ہندوستان
دہلی سے بغیر محرم خواتین حج کے لیے مدینہ روانہ
بغیر محرم حج سفر خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک مضبوط علامت : کوثر جہاں
نئی دہلی آج سعودی ایئرلائن کی ساتویں حج پرواز نمبر ایس وی-5909 کے ذریعے 43 بغیر محرم خواتین دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مقدس شہر مدینہ روانہ ہوئیں اس موقع پر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل-3 پر دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں، حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر اشفاق احمد عارفی، ڈپٹی ایگزیکٹو آفیسر محسن علی اور حج کمیٹی کے دیگر عملے نے ان خواتین کا استقبال کیا اور پھولوں کے ساتھ ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے انہیں حج کے سفر پر روانہ کیا۔
اس موقع پر چیئرپرسن کوثر جہاں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی اس قابلِ تعریف پہل سے اب معاشرے کے ہر طبقے کے لیے سہولیات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی اس پہل کے تحت بغیر محرم (بغیر مرد ساتھی) خواتین کا حج پر جانا نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتا ہے بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک اہم مثال بھی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آج دہلی سے حج کے لیے روانہ ہونے والی 43 خواتین میں سے 12 دہلی سے، 21 اتر پردیش سے، 3 بہار سے، 4 جموں و کشمیر سے، 2 مدھیہ پردیش سے اور 2 اتراکھنڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔ 18 اپریل سے شروع ہونے والی حج پروازوں کے سلسلے کی یہ ساتویں پرواز تھی، جس کے تحت اب تک مجموعی طور پر 2721 عازمین حج مدینہ روانہ ہو چکے ہیں۔ اب تک روانہ ہونے والوں میں 1423 مرد اور 1298 خواتین شامل ہیں۔
آئندہ 20 مئی تک سعودی ایئرلائن کی 54 پروازوں کے ذریعے دہلی اسٹیٹ سمیت شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے 21,100 سے زائد عازمین حج مدینہ منورہ اور جدہ کے راستے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ اس سال دہلی امبارکیشن سے حج کے لیے پہلے مرحلے میں 31 پروازوں کے ذریعے 12,240 عازمین مدینہ منورہ جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 23 پروازوں کے ذریعے 8,860 عازمین مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ جب کہ دہلی ریاست کے عازمین حج کی تعداد 3196 ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
ڈیریک او برائن کا بی جے پی اور ایجنسیوں کے ذریعے ممتا بنرجی کو ‘نشانہ بنانے’ کا الزام
نئی دہلی، ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیریک او برائن نے منگل کے روز مرکز اور متعدد اداروں پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سب مل کر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بنا رہے ہیں سوشل میڈیا پر ایک سخت الفاظ میں لکھی گئی پوسٹ میں او برائن نے لکھا، “سب ایک عورت کے خلاف متحد ہو گئے ہیں،” اور انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع، کئی وزرائے اعلیٰ اور مرکزی ایجنسیوں کا نام لیتے ہوئے اسے ایک مربوط کوشش قرار دیا۔
انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے اداروں کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ “سی اے پی ایف کے 2400 پلاٹونوں” کی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ “سب” بنرجی کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ ریمارکس حکمراں آل انڈیا ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں، خاص طور پر انتخابات کے دوران جب قانون نافذ کرنے والے اداروں، مرکزی افواج کی تعیناتی اور آئینی اداروں کا کردار اکثر تنازع کا مرکز بن جاتا ہے۔
بی جے پی ماضی میں اس طرح کے الزامات کو بارہا مسترد کر چکی ہے، اس کا موقف ہے کہ مرکزی ایجنسیاں آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں اور سکیورٹی کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق کی جاتی ہے تاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
خواتین ریزرویشن کے نفاذ کی خواہش مند نہیں مودی حکومت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کے حق میں رہی ہے اور اس کے لیے وہ وقتا فوقتا حکومت پر دباؤ بھی ڈالتی رہی ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت حکمت عملی کے تحت اسے نافذ نہیں کر رہی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ ان کی پارٹی گزشتہ 10 سالوں سے حکومت پر خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے میں بھی اپنی حمایت دی، لیکن مودی حکومت نے جان بوجھ کر اور حکمت عملی کے تحت اسے حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کے عمل سے جوڑ دیا، جس کی وجہ سے اس کے نفاذ میں رکاوٹ آئی۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں اس وقت کی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی خواتین کے ریزرویشن کا بل منظور کرنے کے حوالے سے مودی کو خط لکھا تھا۔ سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی 16 جولائی 2018 کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مودی حکومت نے اس مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی اور پھر حد بندی سے جوڑ کر اسے ٹالنے کی کوشش کی۔
مسٹر رمیش نے کہا، “خواتین کے ریزرویشن کے تعلق سے کانگریس کا موقف اٹل اور غیر تبدیل شدہ رہا ہے۔ راہل گاندھی کے لکھے ہوئے خط کے آٹھ سال بعد بھی، وزیر اعظم حد بندی سے جوڑ کر ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کرنے کے خواہشمند ہیں اور اسی لیے انہوں نے اس مطالبے پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔”
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا
نئی دہلی ، کانگریس نے پیر کے روز مرکز کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک سخت بیان میں رمیش نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور انہوں نے اسے اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت قرار دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کو ہمارے عالم اور ہمیشہ خوش لباس وزیر خارجہ نے ‘دلال’ قرار دیا تھا، وہ مبینہ طور پر آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔
رمیش نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ اس ملک نے حال ہی میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت واضح طور پر مشکل میں ہے اور اس کا انحصار دوست ممالک کی خیرات پر ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا اور اس سلسلے میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سمیت ماضی کے دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے رمیش نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پاکستان پر مستقل بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی مشغولیت کے انداز اور بیانیے کے انتظام نے پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
سابقہ یو پی اے حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔
رمیش نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منیر کے ریمارکس نے خطے میں تناؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کے لیے ایک خاصا سنگین دھچکا ہے۔ رمیش نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے خاندان اور ساتھیوں کے ایکو سسٹم کو ہندوستان کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں، اور انہوں نے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ‘تاریخی ناکامی’ قرار دیا۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی میں مکمل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ موجودہ قیادت مطلوبہ تبدیلی لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ












































































































