ہندوستان
گیانواپی کے جنوبی تہہ خانے میں پوجا شروع ہوئی

وارانسی، اترپردیش کے وارانسی کی ضلعی عدالت کے حکم کے بعد گیان واپی کمپلیکس کے جنوبی تہہ خانے کے اندر پجاریوں اور عقیدت مندوں کی موجودگی میں دیوتاؤں کی پوجا بدھ کی رات سے شروع ہوئی اور جمعرات کی صبح خصوصی پوجا منگلا آرتی بھی کی گئی۔
ضلع مجسٹریٹ ایس راجلنگم نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سری کاشی وشوناتھ ٹیمپل ٹرسٹ بورڈ کے ذریعہ مقرر کردہ پجاریوں کے ذریعہ گیانواپی کمپلیکس کے جنوبی تہہ خانے کے اندر پوجا کو یقینی بناتے ہوئے عدالتی حکم کی تعمیل کی گئی ہے۔
دریں اثنا، ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ گیانواپی کمپلیکس کے جنوبی تہہ خانے کے اندر پوجا کی اجازت دینے کے ضلعی عدالت کے حکم کے پیش نظر مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے بدھ کے روز گیانواپی کمپلیکس کے جنوبی جانب واقع تہہ خانے کے اندر مورتیوں اور راگ بھوگ کی پوجا کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ضلع جج اجے کرشنا وشویشا کی عدالت نے شیلیندر کمار پاٹھک بمقابلہ انجمن انتظام کمیٹی اور دیگر کے معاملے کی سماعت کے بعد حکم میں کہا تھا کہ ضلع مجسٹریٹ وارانسی اور وصول کنندہ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ جنوبی جانب کی زمین کا پلاٹ نمبر 9130 کی عمارت کو اپنی تحویل میں لیں اور تہہ خانے میں واقع مورتیوں کی پوجا اور نامزد پجاریوں کے ذریعہ کیا جانے والا راگ بھوگ جو کہ سوٹ پراپرٹی ہے اور اس کے لیے سات دنوں کے اندر لوہے کی باڑ وغیرہ کا مناسب انتظام کریں۔
عدالت نے کہا تھا کہ تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وصول کنندہ اور ضلع مجسٹریٹ وارانسی کو ہدایت دی جائے کہ وہ جنوب کی جانب تہہ خانے میں مورتیوں اور راگ بھوگ کی پوجا کے انتظامات کریں۔ مدعی اور کاشی وشوناتھ ٹیمپل ٹرسٹ کے ذریعہ نامزد پجاری کے ذریعہ عمارت کی تعمیر جس کے لئے سات دنوں کے اندر لوہے کی باڑ کا مناسب انتظام کیا جانا چاہئے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
پیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
نئی دہلی، یوتھ کانگریس نے ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کے تحت دہلی میں پیپر لیک احتجاجی مظاہرے کے دوران زخمی، پھنسے ہوئے یا کسی بھی طرح کی مدد کی ضرورت والے طلبہ کے لیے امدادی مہم شروع کی ہے انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب نے کہا کہ دہلی میں موجود ایسے طلبہ جنہیں رہنے کی جگہ، کھانا، طبی امداد یا قانونی مدد کی ضرورت ہے، وہ ہیلپ لائن نمبر 8826970690، 9211452848 اور 9827048238 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی مدد مانگ سکتے ہیں۔ مسٹر چب نے کہا، “پیپر لیک کے خلاف اپنی آواز اٹھانے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال جمہوریت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یوتھ کانگریس دہلی میں کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا کر رہے یا مدد کی ضرورت والے ہر ایک طالب علم کے ساتھ کھڑی ہے۔ چاہے رہنے کا انتظام ہو، کھانا، میڈیکل امداد یا قانونی مدد، انڈین یوتھ کانگریس ہر ممکن تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔ کوئی بھی طالب علم بغیر کسی جھجھک کے ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ تنظیم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران کسی بھی طالب علم کو اکیلا نہ چھوڑا جائے اور ضرورت پڑنے پر اسے فوری امداد فراہم کرائی جائے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو سماجی کارکن سونم وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی عدالت نے تبصرہ کیا کہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ان کی جاری بھوک ہڑتال کی وجہ سے انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی بنچ نے مسٹر وانگچک کی اہلیہ ڈاکٹر گیتانجلی انگمو کی طرف سے دائر ایک اپیل پر سماعت کرتے ہوئے یہ اجازت فراہم کی۔
