تازہ ترین
شوپیان اور پانپور میں 30گھنٹوں کے بعد جنگجومخالف آپریشنز ختم

8جنگجو جاں بحق،6ماہ میں 100 عساکرجاں بحق
دونوں علاقوں میں دوسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس معطل،اونتی پورہ میں موبائیل سروس بحال
سرینگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان امام صاحب اور پلوامہ کے میج پانپور علاقوں میں گزشتہ24گھنٹوں سے جاری جنگجووں مخالف آپریشنز اختتام پزیر ہوئے ہیں،جس دوران شوپیان میں 5جبکہ پانپور میں 3جنگجوؤں سمیت8جنگجو جاں بحق ہوگئے۔
اس دوران گزشتہ 6ماہ کے دوران وادی کشمیر میں جاں بحق جنگجوؤں کی تعداد100تک پہنچ گئی۔تلاشی آپریشنوں کے دوران شوپیان میں انٹرنیٹ جبکہ پولیس ضلع اونتی پورہ کے تحت آنے والے علاقوں میں موبائیل کالنگ اور انٹریٹ سروس کو معطل کیا گیا،جہاں بعد میں دونوں سروسز کو بحال کیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان میں جمعرات کے روز بعد دوپہر سے جاری ہونے والی جھڑپ جمعہ کے صبح ساڑے گیارہ بجے قریب اختتام پزیر ہوئی جس دوران5جنگجو اس جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا ضلع شوپیان کے امام صاحب نامی گاؤں میں فوج کے 44RR سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے گاوں کے ایک میوہ باغ میں 4سے پانچ جنگجوؤں کی موجودگی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعدعلاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائیاں شروع کیں،جس دوران یہاں طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا،جس میں جمعرات کی شام ابتدائی فائرنگ کے دوران ایک جنگجوجاں بحق ہوا تھا۔
اس دوران فورسز نے رات دیر گئے تک تلاشی آپریشن جاری رہا،جس دوران یہاں فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔پولیس ذرائع نے بتایا علاقے میں دوران شب علاقے میں جنگجومخالف اس آپریشن کو معطل کیا گیا ہے،جبکہ جمعہ کے صبح سویورے آپریشن کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے جہاں بعد میں جائے جھڑپ سے پولیس نے مزید4جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ اس طرح سے اس جھڑپ میں کل 5جنگجو جاں بحق ہوگئے۔ پولیس نے پانچوں جنگجوؤں کی نعشوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی اور طبی لوازمات پورے کئے ہیں۔
پویس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم غیر سرکاری ذرائع کے مطابق پانچوں جنگجو مقامی ہیں۔ادھر ضلع پلوامہ کے میج پانپور علاقے میں مقامی مسجد شریف میں محصور دونوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا،جن کی نعشیں پولیس نے جمعہ کے صبح برآمد کی۔خیال رہے میج پانپور نامی علاقے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کوفوج کے 50RRسی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجود گی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدعلاقے کو دوران شب محاصرے میں لیا ہے،جس دوران یہاں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان دوران شب گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا ہے، جس میں پہلے روز ہی ایک جنگجو جاں بحق ہوا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا اس واقعے میں فائرنگ کے بعد مزکورہ جاں بحق جنگجوؤں کے دیگر دو ساتھی ز خمی حالت میں فرار ہو کر ایک مسجد میں پناہ لیا ہے۔اس دورا ن فورسز نے مسجد اور گاؤں کو سخت محاصرے میں لے کر پولیس ضلع اونتی پورہ میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ بی ایس این ایل کو چھوڑ کر تمام مواصلاتی کمپنیوں کی کالنگ سروس پر روک لگا دی ہے، جس کو جمعہ روز بعد دوپہر بحال کیا گیا ہے تاہم انٹرنیٹ سروس پر روک جاری تھی،اور یہاں مسجدمیں پناہ لینے والے دونوں جنگجوؤں کو مار اگیا ہے۔
بتایا جاتا ہے اس آپریشن کے دوران فورسز نے گولیوں کے بجائے مرچی گیس کا ستعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں پناہ لینے والے دونوں جنگجووں جاں بحق ہوئے۔اس دوران پولیس نے یہاں جمعہ کے صبح مسجد میں پناہ لینے والے دونوں جنگجوؤں کی لاشین برآمد کر کے محاصرہ ختم کیا گیا ہے۔پولیس نے تینوں لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی اور طبی لوازمات پورے کئے ہیں۔پولیس نے بتایاسبھی جنگجوؤں کو نئے ضوابط کے تحت شمالی کشمیر میں سپر لحدکیا جائے گا۔
دستیاب اعداد شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں رواں سال کے ابتدائی6ماہ کے دوران،مختلف تنظیموں کے 100جنگجوجاں بحق ہوئے ہیں جن میں کئی کمانڈر بھی شامل تھے۔پولیس کے ایک اعلیٰ افسرنے گزشتہ دنوں بتایا کہ جنوبی کشمیر میں تقریباً جنگجوؤں کا صفایا کیا گیا ہے اور اب فورسز کی توجہ شمالی کشمیر پر مرکوز رہے گی۔
دنیا
حوثی گروپ سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی کے بعد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور کر رہا ہے
صنعاء، سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے ایک ہفتے بعد، یمن کا ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ جنوبی بحیرِہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس (ٹیکس) عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اس گروپ نے 20 جولائی کو سعودی عرب پر بحری پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے جاری علاقائی تنازع میں ایک نیا محاذ کھول دیا اور خلیج سے باہر عالمی توانائی کی سپلائی لے جانے والے تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر دیے۔
