تجزیہ
اف ؛ مسلمانوں میں بڑھتا ہوا اختلاف!

( اللہ رحم کرے)
تحریر ۔۔جاوید بھارتی
آج مسلمانوں کے اندر انگنت و بے شمار اختلافات ہیں ،، محرم الحرام کے مہینے سے لے کر ذی الحجہ کے مہینے تک اختلاف ، عاشورہ سے لے کر شب برات تک اختلاف ، واقعہ کربلا پر اختلاف ، بارہ ربیع الاول کے موقع پر جشن عیدمیلادالنبی منانے اور نہ منانے پر اختلاف ، گیارہویں شریف آجائے تو اس پر بھی اختلاف ، شب برات کی فضیلت پر اختلاف ، رمضان کا مہینہ آجائے تو سحری و افطار کے اوقات پر دو چار منٹ کا معاملہ لے کر اس پر بھی اختلاف،، کچھ مواقع اور لمحات ایسے ہیں کہ جن کو انجام دینے پر اتفاق ہے تو اس کے طریقوں پر اختلاف ہے غرضیکہ مسلمانوں کی پہچان ہی بنتی جارہی ہے آپسی اختلافات کا شکار ہونے کی،، پھر بھی ایک طرف کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور دوسری طرف تعلیم یافتہ تو تعلیم یافتہ اور جو تعلیم سے کوسوں دور ہیں وہ بھی مسلکی اور فرقہ بندی کی بنیاد پر بحث و مباحثہ کرتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو ساتھ ہی ایک دوسرے فرقے کے علماء کو بھی برا بھلا کہا جاتا ہے پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کا احترام لازمی ہے اور جو قوم علماء کرام کا احترام نہیں کرتی وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے اور جو حال ہے اس کے تناظر میں تو یہ کہا جانا چاہئے کہ اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے فرقہ کے علماء کا احترام لازمی ہے ۔
نماز ہی کو لے لیں تو ہر مکتب فکر کا اتفاق ہے کہ نماز ہر حال میں ضروری ہے اور نماز ہی افضل العبادات ہے یعنی نماز ہی سب سے افضل عبادت ہے اور روز محشر سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں سوال ہوگا لیکن نماز کے طریقے پر بھی اختلاف ہے اقامت کہنے پر اتفاق تو ہے مگر اقامت کب کہا جائے سارے مقتدی کھڑے ہو جائیں تب اقامت کہا جائے یا تنہا ایک شخص کھڑا ہوکر اقامت کہے اور باقی سارے لوگ قد قامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوں اس پر بھی اختلاف ، تکبیر تحریمہ کہنے پر اتفاق ہے تو ہاتھ باندھنے اور نہ باندھنے پر اختلاف ہے ، کسی قدر ہاتھ باندھنے پر اتفاق ہے تو کہاں باندھیں سینے پر ، ناف کے نیچے یا ناف کے اوپر اس پر بھی اختلاف ہے۔
اب قیام پر اتفاق ہے تو حالت قیام پر اختلاف ، کسی کا کہنا ہے کہ پاؤں اتنا پھیلاؤ کہ دنبہ گزر جائے ، کسی کا کہنا ہے کہ کندھے سے کندھا ملا ہونا چاہئے ، کسی کا کہنا ہے کہ ٹخنے سے ٹخنہ ملاہونا چاہئے ، کسی کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کے پاؤں کی چھوٹی انگلی ٹچ ہونا چاہئے اب بتائیے ساری باتیں یہ سارے طریقے کیسے ممکن ہو سکتے ہیں ۔
التحیات پڑھنے پر اتفاق ہے تو اشہد ان لا الہ الا اللہ پر انگلی اٹھا کر گرانے کے بعد کی حالت پر اختلاف ہے ، انگلی گراکر سیدھی رہے یا جھکی رہے یا مسلسل حرکت میں رہے اس پر بھی اختلاف ہے،
ایک طرف کہا جاتا ہے کہ منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک ، حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک ، ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک ، کچھ بڑی تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک ،، یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو ،، تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو،، فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں ،، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ۔
اب تو یہ اختلاف بہت ہی بھیانک رخ اختیار کرتا جارہا ہے،، یعنی مسلک ، مکتب فکر اور فرقہ بندی کی زنجیروں کو توڑتے ہوئے آپس میں ہی اختلاف ہونے لگا پیری مریدی کے نام پر اختلاف ، خانقاہوں کے نام پر اختلاف ، کرامات اولیاء کے نام پر اختلاف ، مدارس و مساجد کے نام پر اختلاف ، تعزیہ داری کے نام پر اختلاف ، نوحہ خوانی و ماتم کے نام پر اختلاف ، عرس کے اہتمام و اس کے طریقوں پر اختلاف حتیٰ کہ جس بنیاد پر اختلاف ختم ہونا چاہئے اور جس مقدس ہستی نے مدرسۃ النبی میں ایسی تعلیم دی ایسا درس دیا کہ ابو بکر صدیق اکبر ہوگئے، عمر بن خطاب فاروق اعظم ہوگئے، عثمان بن عفان کامل الحیا ولایقان ہو گئے اور علی بن ابی طالب باب العلم ہوگئے اس مقدس ہستی کے اسوۂ حسنہ کا کامیابی کی ضمانت قرار دینے پر اتفاق ہے تو ان کی تاریخ ولادت پر اختلاف ہے ، سفر معراج پر اتفاق ہے تو دیدار الہی پر اختلاف ہے۔
ائے مسلماں کبھی تو سینے پر ہاتھ رکھ کر غور کر کہ تو کس سمت اپنا قدم بڑھا رہا ہے ،، چوبیس اگست کو بعد نمازِ مغرب جہاں بہت سے اداروں نے اعلان کردیا کہ انتیس صفر المظفر کو ماہ ربیع الأول کا چاند نظر آگیا تو وہیں کچھ ادارے رات بھر خاموش رہے اور اپنے اپنے ذرائع سے اپنے اپنے مسلک اور مکتب فکر کی شناخت کے ساتھ معلومات کرتے رہے تو کچھ ادارے کہنے لگے کہ انتیس صفر المظفر کو ماہ ربیع الاول کا چاند نظر نہیں آیا چنانچہ پچیس اگست 2025 ماہ ربیع الاول کی پہلی تاریخ نہیں بلکہ صفر المظفر کی تیس تاریخ ہوگی ،، سوشل میڈیا پر لیٹر پیڈ دوڑتے رہے بھلے ہی اڑتالیس گھنٹے بعد شدت پسندی پر مبنی لیٹر پیڈ سوشل میڈیا سے غائب ہونے لگے ۔
چاند نظر آگیا ،، چاند نظر نہیں آیا ،، اس موضوع پر بحث و مباحثہ شروع ہوگیا یہ سلسلہ جب تھما تو دوسرا سلسلہ چل پڑا کہ میلادالنبی کا جشن منانا چاہئے نہیں منانا چاہئے اور اس بحث و مباحثے میں علماء و جہلا دونوں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اتنا حصہ لیتے ہیں کہ یہ بھی خیال نہیں رہتا ہے کہ غیر اقوام ، دوسرے مذہب کے لوگ ہماری تلخ کلامی ، ترش کلامی اور طنزیہ جملے کو قیچ کرکے ہم سے سوال کر بیٹھیں تو ہم کیا جواب دیں گے
