دنیا
روس اور ایران کے لیے تیل کی رعایتوں میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں:امریکی وزیرِ خزانہ
واشنگٹن،
امریکہ روس اور ایران کے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر دی گئی رعایتوں کی مدت میں مزید اضافہ نہیں کرے گا۔یہ اطلاع امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس کو دی۔
مسٹر بیسینٹ نے کہا، “ایرانیوں کے لیے اب کوئی رعایت نہیں ہے… ہم نے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور وہاں سے کوئی تیل باہر نہیں آ رہا۔ ہمارا خیال ہے کہ اگلے دو تین دنوں میں انہیں پیداوار بند کرنا پڑے گی، جو ان کے تیل کے کنوؤں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔”
وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ وہ روس کے لیے بھی تیل کی رعایتوں میں کسی اور توسیع کا تصور نہیں کر سکتے۔
مارچ میں امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے ان تمام لین دین کی اجازت دی تھی جن میں روسی اور ایرانی تیل پہلے سے بحری جہازوں پر لدا ہوا تھا۔ اس کی آخری تاریخ بالترتیب 11 اپریل اور 19 اپریل مقرر کی گئی تھی۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے۔ یہ راستہ خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے، اور اس بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دنیا
صدر ٹرمپ برطانیہ کے کنگ چارلس سوم کے ساتھ ایران اور ناٹو کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے
واشنگٹن،
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے شاہ چارلس سوم کے دورہ امریکہ کے دوران ان کے ساتھ شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (ناٹو) اور ایران کے خلاف امریکی مہم سے متعلق اہم معاملات پر بات چیت کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایک نیوز ایجنسی کو فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا، “میں ہر موضوع پر بات کروں گا۔ کنگ چارلس میرے دوست ہیں اور ایک بہترین انسان ہیں۔” رپورٹ کے مطابق، بات چیت کے ایجنڈے میں برطانیہ کا ‘ڈیجیٹل سروس ٹیکس’ بھی شامل ہوگا۔
بکنگھم پیلس نے 31 مارچ کو شاہ چارلس سوم اور ملکہ کیمیلا کے دورہ امریکہ کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، شاہی جوڑا 27 سے 30 اپریل تک امریکہ کے سرکاری دورے پر رہے گا۔
پیر سے شروع ہونے والا یہ چار روزہ دورہ برطانیہ سے امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جارہا ہے۔
یہ دورہ عالمی سیاست اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپوتنک/یو این آئی
دنیا
ایرانی وزیر خارجہ پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کریں گے
تہران، ایران کی نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ آج شام سے “اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دوروں کا آغاز کریں گے”۔
مہر نیوز نے کہا کہ اس دورے کا مقصد دو طرفہ مشاورت، خطے کی موجودہ پیش رفت اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں مختصر وفد کی پاکستان آمد کی اطلاع کو اہم سفارتی پیشرفت قرار دے دیا۔
ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے رابطے کے بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور ان کو ایرانی ہم منصب سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات پر بات چیت کی جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان دونوں فریقین کو جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کیلیے سرگرم ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن و استحکام کیلیے اہم پالیسی اور سفارتی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کیلیے پُرعزم ہے۔ شہباز شریف نے اعلیٰ سطح سفارتی رابطوں میں تیزی لانے اور مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یورپی یونین اقوام متحدہ کے مشن کے بعد لبنان میں فوج بھیجنے پر غور کر رہی ہے
بروسلز، یورپی یونین (ای یو) جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے خاتمے کے بعد اپنا الگ مشن بھیجنے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس نے کہا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے مشن کے خاتمے کے بعد، لبنانی مسلح افواج کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور ملک میں دوبارہ کنٹرول قائم کرنے کے لیے اضافی مدد کی ضرورت ہوگی۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اور دفاع کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ یورپی مشن اقوام متحدہ کے مشن سے مختلف ہوگا اور اس کا مقصد لبنان کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنانی نمائندوں کے درمیان بات چیت کے بعد لبنان میں ایک نازک جنگ بندی کو تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ مارچ میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کی ایران کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ممکن ہوئی اور اس سے دیرپا امن کی کوششوں کو وقت ملا ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یشیئل لیٹر نے کہا کہ امن کا ایک امکان باقی ہے لیکن اس کے لیے حزب اللہ کو بے اثر کرنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے جنگ بندی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر موثر نہیں ہے اور حزب اللہ کی سرگرمیاں اسے کمزور کر رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی دونوں طرف سے حملے ہوتے رہے ہیں جن میں جنوبی لبنان میں حالیہ حملہ بھی شامل ہے جس میں ایک صحافی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا5 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر1 day agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا4 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر4 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا7 days agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoاسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ہندوستان کی جانب سے خیر مقدم، امن کی سفارتی کوششوں کی حمایت








































































































