تازہ ترین
کشمیر: امسال زعفران کی پیدا وار میں 30 فیصد کا اضافہ

سری نگر،31 اکتوبر (یو این آئی) ساز گار موسمی حالات اور بر وقت بارشوں کے باعث امسال وادی کشمیر میں زعفران کی فصل کی پیدا وار میں 30 فیصد اضافہ درج ہوا ہے جو اس سے جڑے کسانوں کے لئے انتہائی حوصلہ افزا بات ہے یہ دعویٰ زعفران ایسوسی ایشن کشمیر کے چیئر مین عبدالمجید وانی کا ہے۔
جنوبی کشمیر کے قصبہ پانپور، جو زعفران کی پیدا وار کے لئے مشہور ہے، اور ملحقہ علاقوں کے زعفران کھیتوں میں ان دنوں زعفران اٹھانے کا کام شد و مد سے جاری ہے جہاں مرد و زن کو اس کام میں مصروف دیکھا جا رہا ہے۔
موصوف چیئرمین نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ سال گذشتہ کے مقابلے میں امسال زعفران کی پیدا وار میں تیس فیصد اضافہ درج ہوا ہے۔
انہوں نے کہا: ’اس فصل کی پیداوار میں اضافے کی وجہ ساز گار موسمی حالات اور بر وقت بارشیں ہیں جو اس سے وابستہ کسانوں کے لئے انتہائی حوصلہ افزا بات ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ ان دنوں یہ فصل اٹھانے کا کام شد و مد سے جاری ہے اسی بیچ قومی و بین الاقوامی سطح کے خریداروں کی طرف سے زعفران کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مسٹر وانی نے کہا کہ کشمیر سفرون پارک کشمیر میں امسال ایک قسم کے زعفران کی ریٹ 185 روپیہ فی گرام جبکہ دوسرے قسم کے زعفران کی ریٹ 240 روپیہ فی گرام طے پائی ہے۔
انہوں نے کہا: ’مارکیٹ میں زعفران کی ریٹ کم ہونے کے باعث کسان پہلے انتہائی مایوس تھے لیکن کشمیر سفرون پارک کے وجود میں آنے سے کسانوں کی یہ مایوسی بھی دور ہوئی ہے جو یہ اب زعفران کی اچھی ریٹ طے کرتی ہے‘۔

کشمیر: امسال زعفران کی پیدا وار میں 30 فیصد کا اضافہ
ان کا کہنا تھا: ’دنیا سے کشمیر کے زعفران کی مانگ میں کافی اضافہ دیکھا جا رہا ہے چونکہ اب کشمیر کے زعفران کا ایک مخصوص جغرافیائی نشانی (جی آئی) ٹیگ لگا ہے‘۔
موصوف چیئرمین نے کہا کہ خریداروں کی طرف سے جو بڑے آرڈر مل رہے ہیں ان کا پورا کرنا محال لگ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال گذشتہ دوبئی کے گروپ ’لولو’ نے 30 کلو گرام زعفران کا آرڈر دیا تھا لیکن امسال ان کا آرڈر کافی بڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سفرون پارک میں پہلے ہی تیس سے چالیس بڑے پیمانے کے قومی و بین الاقوامی خریدار درج ہوئے ہیں۔
عبد المجید کا کہنا ہے کہ یہ سب خریدار امسال کافی بڑے آرڈر دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹاٹا گروپ نے 150 کلو گرام زعفران کا آرڈر دیا ہوا ہے جس کا ایک ہی وقت میں پورا کرنا از بس محال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹاٹا گروپ کے ساتھ میٹنگ ہو رہی ہے ہم امسال غالباً انہیں 60 کلو زعفران دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سال گذشتہ سویزر لینڈ کی ایک کمپنی نے کشمیر سفرون پارک سے زعفران خریدا تھا اور اس سال اس کمپنی نے ایک بہت ہی بڑا آرڈر دیا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سال گذشتہ کے مقابلے میں زعفران بیچنے والوں کی تعداد میں امسال اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی بڑی تعداد ایسے لوگ کشمیر سفرون پارک کے ساتھ منسلک نہیں ہیں۔
موصوف نے کہا کہ کشمیر زعفران ایسو سی ایشن نے امسال فیصلہ لیا ہے کہ اگر کسی کسان کو پیشگی رقم کی ضرورت پڑے گی تو اس کو وہ اسی وقت فارمر پرودیوسر آرگنائزیشن کی طرف سے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو ہم سے 240 روپیے فی گرام زعفران خریدتے ہیں ہو اس کو بازار میں پانچ سے چھ سو روپیے میں فروخت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی جی ٹیگ سے کشمیر زعفران دنیا بھر میں مشہور ہوگیا ہے اور اس کا مارکیٹ مزید وسیع ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا: ’پہلے ایرانی زعفران کو بھی کشمیری زعفران کے نام پر بیچا جاتا تھا لیکن اب وہ ممکن نہیں ہے‘۔

