تازہ ترین
ڈاکٹر اشفاق الحسن کی دو میڈیکل گائیڈ کتابوں کی سرینگر میں رسمِ رونمائی

بین الاقوامی شہرت یافتہ طبی مصنف ڈاکٹر اشفاق الحسن کی تصنیف کردہ دو اہم میڈیکل گائیڈ کتابوں کی رسمی رونمائی منگل کے روز شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر، سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب میں عمل میں آئی۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ اِتو مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھے، جبکہ ڈائریکٹر سکمز صورہ ڈاکٹر اشرف گنائی، سکمز میڈیکل کالج بمنہ کے پرنسپل پروفیسر فضل پرے، فیکلٹی اراکین، سینئر افسران اور طبی شعبے سے وابستہ معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
یہ نئی شائع شدہ گائیڈ کتابیں بالخصوص جے کے پی ایس سی اور یو پی ایس سی میڈیکل آفیسر کے امیدواروں کے لیے مرتب کی گئی ہیں، جن کا مقصد میڈیکل گریجویٹس کو منظم، امتحان پر مبنی اور مؤثر تیاری کا فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ کتابوں میں امتحانی پیٹرن، اکثر پوچھے جانے والے سوالات اور زیادہ امکانات رکھنے والے طبی موضوعات پر جامع رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ منتظمین کے مطابق ان میں کئی ایسے اہم موضوعات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو عمومی نصابی کتب میں نظر انداز ہو جاتے ہیں، جس سے یہ کتابیں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے ایک منفرد اور قیمتی تعلیمی ذریعہ بن گئی ہیں۔
جے کے پی ایس سی میڈیکل آفیسرز گائیڈ معروف ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے مشترکہ طور پر تحریر کی ہے، جن میں ممتاز ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر ارشاد احمد تیلی اور ڈاکٹر منیب شامل ہیں۔ یو پی ایس سی ایڈیشن کے لیے سکمز صورہ سے ڈاکٹر عمر (پلاسٹک سرجری) اور سکمز میڈیکل کالج بمنہ سے پروفیسر اعجاز راتھر نے اداراتی اور علمی تعاون فراہم کیا۔ دونوں کتابوں کی تیاری میں ایک سال سے زائد عرصہ تحقیقی محنت اور ٹیم ورک صرف کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اشفاق الحسن، جو سکمز میڈیکل کالج بمنہ میں پروفیسر اور شعبۂ اناٹومی کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ یہ کتابیں امیدواروں کو جے کے پی ایس سی کے نصاب اور متوقع سوالات کے انداز کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشاعت محض ایک امتحانی گائیڈ نہیں بلکہ مستقبل کے میڈیکل افسران کے لیے ایک مکمل روڈ میپ ہے، جو علمی معیار، کلینیکل بصیرت اور حقیقی طبی ذمہ داریوں کو ایک مستند ماخذ میں یکجا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتاب میں ان موضوعات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جن کے امتحانات میں آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، ساتھ ہی دیہی اور شہری علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کے لیے عملی رہنمائی، اخلاقی ذمہ داریوں اور ڈاکٹر و مریض کے تعلقات جیسے اہم پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
سکمز میڈیکل کالج بمنہ کے پرنسپل پروفیسر فضل پرے نے اس موقع پر کہا کہ سکمز فیکلٹی کا فعال علمی کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارہ قومی اور بین الاقوامی تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر اشفاق الحسن، ڈاکٹر ارشاد احمد تیلی اور ڈاکٹر منیب کی اس مشترکہ علمی کاوش کو سکمز اور جموں و کشمیر کی طبی برادری کے لیے باعثِ فخر سنگِ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ اشاعت نظریاتی علم اور عملی طبی مہارت کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کرتی ہے۔
ڈاکٹر ارشاد احمد تیلی نے کہا کہ یہ کتاب طبی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے میدان میں ایک نیا معیار قائم کرتی ہے، جو سائنسی بنیادوں، کلینیکل اہمیت اور شواہد پر مبنی تعلیم کو یکجا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں جدید طبی معلومات اور عملی تجربے کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ مواد طبی اعتبار سے مؤثر، سائنسی طور پر مستند اور جدید طبی معیار کے مطابق ہو۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اشاعت مستقبل کے ایسے باصلاحیت، پیشہ ور، بااخلاق اور مریض دوست ڈاکٹروں کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گی جو بدلتے ہوئے طبی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
منتظمین کے مطابق جے کے پی ایس سی میڈیکل آفیسرز گائیڈ اور یو پی ایس سی سی ایم ایس ایڈیشن سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ جے کے پی ایس سی، یو پی ایس سی، نیٹ پی جی، ایف ایم جی ای اور آئی این آئی سی ای ٹی جیسے اہم مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے میڈیکل گریجویٹس کے لیے ایک مستند اور بنیادی حوالہ ثابت ہوں گی۔
آخر میں ڈاکٹر اشفاق الحسن نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر صحت کے نظام کے لیے باصلاحیت اور اچھے ڈاکٹروں کی تیاری ناگزیر ہے اور ایک عظیم ڈاکٹر بننے کے لیے سب سے پہلے ایک اچھا انسان ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو صارف نہیں بلکہ انسان سمجھا جانا چاہیے اور ڈاکٹر و مریض کے تعلقات کو مضبوط بنانا عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
دنیا
آبنائے ہرمز بندش پر ٹرمپ کا ردعمل، ایران ہمیں دباؤ میں نہیں لا سکتا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم امریکا کو کسی صورت بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور صورتحال مجموعی طور پر بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ آج آبنائے ہرمز کی بندش کا واقعہ پیش آیا، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں اور دن کے اختتام تک مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے معمولی چالاکی دکھانے کی کوشش کی، مگر وہ امریکا کو دباؤ میں نہیں لا سکتا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولا جا رہا ہے، جس پر ٹرمپ نے خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا تھا۔
تاہم تازہ صورتحال میں ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے دوبارہ بندش کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک بار پھر غیر واضح اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ناری شکتی وندن ترمیمی قانون کو منظور نہیں ہونے دیا اور خواتین کو ان کا حق دینے سے روکا، ملک کی خواتین انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ جن جماعتوں نے یہ “جرم” کیا ہے، ملک کی خواتین انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گی اور جب بھی وہ ان جماعتوں کو دیکھیں گی تو اس کی کسک ان کے دلوں میں باقی رہے گی۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس “بے عزتی” کی سزا ملک کی خواتین ضرور دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جو دہائیوں سے زیر التوا تھے، انہیں 2029 سے نافذ کیا جانا تھا، لیکن خواتین کو نئے مواقع دینے اور آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے خواتین کو انصاف دینے کا ایک مقدس عمل قرار دیا۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کو روک کر “بھرون ہتھیا” جیسا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسے جماعتیں اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس بار بھی اس نے مختلف “جھوٹ” کا سہارا لے کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اس سے کانگریس اور اس کے حامیوں کا “چہرہ بے نقاب” ہو گیا ہے اور وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بل تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا اور اگر یہ منظور ہو جاتا تو نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور عوام کی آواز مزید مضبوطی سے اسمبلی اور لوک سبھا تک پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال کر خواتین کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اصلاحاتی اقدامات جیسے یکساں سول کوڈ، ووٹر لسٹ کی درستگی، وقف قوانین اور ماؤ نواز تشدد کے خاتمے جیسے اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے ملک اپنی مکمل ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
جموں و کشمیر6 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا6 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا6 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائے گا: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا2 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
جموں و کشمیر1 week agoڈرگ فری جموں و کشمیر مہم اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا







































































