ڈاکٹر انگمو نے سنگل بنچ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں انہیں نجی اسپتال میں منتقل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ مسٹر وانگچک کے میڈیکل ریکارڈ کے جائزے اور ایمس ، صفدر جنگ اسپتال اور ان کی نجی میڈیکل ٹیم کے ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد، دہلی ہائی کورٹ نے متفقہ طور پر پایا کہ انہیں اسپتال میں مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے اور کہا کہ انہیں ان کی پسند کے اسپتال ‘میدانتا’ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی سرکار اور دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تُشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل چیتن شرما نے عدالت کو مطلع کیا کہ سرکار کو مسٹر وانگچک کو میدانتا منتقل کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بنچ نے کہا، “ہم انہیں علاج کے لیے میدانتا منتقل کرنے کی تجویز رکھتے ہیں، اور صفدر جنگ اسپتال کے تمام میڈیکل ریکارڈ اور رپورٹیں میدانتا اسپتال کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔” اس کے ساتھ ہی بنچ نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک باضابطہ حکم جاری کیا جائے گا۔
یہ تبصرہ مسٹر وانگچک کی طرف سے پیش سینئر ایڈوکیٹ اکھل سبل کے ذریعے ان کے پرانے ڈاکٹروں کی رپورٹ کی بنیاد پر دی گئی دلیلوں کے بعد آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی زندگی کو کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔ مرکزی سرکار نے اس منتقلی پر کوئی اعتراض نہیں جتایا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام میڈیکل ریکارڈ میدانتا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔ اگرچہ مسٹر وانگچک کے وکیل نے دلیل دی کہ ان کی حالت ایسی نہیں ہے کہ انہیں اسپتال میں داخل رکھا جائے، لیکن ایمس اور صفدر جنگ کے ڈاکٹروں نے کم بلڈ سیلز کاؤنٹ، کم ہیموگلوبن اور یورک ایسڈ کی سطح بڑھنے پر تشویش جتائی اور انفیکشن کے بڑھتے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی نے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہ کرائے جانے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بحث کرانے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے سرکار سے اجازت لینی ہوگی مسٹر گاندھی نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ طالب علموں پر لاٹھی چارج اور مار پیٹ کی جا رہی ہے، جو پوری طرح غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان تباہ ہو چکے تعلیمی نظام اور امتحانی نظام کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن وزیرِ اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہیں طالب علموں سے معافی مانگنی چاہیے اور طالب علموں کے خلاف طاقت کا استعمال فوری طور پر بند کرانا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک قابلِ قبول نہیں ہے۔ نوجوانوں کے سامنے مواقع کے تمام راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ صرف مسابقتی امتحانات کا راستہ بچا تھا، لیکن وہ نظام بھی برباد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود طالب علم صرف تعلیمی نظام کی شکایت نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کے تعلق سے بھی فکر مند ہیں۔ یہ صرف تعلیم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ طالب علم کہہ رہے ہیں کہ انہیں اپنے مستقبل کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس پورے معاملے کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان، وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور مسٹر مودی کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے دہرایا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین موضوع پر پارلیمنٹ میں وسیع بحث کرائی جانی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا4 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا6 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا4 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
جموں و کشمیر3 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا4 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
دنیا4 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا4 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
ہندوستان5 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
دنیا6 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا5 days agoایرانی فوج کو دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے، باقر قالیباف

































































































