تازہ ترین
منشیات اور رشوت خوری سماجی اخلاقیات کیلئے تباہ کن: سول سوسائیٹی

وادی میں شراب کی دکانیں نہیں کھلنی چاہئے
سرینگر: جموں کشمیر سول سوسائیٹی فورم نے جموں کشمیر میں تقریباً 187مقامات پر جن میں وادی میں 67مقامات پر شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت دینے پر اسے کشمیری سماج کے لیے سم قاتل قرار دیا ہے۔
فورم نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے اور یہاں کے تمام مذاہب کے لوگ شراب نوشی کے خلاف ہیں۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم نے بتایایہاں پہلے ہی منشیات نے نوجوانوں کو بے چین کر دیا ہے، اب باقی کسر حکومت شراب سے پورا کرنا چاہتی ہے۔فورم نے عوام خاصکر نوجوانوں میں منشیات کی جانب بڑھتے ہوئے رحجان اور پروان چڑھتی رشوت خوری پر زبردت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حال ہی میں قائم شدہ فورم کے چیرمین عبدلالقیوم وانی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے تمام تعلق داروں سے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں نزاکت کو سمجھیں جب ایک طرف کووڈ ہے تو دوسری جانب کشمیر کے پہلے سے نازک حالات نے نوجوان کے لیے خوشی سے جینے کمانے کے راستے مسدود کردیے ہیں۔ نتیجتاً وہ منشیات کے راستے پر چلنے کے لیے مجبور و محصور ہوکررہ گیا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ کوئی نجی کاروبار بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اسکے لیے رشوت ستانی عروج پر ہے اور وہ در درکی ٹھوکریں کھاکر تنگ آچکا ہے۔
سابق معروف ملازم رہنما اور جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیرمین عبدل القیوم وانی نے سماج کے تمام طبقوں اور غیرسرکاری اداروں کے تعلق داروں اور انجمنوں کو آگے آنے کی دعوت دیدی ہے تاکہ نوجوان نسل کی صحیح تربیت کی جایے۔ انہوں نے کہا کہ حالات اسقدر خراب ہیں کہ ہر سب ڈیویڑن میں ایک ڈرگ ڈی ایڈکشن اور مشاورتی مرکز کاہونا ناگزیر ہے۔ واضح رہے وانی نے والدین، مساجد کمیٹیوں کے ممبران اور معزز شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات، سماجی بدعات اور بلخصوص رشوت خوری کے خلاف میدان میں آکر عملی اقدامات کریں۔
وانی نے ریاست کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ جموں کشمیر سول سوسائٹی کے رہنما، کارگزار ارکان اور انکے چاہنے والے منشیات اور رشوت جیسی بدعنوانیوں کے خلاف عملی اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وعظ و تبلیغ کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
فورم کی جانب سے بیان میں وانی نے کہا کہ جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم عنقریب تمام تعلق داروں سے مشاورت شروع کرکے اپنا کام شروع کرے گا تاکہ جموں کشمیر کو سماجی بیماری اور تھکاوٹ سے نجات دلایا جاسکے۔
واضح رہے موصول شدہ بیان میں قیوم وانی نے حکومت کے اس حکم نامے کو قابل مذمت ٹھہرایا ہے جسمیں حکومت نے شراب کی فروخت کے لئے 67 جگہوں کا انتخاب کرنے کو کہا ہے۔ وانی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر زمینی سطح پر اس قسم کی حرکت دیکھنے کو ملی تو سول سوسائٹی اسکی شدید مخالفت کرے گی اور شراب کے فروخت سے متعلق حکم نامے کو کسی بھی صورت میں عملانے نہیں دے گی۔ وانی کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ کشمیری عوام کے لئے بلعموم اور آنے والی نسلوں کے لئے بلخصوص ایک آفت بن کر آئے گا۔ وانی نے اس حکمنامے کے حوالے سے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
وانی کے مطابق سرینگر کے سونوار علاقے میں شراب کی واحد دکان تھی جسکے چلنے پر پوری کشمیری قوم سراپا احتجاج تھی۔ اب جب کہ یہی شراب 67جگہوں پر بیچی جائے گی تو حکومت کو خود اندازہ کرنا ہوگا کہ اسکے کتنے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ واضح رہے کل بعد دوپہر جب سرکار کی جانب سے شراب کے حوالے سے یہ حکمنامہ صادر کیا گیا، فورم کے چیرمین عبدالقیوم وانی نے اسی وقت سول سوسائٹی کا اہم اجلاس طلب کیا اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سارے ارکان سے مخاطب ہوئے۔
سبھی ممبران نے سول سوسائٹی کے ذریعے شراب، رشوت خوری اور سماجی بدعات کے قلع قمع کرنے پر زور دیا۔ اجلاس میں شامل فورم کے ارکان فاروق احمد ترالی،نصرت احمد بیگ، مختار احمد تانترے، ڈاکٹر غلام نبی لون، حاجی فاروق احمد لون، سید دلبر حسین،انجینیئر اقبال شاہ، غلام محی الدین میر، محمد اکبر میر، پشپندر سنگھ، منظور احمد بٹ، محمد شفیع کمبے، شعیب کرمانی، عبدالقیوم لون، ایڈوکیٹ صفیر احمد ریشی، ایڈوکیٹ ثاکب نبی وانی، ایڈوکیٹ اویس احمد بٹ، ہلال احمد پرے،ماسٹر غلام قادر،اسد اللہ میر، حاجی غلام احمد، ماسٹر محمد اشرف، محترمہ آمنہ جی، محمد اشرف لون،حاجی گلشن احمد وانی، پیرعبدالحمید، حاجی محمد اشرف وانی، محمد مقبول بٹ، عبدالاحد خان، غلام محی الدین میر،ندیم حیدر، عبدالرشید بٹ،پیر عبدالرشید،شبیر احمد قادری،محمد حسین ملک،واصف نور،عبدالقیوم لون، محمد اشرف گنائی نے شراب، رشوت اور سماجی بدعات کے خاتمے پر زور دیا اور اس بات کا عہد کیا کہ فورم سماج کو شراب جیسی برائی سے بچانے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔
دنیا
اسلامک ریپبلک کی منظوری کے بغیر ہرمز سے کوئی بھی جہاز نہیں گزرے گا: ایرانی فوج کے سربراہ
تہران، ایرانی فوج کے سربراہ حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے اور ملک کی فوج کی اجازت کے بغیر وہاں سے کوئی بھی سمندری نقل و حرکت ممکن نہیں ہے۔
مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مسٹر سیاری نے بدھ کے روز کہا کہ ایرانی فوج اور اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز میں کوئی بھی سرگرمی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی زمینی، سمندری اور فضائی سرحدوں پر سکیورٹی مستحکم ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 18 جون کو ایران اور امریکہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت 28 فروری سے شروع ہونے والے تصادم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، 8 جولائی کے بعد سے امریکی فوج نے ایران پر متعدد بار حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف ایران کی کارروائی کے جواب میں کیے گئے تھے۔
ایرانی فوج نے مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں پر حملے کر کے اس کا جواب دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اسلامک جمہوریہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اب قابل عمل نہیں رہی۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
امریکی۔سعودی حملوں کے بعد عراق جامع دفاعی منصوبہ تیار کرے گا
بغداد عراق کی قومی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکی اور سعودی حملوں کے بعد ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع دفاعی اور سکیورٹی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
بدھ کو ہنگامی اجلاس کے بعد جاری بیان میں قومی سلامتی سے متعلق وزارتی کونسل نے کہا کہ ملک بھر میں حکومتی کنٹرول مزید مضبوط کرنے، عراق کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر جواب دینے اور کسی بھی فریق کو عراقی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ایک جامع سکیورٹی منصوبہ نافذ کیا جائے گا۔
حملے کے جواب میں کونسل نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق کارروائی کرے، اس واقعے کو دستاویزی شکل دے اور عراق کے جائز حقوق کا دفاع کرے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس نوعیت کے حملوں سے نمٹنا اور ان کا جواب دینا صرف عراقی حکومت اور ملک کے آئینی سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے منگل کی شب دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اور سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے مشرقی عراق میں “ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں” کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران امریکی فوجی اڈوں اور سعودی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب پاپولر موبلائزیشن فورسز نے کہا ہے کہ اس کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
امریکی فوجیوں پر حملے کی کوشش کے بعد امریکہ کے ایران پر شدید فضائی حملے
ماسکو، امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فوجی کمان مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی مراکز اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ مغربی ایشیا میں تعینات امریکی فوجیوں اور جنگی جہازوں پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
سینٹ کام نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی مغربی ایشیا میں تعینات امریکی افواج پر منگل کے روز کیے گئے مبینہ میزائل حملے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔
بیان کے مطابق امریکی فوج نے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے، جن میں فوجی کمان مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور دفاعی مراکز، نیز بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف شامل تھے۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد “ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی افواج، تجارتی بحری جہازوں اور خلیجی ہمسایہ ممالک کو لاحق خطرات کو کم کرنا” تھا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان7 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
دنیا1 week ago‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی




































































































