دنیا
متعدد ایرانی ٹینکر کامیابی سے امریکی ناکہ میں شگاف ڈال کرگزر چُکے ہیں
تہران، امریکہ کے آبنائے ہرمزکا محاصرے شروع کرنے سے تاحال کم از کم 34 ایرانی ٹینکر ، جن میں سے کئی ایرانی خام تیل سے لدے ہوئے تھے، محاصرے میں شگاف ڈال چُکے ہیں۔
روزنامہ فنانشیل ٹائمز کی بدھ کو شائع کردہ خبر کے مطابق واشنگٹن نے 13 اپریل کو محاصرہ شروع کیا۔ ایران کے ساحلی پانیوں میں دخول یا خروج کرنے والی تمام کشتیاں اس محاصرے کا ہدف تھیں۔ 16 اپریل تک پابندیاں وسیع کر دی گئیں اور کھلے سمندر میں موجود کسی بھی ایرانی جہاز کے علاوہ ایسی کشتیاں بھی نشانے پر آئیں جو جنگی حوالے سے ایران کی مدد کی اہل باربرداری کر رہی ہوں۔
امریکی افواج اب تک بحیرہ عمان میں ایک کنٹینر بحری جہاز کوضبط کر چُکی اور انڈو۔ پیسسفک میں ایک پابندی زدہ ٹینکر پر چھاپہ مار چُکی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ ‘سینٹ کوم’ نے منگل کوجاری کردہ بیان میں کہا تھاکہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرہ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج 28 کشتیوں کو واپس لوٹنے یا راستہ بدلنے کا حکم دے چُکی ہے۔
اسی دن CNBC کے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ “محاصرہ بے حد کامیاب رہا ہے اورجب تک ایران کے ساتھ حتمی سمجھوتہ نہیں ہوجاتا واشنگٹن ناکہ نہیں اٹھائے گا”۔ خبر کے مطابق مذکورہ تمام کوششوں کے باوجود درجنوں کشتیاں محاصرے سے بچ نکلنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ایران سے منسلک کم از کم 19 اٹینکر خلیج سے نکلنے میں اور 15 براستہ بحیرہ خلیج میں داخلے میں کامیاب ہو چُکے ہیں۔ خلیج سے نکلنے والے کم از کم 6 ٹینکروں پر 10،7 ملین بیرل ایرانی خام پیٹرول لدا ہوا تھا۔
ایرانی تیل کے عام طور پر برنٹ کروڈ کی نسبت سستا فروخت ہونے کی وجہ سے فی بیرل 10 ڈالر کی رعایت کو نگاہ میں رکھا جائے تو ناکہ توڑنے والی کُل ترسیل کی مالیت تقریباً 910 ملین ڈالر بنتی ہے۔
واشنگٹن اور ایران کے درمیان تناؤ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوا۔ جواب میں تہران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں اور اڈوں پر حملے کئے۔ بعد ازاں اسلام آباد نے 11۔12 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی، جو 1979 میں تعلقات منقطع ہونے کے بعد پہلی بلمشافہ بات چیت تھی۔
ایران نے گذشتہ جمعہ کو مختصروقت کے لئے آبنائے ہرمز کو بحری سیروسفر کے لئے کھولا لیکن ٹرمپ کے ایرانی بندرگاہوں کو بند رکھنے کا اعلان کرنے کے بعد ایک ہی دن بعد دوبارہ بند کر دیا ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکوں کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تہران، آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کے باعث کشیدگی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل امریکی انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر دو آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزارنے کی کوشش کی، جہاں وہ سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
بیان کے مطابق بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دونوں آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
ایران نے متاثرہ آئل ٹینکروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم ملاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے جاری ہدایات پر عمل کریں اور بارودی سرنگوں والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔
اس واقعے پر امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
کویت میں پیٹرولیم تنصیب پر ایران کا حملہ، متعدد افراد زخمی، بڑے پیمانے پر نقصان
تہران، ایرانی حملے میں کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
اس حوالے سے جاری کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے خبر دار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران تنازع کو مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر دے گا۔
محسن رضائی نے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب جنگ یا مذاکرات کی پالیسی ختم ہو چکی ہے، 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی حکمتِ عملی تنازع کو خطے میں پھیلنے سے روکنا تھی۔
سینئر فوجی مشیر کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے کویت یا دیگر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنانی صدر جوزف عون امریکہ کے دورے پر روانہ
تہران، لبنان کے صدر جوزف عون اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ روانہ ہوگئے۔
بیروت میں ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لبنانی صدر کی امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ سربراہی اجلاس منعقد ہو گا۔
اجلاس میں امریکی حکام کے ساتھ لبنان کی موجودہ صورتِ حال، جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے ممکنہ اقدامات، بالخصوص جنوبی لبنان میں امن و استحکام کی بحالی، اسرائیل کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور ریاستی عملداری کو لبنان کے تمام علاقوں تک وسعت دینے جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
ہندوستان5 days agoخردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز میں ایران نے 2 اماراتی ٹینکرز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنا دیا، ہندوستانی ہلاک
دنیا2 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے








































































































