پاکستان
کورونا: لاک ڈاؤن نرم کرنے پر عالمی ادارہ صحت کی پاکستان کو وارننگ

لاک ڈاؤن نرم کرنے پر عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو خبردار کردیا اور کہا ہے کہ پاکستان لاک ڈاؤن نرم کرنے کی 6 میں سے کسی ایک شرط پر بھی پورا نہیں اترتا۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اموات پرخطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ اور کم ازکم 2 ہفتے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے وزیر صحت پنجاب کے نام خط لکھا جس میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کورونا کے حوالے سے ضابطہ کار (ایس او پیز) پر سختی سے عمل نہيں ہو رہا۔
پنجاب حکومت کو لکھے گئے خط میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ ہونے چاہئیں اور کم از کم 2 ہفتے کا مکمل لاک ڈاؤن وقت کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونامریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھنا خطرے کی بات ہے،لاک ڈاؤن کے دوران ہی روزانہ ایک ہزار کیسز رپورٹ ہورہے تھے،لاک ڈاؤن ختم ہونے کےبعد روازنہ مریضوں کی تعداد 4 ہزار سے اوپر ہوگئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے پنجاب حکومت کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ پاکستان کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے ، ہاٹ اسپاٹ کو جلد از جلد لاک ڈاؤن میں لانا ہوگا، صحت کا نظام بہتر کرنا ہوگا۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 24 فیصد ہے جو بہت زیادہ ہے ، لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے اٹھانے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی عمل نہیں کیا گيا ، ایس او پيز پر عمل کے لیے شعور اور آگاہی پھیلائی جائے ۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کے مجموعی مریضوں کے 33.7 فیصد صرف کراچی میں رپورٹ ہوئے۔
عالمی ادارہ صحت نے پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کو خط میں تجویز کیا ہےکہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دو ہفتے کا لاک ڈاؤن اور دو ہفتے نرمی کی پالیسی اپنائی جائے، ٹیسٹنگ کی صلاحیت روزانہ 50 ہزار تک لے جائی جائے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں کورونا کے کل مریضوں کا 33.7 فیصد کراچی ، 18.5 لاہور ، 5.3 پشاور ، اور پانچ اعشاریہ دو فیصد مریض کوئٹہ میں ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق حکومت نے یکم مئی کو لاک ڈاؤن میں جزوی نرمی کی، 22 مئی کو لاک ڈاؤن میں مکمل نرمی کی گئی جو کرونا کے پھیلاؤ کا باعث بنا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق لاک ڈاؤن نرم کرنے سے پہلے چھ بنیادی چيزوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے، جہاں لاک ڈاؤن نرم کریں وہاں وبا پھیلنے کی رفتار قابو میں ہو، صحت کا نظام بوجھ اٹھانے کے قابل ہو، جو ہاٹ اسپاٹ ہوں ، وہاں صورتحال کنٹرول میں ہوا، اسکولوں ، دفاتر اور دیگر جگہوں پر حفاظتی انتظامات مناسب ہوں، باہر سے آنے والے نئے کیسز کو ڈیل کیا جاسکے اور ایس او پیز پر عمل کے لیے عوام میں آگاہی اور شعور پھیلا جائے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان نے لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے ان چھ میں سے ایک بھی اقدام پر مکمل عمل نہیں کیا، لاک ڈاؤن کھولنے سے پہلے جو اقدامات کرنے تھے پاکستان نے ایک بھی مناسب طورپر نہیں کیا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق مشتبہ مریضوں کو ڈھونڈنا ، ٹیسٹ کرنا ، آئسولیٹ کرنا اور انہیں قرنطینہ کرنا اور ان کے رابطوں میں آنے والوں کو ڈھونڈنے کا نظام پاکستان میں بہت کمزور ہے، وینٹی لیٹرز کی تعداد بھی انتہائی کم ہے، پاکستان کی آبادی اپنا طرز زندگی بدلنے پر آمادہ نظر نہيں آتی جیسا کہ سماجی فاصلہ، ہاتھ دھونا اور احتیاطی تدابیر۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 10 ملکوں میں شامل ہے جن میں نئے کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے، پاکستان کو اپنی ٹیسٹنگ صلاحیت کو 50 ہزار یومیہ تک بڑھانا نہایت ضروری ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 2 ہزار 189 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پنجاب میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور 773 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں جس کے باعث اسپتالوں میں بیڈز، وینٹی لیٹرز اور کٹس کی قلت کا سامنا ہے۔
لاہور میں اسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے محکمہ صحت کو خط بھیجا گیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں انتہائی کم تعداد میں کورونا کٹس فراہم کی جارہی ہیں۔(جیو نیوز)
پاکستان
ابراہم معاہدہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ پاکستان کیلئے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
نجی نیوز چینل ’’سما‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات کے خلاف ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت نہ ہم نے کوئی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی کسی نے باضابطہ طور پر ہمیں اس معاہدے میں شامل ہونے کیلئے کہا ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں، اس لیے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ممکن نہیں جن پر ’’ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’’ہمارا واضح مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں، اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام تک شامل نہیں ہے۔‘‘
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو تیز کرنے کیلئے پاکستان نے کوششیں تیز کردیں
اسلام آبادم، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو تیز کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
چھ ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کے باوجود جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت محدود رہی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی معیشت پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے “درست جوابات” حاصل کرنے کے لیے چند دن انتظار کرسکتے ہیں، تاہم وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی ختم کر کے دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر دہرایا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ نئے حملے ایک علاقائی جنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔
ایرانی حکومت نے امریکہ کو اپنی تازہ پیشکش پیش کی ہے، جس میں پابندیاں ہٹانے، منجمد اثاثے آزاد کرنے، امریکی فوجیوں کے انخلا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول جیسے مطالبات شامل ہیں۔
دریں اثنا ثالثی کوششوں کے سلسلے میں، پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کےدورہ تہران کی توقع ہے۔ مزید برآں، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر بات چیت کے لیے چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ بیجنگ حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تنازعات کے باعث عالمی توانائی ترسیل کا اہم مرکز آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔ ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے میں “کنٹرول شدہ بحری علاقہ” قائم کر دیا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق چین اور جنوبی کوریا کے کچھ آئل ٹینکر ایران کے تعاون سے آبنائے سے گزر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
راولپنڈی، پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فتح 4 جدید ترین نیویگیشنل معاون نظام سے لیس ہے اور طویل فاصلے تک انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ میزائل تجربے کا مشاہدہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سینئر افسران نے کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان نے فتح 4 کے کامیاب تجربے کو سراہا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فتح 4 میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی مقامی دفاعی صلاحیتوں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی







































































































