تازہ ترین
شہر میں 31روز بعد دوسرا بڑا جنگجو مخالف آپریشن،زونی مر سرینگر میں تصادم

3 مقامی جنگجو جاں بحق،شہر میں موبائیل انٹرنیٹ سروس معطل
مارے گئے جنگجوؤں نے خود سپردگی کی پیش کش کو ٹھکرایا،فورسز کیلئے بڑی کارروائی:آئی جی پی
سرینگر: دارالحکومت سرینگر میں محض ایک ماہ میں سیکیورٹی فورسز نے دوسرا بڑاجنگجو مخالف آپریشن عمل میں لایا،جس دوران بانڈاری محلہ زونی مر سرینگر میں جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان ایک خونین معرکہ آرائی میں 3 مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں سے2کا تعلق سرینگر جبکہ ایک کا تعلق جنوبی کشمیر سے بتایا جارہا ہے۔
اس دوران جھڑپ میں ایک رہائشی مکان بھی تباہ ہوا۔ادھر آئی جی کشمیر وجے کمار نے بتایا یہاں محصور جنگجوؤں کو پہلے پولیس نے سرنڈر کرنے کی پیش کش کی،جس کے بعد پولیس نے جنگجوؤں کے والدین کی مددبھی حاصل کی ہے، تاہم انہوں انکی پیش کش کو بھی ٹکرا دیا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سیکیورٹی فورسز کیلئے بڑی کامیابی ہے۔
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/699255823980777/?t=3
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سرینگر پولیس اور سی آر پی ایف نے شہر سرینگر کے بانڈاری محلہ زونی مر صورہ سرینگرعلاقے میں سنیچر اوراتوار کی درمیانی شب کو علاقے میں ایک مکان کے اندر 2سے3جنگجوؤں کی موجود گی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعدعلاقے کودوران شب محاصرے ہی محاصرمیں لیا اور صبح ہوتے ہی، یہاں سے گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا فورسز نے پورے علاقے کو مکمل طور سیل کر کے جنگجوؤں کے سبھی فرار کے راستے مسدود کر رکھ دئے۔ذرائع نے بتایا کہ مقامی لوگوں کی مدد سے پہلے جنگجوؤں کو خود سپردگی کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے بتایا اس دوران فورسز نے جھڑپ سے قبل یہاں محصور جنگجوؤں کے والدین کو بھی بلایا جنہوں جنگجوؤں کو سرنڈر کرنے کے لئے کہا،تاہم انہوں نے پیش کش کو ٹھکرا دیا۔اس دوران مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ کر کے یہاں سے فرار ہونے کی کوشش ہے تاہم یہاں تلاشی پارٹی نے بھی جوابی فائرنگ کی،جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا۔جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی جسدوران فورسز باردوی مواد کا بھی استعمال کیا تاکہ جنگجوؤں کو زیر کیا جاسکے۔
پولیس نے محاصرے سے قبل ہی شہر سرینگر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کر کے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے سیکیورٹی کے سخت ترین بندوبست کئے۔اس دوران فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا،جس دوران کشمیر پولیس زون نے جھڑپ کے دوران 3جنگجوؤں کی ہلاکت کے حوالے سے تین الگ الگ ٹویٹ کئے جس میں تینوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔پولیس نے بعد دوپہر جائے جھڑپ سے 3 جنگجوؤں کی لاشوں کو برآمد کیا، تاہم انہوں نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔
غیرسرکاری ذرائع سے معلوم ہوا کہ تینوں جاں بحق جنگجوؤں مقامی ہیں جن میں سے دو کا تعلق سرینگر اور ایک کا تعلق جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ سے ہے۔ طرفین کے مابین جھڑپ میں ایک رہائشی مکان بھی مکمل طور تباہ ہوا ہے۔ آئی جی پی کشمیر نے اس بات کااشارہ دیا ہے کہ جاں بحق جنگجو مقامی تھے،کیونکہ جھڑپ سے قبل جنگجوؤں کے والدین کو بھی یہاں لایا گیا تھا۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس(آئی جی پی) کشمیروجے کمار نے فورسز کو کامیابی پر مبارک باد ی دیتے ہوئے بتایاکہ محاصرے میں آئے جنگجوؤں کو سرنڈر کرنے کی پیش کش کی گئی تھی حتیٰ کہ ان کے والدین کو بھی یہاں بلایا گیا،جنہوں نے اپنے بچوں کو فورسز کے سامنے سرنڈر کرنے کرنے کے لئے کہا۔ تاہم جنگجوؤں نے پیش کش کو ٹھکرادی اور فائرنگ شروع کی ہے، اس طرح سے اس جھڑپ میں میں تین جنگجو جا ں بحق ہوئے۔
خیال رہے گزشتہ تین روز کے دوران جنوبی کشمیر کے پانپور،شوپیان کولگام اور سرینگر میں 12جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں۔پولیس نے حالیہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ جنوبی کشمیر میں جنگجوؤں کا مکمل طور صفایا ہوا ہے اور اب توجہ شمالی کشمیر پرمرکزور رہے گئی۔
یہاں رواں سال کے6ماہ کیں اب 106جنگجوؤں جاں بحق ہوئے ہیں۔سرینگر میں 19مئی کو نواکدل علاقے میں اسی طرح کا ایک جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لایا تھا،جس میں حریت لیڈر محمد اشرف صحرائی کے فرزند جنید صحرائی اپنے ایک ساتھی کیساتھ جاں بحق ہوا تھا۔زونی مر کا جنگجو مخالف آپریشن سرینگر میں دوسرا کامیاب ترین آپریشن ہے۔
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل7 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا7 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی






































































