معاملے سے جڑے ذرائع کے مطابق، حوثی جنوبی بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن سے جوڑنے والے حکمتِ عملی کے حامل آبنائے باب المندب سے گزرنے والے زیادہ تر تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنے کے منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم اس تجویز کو نافذ کرنے کے لیے کسی ٹائم لائن کا انکشاف نہیں ہوا ہے۔
حوثی کے میڈیا آفس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، حوثی حکام اس مہینے کے آغاز میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے وہاں گئے تھے۔ وہاں ایرانی حکام نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر فیس وصول کرنے کے عمل کو عام بنانے کے مقصد سے باب المندب کا استعمال کرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر بات چیت کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
حکومتی اختلافات باہر لانےوالے وزیر یا اہلکار کو برطرف کر دیا جائے گا:رضا عارف
تہران، ایرانی نائب صدر رضا عارف نے کہا ہے کہ حکومتی اختلافات عوام میں لانےوالے وزیر یا اہلکار کو برطرف کر دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں ایرانی نائب صدر نے کہا کہ سرکاری اداروں کے درمیان اختلاف کابینہ اور صدر کی موجودگی میں اٹھائےجائیں تاہم کسی شعبے کو دوسرے کے خلاف کارروائی یا حکومتی میکانزم سے ہٹ کر فیصلےکا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ من مانی کارروائی یا اختلافات میڈیا میں لانے سے معاشرے میں اضطراب پیدا ہوتا ہے ایسا کرنے والوں کےخلاف حکومت فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔
دریں اثناایرانی نائب اسپیکر حمید رضا بابائی نے کہا ہے کہ ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی اسمبلی کے نائب اسپیکر حمید رضا بابائی کا کہنا ہے کہ ہمیں امریکا کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ جب چاہے جنگ شروع کرے اور جب چاہے جنگ بندی کا اعلان کر دے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے سے روکنا چاہیے اور ایران کو امریکی مطالبات کے سامنے مضبوطی سے ڈٹے رہنا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
شاہ کو عہدے سے ہٹانا ہوگا، گولی چلانے کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو جانچ : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دینے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس پورے واقعہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے 25 جولائی کو مسٹر شاہ کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ طالب علموں پر پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا اور احتجاج کے دوران سادہ وردی میں موجود لوگ کون تھے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پیلٹ گن کے استعمال کے ثبوت، تصویریں اور زخمی طالب علموں کے طبی دستاویزات ہیں نیز انہی کی بنیاد پر طالب علموں کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کر رہے طالب علموں پر پولیس نے بربریت کی۔ ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، کئی طالب علموں کے جسم پر پیلٹ کے نشانات ہیں اور ایمس کی طبی رپورٹ میں بھی ایک زخمی طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو کیل لگی لاٹھیوں سے پیٹا گیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور کچھ لوگ سادہ وردی میں بھی کارروائی میں شامل تھے، جن کی شناخت اب تک واضح نہیں کی گئی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے کہا کہ انہوں نے آج پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انہیں بولنے نہیں دیا گیا، جبکہ حکومت کے وزراء کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے معافی مانگنے پر بولنے دینے کی بات کہی گئی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے جڑے کسی بھی شخص سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ اپوزیشن کے رہنما کے طور پر ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ پیلٹ گن جیسی طاقت کے استعمال کی اجازت وزارتِ داخلہ کی سطح پر ہی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف دو ہی امکانات ہیں—یا تو وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیلٹ گن چلانے، لاٹھی چارج اور دیگر طاقت کے استعمال کا حکم دیا، یا پھر انہیں اس کی معلومات ہی نہیں تھی۔ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کا حق نہیں ہے اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گولی چلانے کے احکامات کس نے دیے، اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے تاکہ پورے معاملے کی جوابدہی طے ہو سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالب علموں کے خلاف فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے منظم کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی آواز نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طالب علموں پر ہوئے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بل لے کر آئی ہے۔ یہ “اینٹی پیپر لیک بل نہیں، بلکہ پنشمنٹ بل” ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر شاہ کو عہدے سے ہٹا کر پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ طالب علموں پر گولی اور پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا نیز قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور انہیں انصاف ملنا ہی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان7 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
دنیا7 days agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی





































































































