تجزیہ
ایران کی جنگ میں سفارتی تعطل: کیا پاکستان ثالثی سے باہر اور ہندوستان بطور برکس صدراس میں شامل ہورہا ہے
تحریر: رمیش بھان
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے موجودہ بحران، بالخصوص ‘آبنائے ہرمز’ کے گرد گھومتی جنگ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے کی پاکستان کی خواہشات بظاہر دم توڑتی نظر آ رہی ہیں، کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگرچہ ایران یا امریکہ و اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے باضابطہ طور پر ثالثوں کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والے کسی بھی مذاکراتی عمل میں شرکت نہیں کرے گا، جس نے پاکستان کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اس سفارتی تعطل کے بعد اب یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا اسلام آباد اس عمل سے باہر ہو چکا ہے اور کیا ہندوستان (بطور برکس صدر) اس میں شامل ہو رہا ہے؟ دونوں جانب سے آنے والے بیانات ایک بڑھتے ہوئے سفارتی فاصلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ممبئی میں ایرانی قونصل خانہ اور وزارتِ خارجہ نے پاکستان کی قیادت میں کسی بھی ثالثی میں شرکت کی تردید کی ہے۔
ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس 15 نکاتی امن منصوبے کو بھی مسترد کر دیا ہے جو اسلام آباد کے ذریعے تہران پہنچایا گیا تھا۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی تجاویز کو “غیر معقول اور غیر حقیقی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے فورمز ان کے اپنے ہیں، ہمارا ان سے تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ابتدائی طور پر “بامعنی مذاکرات” کی میزبانی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، لیکن 2 اپریل کو پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنی کوششوں میں “رکاوٹوں” کا اعتراف کیا۔ وال اسٹریٹ جنرل کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ پاکستان کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب ترکی اور مصر جیسے ممالک دوحہ یا استنبول میں مذاکرات کے لیے ممکنہ مقامات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
کیا بھارت کو آگے آنا چاہیے
اپریل تک، ایک ثالث کے طور پر ہندوستان کے ممکنہ کردار کو عالمی سطح پر بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، لیکن یہ ایک پیچیدہ اور پرخطر سفارتی مسئلہ ہے۔ اگرچہ فن لینڈ کے صدر جیسے رہنماؤں نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو دیکھتے ہوئے اسے جنگ بندی کے لیے بہترین پوزیشن میں قرار دیا ہے، لیکن ہندوستان کا موجودہ رخ ہائی پروفائل ثالثی کے بجائے خاموش سفارت کاری اور متوازن غیر جانبداری پر مرکوز ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوامی سطح پرہندوستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2026 میں برکس کی صدارت کے ناطے دشمنی ختم کروانے میں فعال کردار ادا کرے۔ ہندوستان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ ان چند طاقتوں میں سے ہے جس کے تینوں فریقین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہیں: اسرائیل (دفاع اور ٹیکنالوجی)، ایران (چاہ بہار بندرگاہ) اور امریکہ (بڑا تجارتی شراکت دار)۔ اس کے علاوہ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لہذا معاشی استحکام ہندوستان کا براہ راست قومی مفاد ہے۔
تاہم، ہندوستان کے لیے کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ برکس اس جنگ پر منقسم ہے؛ جہاں روس اور چین کھل کر ایران کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا موقف ایران کے خلاف سخت ہے۔ اس کے علاوہ، صدر ٹرمپ کثیر جہتی طریقہ کار کے بجائے انفرادی سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں توہندوستان کے لیے برکس کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
اگلے ماہ 14 اور 15 مئی کو نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونے والا ہے، جوہندوستان کے لیے ایک سخت آزمائش ہوگی کیونکہ اسے ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں کی میزبانی کرنی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات، بالخصوص ایران پر حملے سے چند دن قبل وزیراعظم مودی کا دورہ تل ابیب، بعض حلقوں میں ہندوستان کی مکمل غیر جانبداری کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہندوستان اس سفارتی رسی پر چل کر کوئی حل نکال پاتا ہے یا نہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا7 days agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
دنیا7 days agoامریکہ کے پاس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoسعودی عرب کے شہر الخرج میں پرنس سلطان ائیر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا




































































































