تازہ ترین
ترال میں جمعرات کی شام سے جاری جھڑپ ختم

3جنگجوجاں بحق،علاقے میں ہڑتال،انٹرنیٹ سروس معطل
بجبہاڑہ میں سی آر پی ایف پارٹی پر حملہ طرفین کی فائرنگ میں کمسن بچہ اور اہلکار جاں بحق
ترال،بجبہاڑہ: جنوبی کشمیرکے قصبہ ترال میں جمعرات کی شام سے جاری جھڑپ تقریباً15گھنٹے بعد ختم ہوئی ہے،جس دوران 3جنگجوجاں بحق ہوئی جبکہ 3اہلکار بھی زخمی ہوئے۔اس دوران ترال میں مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی متاثرہوئے جبکہ پولیس ضلع اونتی پورہ میں انٹرنیٹ سروس دوسرے روزبھی معطل رہی۔
ادھر بجبہاڑہ میں جنگجوؤں نے سی آر پی ایف پارٹی پرفائرنگ کی جس کے نتیجے میں طرفین کی مابین گولیوں کے تبادلے کے دوران ایک 9سالہ راہ گیراور ایک سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوا۔فورسز نے واقعے کے بعد علاقے کو محاصرے میں لے حملہ آوروں کی تلاش تیز کر دی۔پولیس نے اس حوالے سے کیس درج کر مزید تحقیقات شروع کی۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال کے چیوہ الر ترال میں جمعرات کی شام فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپ جمعہ کے صبح بارہ بجے کے قریب ختم ہوئی ہے جس دوران اس جھڑپ کی جگہ سے پولیس نے3جنگجوؤں کی لاشیں برآمدکیں۔
واضح رہے قصبہ ترال سے تقریباً5کلو میٹر دور چیوہ الر ترال میں جمعرات کو فوج کی42آر آر،سی آر پی ایف180 بٹالین اور ایس او جی ترال نے گاؤں میں جنگجوؤں کی موجود گی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد مشترکہ طور بستی کو محاصرے میں لیا، جس دوران جنگجوؤں نے فرار ہونے کے کوشش کی۔جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ شروع کی ہے جس دوران یہاں موجود اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی اور جنگجوؤں کے فرار کے تمام راستوں کو سیل کر کے مزید کمک طلب کر کے پورے گاؤں کو محاصرے میں لیا۔شام کے7 بجے کے قریب طرفین کے درمیان باضابطہ طور گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا ہے جو پوری رات جاری رہا۔
مقامی لوگوں نے بتایا دو طرفہ فائرنگ اس قدر شدیدتھی کہ پورا ترال لرز اٹھا ہے جبکہ چیوہ اور آس پاس کے نذدیکی گاؤں رات بھر جاگتے رہے اور یہ سلسلہ جمعہ دوپہر 12 بجے تک جاری رہا ہے۔اگر چہ پولیس نے سرکاری طور اس جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے،تاہم مقامی ذرائع نے بتایا تینوں جاں بحق جنگجو مقامی ہیں، جن میں محمد قاسم شاہ ساکن مڈورہ ترال،باسط احمد پرے،ہارث منظور ساکن کوئل شکار گاہ ترال کے طور بتائی گئی ہے۔
جھڑپ غلام محمد وانی کا تین منزلہ مکان مکمل تباہ ہوا ہے جبکہ متعدد کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔اس جھڑپ میں چوٹ لگنے کے نتیجے میں 3اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے تاہم پولیس نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد قسم نے سال2017جبکہ دیگر دو جنگجوؤں رواں سال کے مئی اور جون مہینوں کے دوران جنگجوؤں کے صف میں شامل ہوئے تھے۔پولیس نے جائے واردات سے دو رائفلیں بھی برآمد کی ہیں۔ذرائع نے بتایا اس جھڑپ میں 3فورسز اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا تینوں جنگجوؤں کو سرکاری ضوابط کے تحت شمالی کشمیر میں دفنایا جائیگا۔ فوج کے مطابق سیکورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ کے بعد طرفین کے درمیان مسلح تصادم چھڑ گیا جس میں تین جنگجو مارے گئے۔فوج نے مزید کہا کہ جھڑپ کی جگہ سے اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ جنوبی کشمیر میں رواں ماہ چلایا جانے والا 12واں جنگجو مخالف آپریشن تھا۔ ان بارہ آپریشنز میں اب تک33 جنگجو مارے جاچکے ہیں۔ادھر جنوبی کشمیر کے پادشاہی باغ بجبہاڑہ علاقے میں جمعہ کے روز نا معلوم جنگجوؤں نے یہاں سی آر پی ایف90بٹالین پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک 9سالہ کمسن اور ایک سی آر پی ایف اہلکار مارے گئے۔
پولیس ذرائع نے بتایا جنوبی ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں جمعہ کودوپہر 12 بجے کے قریب جنگجوؤں نے 90بٹالین سے وابستہ سی آر پی ایف اہلکار قصبہ کے پادشاہی باغ علاقے میں تعینات تھے، جس کے دوران اْن پر جنگجووں کی طرف سے گولیاں چلائیں گئیں اور جواب میں فورسز اہلکاروں نے بھی گولیاں چلائیں۔
اس دوران طرفین کے درمیان چلنے والی گولیوں کے نتیجے میں ایک نو سالہ بچہ اور ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں نزدیکی سب ضلع اسپتال پہنچایا گیا جہاں دونوں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ پولیس نے جاں بحق بچے کی شناخت ماچھو کولگام کے رہنے والے نیہان بٹ ولد محمد یاسین بٹ کے طور ہوئی ہے۔ جو واقعے کے وقت علاقے سے گزر رہا تھا۔
بلاک میڈیکل آفیسر بجبہاڑہ نے بتایا کہ ایک سی آر پی ایف اہلکاراور بچے کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔اس واقعہ کے فوراً بعد فورسز کی بھاری جمعیت نے علاقے کو گھیرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کی ہے۔ہمارے نمائندے نے بتایا جب بچے کی نعش آبائی گھر پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ہے۔پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔
دنیا
آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے اور یہ اُس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ ایران کوئی معاہدہ کرنے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایران مشکل دور سے گزر رہا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کا لیڈر کون ہے؟ ایرانی انتہا پسند جنگ کے میدان میں بُری طرح شکست کھا چکے ہیں اور آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران میں اعتدال پسند کسی طور اعتدال پسند نہیں، ایران میں اعتدال پسندوں کی عزت بڑھ رہی ہے اور یہ پاگل پن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے، امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے کوئی جہاز نہ آ سکتا ہے اور نہ جا سکتا ہے، یہ مکمل بند ہے جب تک ایران معاہدہ کرنے کے قابل نہ ہو جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا تھا اور بعد میں کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تین بحری جہازوں پر حملہ کیا تھا جن میں سے دو کو قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا تھا۔ اس نے کارروائی کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں مسلح نقاب پوش اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے کارگو جہاز کے ڈیک پر اترتے اور کنٹرول حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایران کی جانب سے کیے گئے دعووں کے مطابق قبضے میں لیے گئے جہازوں میں سے ایک کی شناخت ایم ایس سی فرانسسکا کے نام سے ہوئی ہے جس پر پاناما کا پرچم لہرایا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ مذکورہ جہاز اسرائیل کی ملکیت ہے جو آبنائے ہرمز سے خلیج عمان کی جانب جا رہا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی بات چیت تعمیری: ہندوستان
نئی دہلی، وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان اور امریکہ نے مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) پر مذاکرات تیز کر دیے ہیں۔ یہ “تعمیری” بات چیت واشنگٹن میں ہو رہی ہے جس کا مقصد ایک متوازن اور مستقبل پر مبنی معاہدہ کرنا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ مذاکرات کا محور باہمی خدشات اور ترجیحات کا حل تلاش کرنا ہے، ساتھ ہی 2030 تک 500 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کی سمت میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان سے ایک ٹیم دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے لیے واشنگٹن گئی ہے۔ یہ مذاکرات تعمیری ہیں۔ دونوں فریق ایک متوازن، باہمی طور پر فائدہ مند اور مستقبل پر مبنی تجارتی معاہدے کی سمت میں کام کر رہے ہیں، جس میں ایک دوسرے کے تحفظات اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، اور 2030 تک 500 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے بھی ایک دن پہلے تصدیق کی تھی کہ ہندوستانی تجارتی وفد اس ہفتے امریکہ میں ہے اور انہوں نے ان مذاکرات کو معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت میں “ایک بڑا قدم” قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔ ہندوستان کے 12 رکنی وفد کی قیادت محکمہ تجارت کے ایڈیشنل سکریٹری اور چیف مذاکرات کار درپن جین کر رہے ہیں۔ اس وفد میں تجارت، کسٹم اور وزارت خارجہ کے حکام بھی شامل ہیں۔یہ بات چیت عالمی ٹیرف ڈھانچے میں تبدیلیوں اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی سے جڑی توانائی کی مارکیٹ کی عدم استحکام کے درمیان ہو رہی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
ٹرمپ کے مبینہ توہین آمیز تبصرے پر مودی کا ردعمل ضروری ہے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مبینہ توہین آمیز بیان کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ کی اس کوشش پر ردعمل دینے کے لیے مسٹر مودی کو وقت نکالنا چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعرات کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ مسٹر مودی کے دوست ‘نمستے ٹرمپ’ نے ہندوستان کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے، لیکن مسٹر مودی نے اب تک اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے والے بیان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس معاملے پر حکومت کے موقف پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ امریکہ کی ترقی میں ہندوستانیوں کا رول اہم رہا ہے، لہٰذا اس معاملے کو امریکی حکومت کے سامنے اعلیٰ سطح پر اٹھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے پاکستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے ڈھانچے، ‘آپریشن سندور’ کے دوران ثالثی کے دعوے، ‘برکس ختم ہو چکا ہے’ جیسے بیانات کے ساتھ ساتھ ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف لگانے جیسے معاملے پر حکومت کا خاموشی اختیار کرنے کا رویہ ملک کے مفاد میں نہیں رہا ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ مسٹر مودی کو اپنے مصروف انتخابی شیڈول کے درمیان 140 کروڑ ہم وطنوں کے اعزاز میں امریکی صدر کے مبینہ توہین آمیز بیان اور دباؤ ڈالنے کی کوشش پر ردعمل دینے کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا7 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر7 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا7 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا7 days agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا7 days agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند










































































