کشمیر: امسال زعفران کی پیدا وار میں 30 فیصد کا اضافہ
مجید وانی نے کہا کہ قصبہ پانپور میں قریب تیس ہزار کنبے زعفران فصل کی کاشت کاری سے جڑے ہوئے ہیں اور اس قصبے کا زعفران دنیا بھر میں اپنی بہترین کوالٹی اور ذائقے کے لئے مشہور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی مٹی زعفران فصل کے لئے انتہائی زرخیز ہے اور اب آہستہ آہستہ مزید علاقے اس کے مالی فوائد کو ملحوظ رکھ کر اس فصل کی کاشت کاری کو اپنا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بھی ہرسفرون مشن اسکیم کے تحت ہر کسان کو بیس ہزار روپیے دئے تاکہ وہ اس فصل کی کاشت کر سکے۔
موصوف چیئرمین نے کہا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ آبپاشی سہولیت فراہم کرنے کے کام کو مکمل کرے جس کو ادھورا ہی چھوڑا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بات لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی نوٹس میں بھی لائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امسال موسم سازگار رہا تو فصل بھی اچھی رہی لیکن اگلے سال موسم پر کوئی بھروسہ نہیں ہے لہذا آبپاشی کی سہولیت اگر ہوگی تو کسانوں کو مشکلات سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا۔
مسٹر وانی نے کہا کہ حکومت مزید پچاس کنال اراضی پر زعفران کی نرسری لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فصل کو جانوروں کی طرف سے نقصان پہنچنے کے خطرات لاحق رہتے ہیں جس کے لئے کئی کسانوں نے اپنے کھیتوں کی فنسنگ کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسان فینسنگ اپنے ذاتی خرچے پر لگا رہے ہیں۔
دنیا
جنگ کے بعد سے ایران میں ادویات کی شدید قلت
تہران، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے ایرانی دواخانوں (فارمیسیوں) میں ادویات کی شدید کمی ہوگئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، 28 فروری سے اب تک امریکہ اور اسرائیل نے ملک کے مختلف صوبوں میں تقریباً 25 فارماسیوٹیکل مراکز پر حملے کیے ہیں۔ نشانہ بنائے گئے مراکز کی فہرست میں بڑے اور تزویراتی طور پر اہم ادارے شامل ہیں، جن میں کینسر، امراضِ قلب، اینستھیزیا اور ملٹیپل اسکلیروسس کی دوائیں بنانے والے مراکز کے ساتھ ساتھ تہران میں واقع ‘پاسچر انسٹی ٹیوٹ’ بھی شامل ہے۔
تہران کے ولی عصر اسکوائر کے پاس ایک فارمیسی میں کام کرنے والے ڈاکٹر پیزمان نعیم نے ’’اسپوتنک‘‘ کو بتایا کہ ’’ذیابیطیس اور امراضِ قلب جیسی کچھ ادویات مارکیٹ میں انتہائی نایاب ہوگئی ہیں۔ جنگ کے دوران بھی ان کی سپلائی بہت کم تھی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔‘‘
ڈاکٹر نعیم نے ذکر کیا کہ چیلنجوں کے باوجود صورتحال قابو میں ہے۔ ایرانی حکام نے ایک ہیلپ لائن قائم کی ہے جس کے ذریعے شہری یہ جان سکتے ہیں کہ کون سی دوائیں اسٹاک میں نہیں ہیں اور وہ کن فارمیسیوں میں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
فارماسسٹوں نے مریضوں کو ادویات فراہم کرنے کے لیے خود ایک نیٹ ورک تیار کیا ہے۔ ایرانی حکومت ادویات کے شعبے کو امداد فراہم کر رہی ہے، لیکن پابندیوں کی وجہ سے کچھ مخصوص غیر ملکی دوائیں مارکیٹ میں بہت کم ملتی ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق، ان ادویات کی تیاری کے لیے ضروری کچھ خام مال کے حصول میں بھی مسائل آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جنگ کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس سے فارمیسیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ادویات کی فروخت گر گئی ہے اور آسمان چھوتی قیمتوں نے عام شہریوں کے لیے ضروری دوائیں خریدنا ناممکن بنا دیا ہے۔”
ڈاکٹر نعیم نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے دوران یا جنگ کے بعد ادویات کی فروخت میں بہتری آئے گی اور وہ عوام کے لیے آسانی سے دستیاب ہوں گی۔ ایرانی حکام نے ادویات سازی کے پلانٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بار بار ‘جنگی جرائم’ قرار دیا ہے۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا
انڈونیشیا میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں سات افراد ہلاک
جکارتہ، انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے مشرق میں واقع شہر بیکاسی میں پیر کی رات دو ٹرینوں کی ٹکر میں کم ازکم سات افراد ہلاک اور 81 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
ایک خبر رساں ادارے نے ریلوے کے ایک اہلکار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر تلاشی اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔
ٹرین کا تصادم پیر کو دیر گئے بیکاسی تیمور اسٹیشن پر ہوا، جب ایک کمیوٹر ٹرین اور ایک لمبی دوری والی ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔ لمبی دوری کی ٹرین نے دوسری ٹرین کے پچھلے ڈبے کو ٹکر ماردی، جو خواتین کے لیے ریزرو تھا۔
یواین آئی/ اسپوتنک۔الف الف
دنیا
عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی
ماسکو، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی نیز یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
مسٹر عراقچی نے پیر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں مسٹر پوتن سے یہ ملاقات کی۔
انہوں نے ایکس پر کہا کہ “خطے میں بڑے اتار چڑھاؤ کے درمیان روس کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت کرنا خوشی کی بات ہے۔ حالیہ واقعات نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اور مضبوطی کو ظاہر کیا ہے۔ جیسے جیسے ہمارے تعلقات بڑھ رہے ہیں، ہم یکجہتی کے لیے شکر گزار ہیں اور سفارت کاری کے لیے روس کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں”۔
انہوں نے مسٹر پوتن اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ اپنی تصاویر بھی شیئر کیں۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا7 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا7 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا4 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط








































































