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ ایسے اختلاف ہیں جو ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہیں جیسے محرم الحرام کے مہینے میں تعزیہ الم کے ساتھ ڈھول تاشہ بجانا جہاں ایک طرف علماء کرام اکثریت میں اسے ناجائز کہہ رہے ہیں وہیں کچھ علماء اسے جائز قرار دے رہے ہیں اس دلیل کے ساتھ کہ یزید کا نام مٹ گیا اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام باقی ہے ان کا مشن باقی ہے ان کی تحریک باقی ہے تو گویا جس کا مشن باقی ہو تو اس خوشی میں بالکل ڈھول تاشہ بجانا جائز ہے ،، اس ہٹ دھرمی کا جواب تو یہی ہوگا کہ باپ کے مرنے کے بعد اس کی اولاد باقی ہے ، اس کا کاروبار باقی ہے ، اس کا تعمیر کیا ہوا مکان باقی ہے تو ایسی صورت میں باپ کی میت کاندھوں پر اٹھا کر ڈھول تاشہ بجاتے ہوئے قبرستان جانا چاہئے ، ڈھول تاشہ کے ساتھ تجہیز وتکفین و تدفین کرنا چاہئے اور ہر سال وصال کی تاریخ کو قرآن خوانی و ایصال ثواب نہ کرکے دروازے پر ڈھول تاشہ بجانا چاہئے اور لوگوں کو بتانا چاہئے کہ آج ہی کے دن ہمارے باپ کا انتقال ہوا تھا اسی خوشی میں ڈھول تاشہ کا انتظام و اہتمام و انعقاد کیا گیا ہے ۔
ولادت سید الکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مہینے و موقع پر جشن منانا خوشی منانا اس موضوع پر اختلاف کرنا یہ بھی ایک طرح سے ضد ہی نظر آتی ہے ،، روایات میں ملتا ہے کہ جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ماں کے شکم میں تھے تو فرشتے حضرت آمنہ کے لئے تحائف لے کر آیا کرتے تھے پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے ؟
حضرت آمنہ کے جسم سے خوشبو آتی تھی ، پورا گھر خوشبو سے معطر رہا کرتا تھا پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے
سید عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو حلیمہ سعدیہ جب قافلے کے ہمراہ چلیں عرب کے دستور کے مطابق بچے کی تلاش میں دودھ پلانے کے لئے تو ان کی اونٹنی بہت کمزور تھی ، قافلے میں سب سے پیچھے تھی تمام دائیاں بچے لے لے کر مطمئن ہوگئیں اور حلیمہ سعدیہ کی قسمت میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب نبی پاک کو لے کر دائی حلیمہ واپس چلیں تو اب وہی اونٹنی برق رفتاری کا اظہار کرنے لگی حلیمہ سعدیہ قافلے میں سب سے آگے نکل گئیں اور جب گھر آئیں تو ہریالی ہی ہریالی اور خوشحالی ہی خوشحالی تمام بکریاں بھی بحال اور خوشحال ہوگئیں بچپن ہی میں یہ معجزہ جھما جھم رحمتوں برکتوں کی بارش،، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے
آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں،، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی،، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو،، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے ،، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے
وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے ،، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے ؟
آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی ، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے ، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے ، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے ، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا ، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا،، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا ، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم)
سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا ، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے ، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے ،، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے ۔
ہاں جشن عیدمیلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے ، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے ، باجا نہیں بجنا چاہئے ، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے ، کسی کی دلآزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایساہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو ، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو ، سیرت النبی کا اعلان ہو ،، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منارہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں ۔
راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے ، جس کا کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے ،، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے ، غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے ، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے ، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کرکے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے ا نسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔
جاوید اختر بھارتی ( سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
تجزیہ
