمیت انسانی اور ریاستی حقوق کے تحفظ کے عزم کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ خطہ امریکی تسلط، جارحیت، قتل و غارت اور تباہی کی لپیٹ میں ہے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی
جموں و کشمیر1 week agoجموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟
دنیا6 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا6 days agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
ہندوستان5 days agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
دنیا1 week agoپاسدارانِ انقلاب کا ریاض حملے میں ملوث ہونے سے انکار
دنیا1 week agoامریکہ۔ ایران جنگ: ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر تبادلہ خیال
دنیا1 week agoایران کی جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کیلئے نئی ہدایات، کئی کمپنیوں نے مسترد کر دیں
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایرانی افزودہ یورینیئم قبضے میں لینے کا عندیہ، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا
دنیا4 days agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoادائیگی کے مسائل کے باعث ایرانی تیل کے ٹینکر کا رخ چین موڑنے کی رپورٹ غلط : وزارتِ پیٹرولیم
جموں و کشمیر6 days agoلشکر طیبہ کا بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا انکشاف، دو پاکستانیوں سمیت 5 گرفتار













































































