مشرق وسطی میں ایران کے ہاتھوں امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی:ایک جائزہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی، عسکری اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایک پیچیدہ مگر نہایت اہم بحث کو جنم دے رہی ہیں خاص طور پر امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور اس کے ساتھ موسمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بعض حلقوں میں آپس میں جوڑ کر دیکھ رہے ہیں یہ موضوع صرف سیکیورٹی یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی، سائنسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں موسمی حالات ہمیشہ سے سخت رہے ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا عمومی طور پر خشک اور گرم ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں اور کئی ممالک طویل عرصے سے قحط سالی جیسے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، عمان، یمن اور دیگر ممالک میں پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے پانی کے متبادل ذرائع، جیسے ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنانا) پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ اور موسم کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جبکہ بعض دیگر افراد اسے مصنوعی عوامل سے جوڑتے ہیں، جن میں عسکری ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز اور الیکٹرو میگنیٹک لہروں کا کردار شامل بتایا جاتا ہے۔
ریڈار سسٹمز کا بنیادی مقصد دفاعی نگرانی، دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور میزائل یا فضائی حملوں کا بروقت پتہ لگانا ہوتا ہے۔ یہ سسٹمز انتہائی جدید ہوتے ہیں اور ان میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک ویوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض نظریات کے مطابق یہ لہریں ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نظام پر۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی ریڈار سسٹمز موسمی حالات کو متاثر کر سکتے ہیں؟ سائنسی اعتبار سے اس کا کوئی واضح اور مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے کہ عام دفاعی ریڈار براہ راست موسمی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ موسمی نظام ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے جس میں درجہ حرارت، ہوا کا دباؤ، نمی، سمندری دھارائیں اور دیگر کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو کسی ایک ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
البتہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی ہے، جسے ‘کلاؤڈ سیڈنگ’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے بادلوں میں خاص کیمیکل شامل کر کے بارش کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے بعض اوقات بارش میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، لیکن یہ عمل محدود پیمانے پر ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مکمل طور پر یقینی نہیں ہوتے۔
اگر ہم امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کے درمیان تعلق کی بات کریں تو اس حوالے سے زیادہ تر دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی خاص علاقے میں ریڈار سسٹم کی موجودگی یا عدم موجودگی سے مقامی سطح پر پورے خطے کے موسم میں بڑی تبدیلی کو صرف اس ایک عنصر سے جوڑنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا اور ہم ان عوامل سے انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور ہوا کے دباؤ کے نظام میں تبدیلی جیسے عوامل موسمی پیٹرن کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی کا اثر مشرقِ وسطیٰ پر بھی پڑ رہا ہے۔
قحط سالی کے خاتمے یا اس میں کمی کے حوالے سے بھی ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ کہنا کہ قحط سالی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، درست نہیں ہوگا۔ پانی کا بحران اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اس کے علاوہ سیاسی اور عسکری حالات بھی اس خطے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں جنگ یا کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف معیشت بلکہ ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ صنعتی سرگرمیاں، تیل کی پیداوار، اور دیگر عوامل فضائی آلودگی کو بڑھاتے ہیں، جو موسمی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اوقات میڈیا اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسی معلومات پھیل جاتی ہیں جو حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کو جوڑنے والے نظریات بھی اسی زمرے میں آ سکتے ہیں لیکن فی الحال سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مفروضے سے ہم انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر دعوے کو سائنسی بنیادوں پر پرکھیں اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ، اور غیر متوقع موسمی حالات اس خطے کے لیے بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔
مشرقِ وسطیٰ میں موسمی تبدیلی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کے اسباب پیچیدہ اور کثیر جہتی ہیں۔ امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی کو اس تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اس کے مضر اثرات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اصل عوامل میں عالمی موسمیاتی تبدیلی، انسانی سرگرمیاں، اور قدرتی نظام شامل ہیں۔ ہمیں ان عوامل کو سمجھ کر ہی مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ اس خطے کو ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
گوہر پیرزادہ
اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا7 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا7 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا4 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط








































































































