تازہ ترین
ائرانڈیا کچھ ماہ اور سرکاری رہےگا، بولی لگانے کی تاریخ میں دو مہینوں کا اضافہ

حکومت نے قرض کے بوجھ تلے دبے ائر انڈیا کی صد فیصد حصہ داری فروخت کرنے کے لئے ٹینڈر جاری کیا تھا۔
سرکاری ائر لائن کمپنی ائرانڈیا کے لئے بولی لگانے کی آخری تاریخ دو مہینے بڑھا کر 31 اگست کردی گئی ہے۔
مرکزی حکومت کے محکمہ سرمایہ کاری اور عوامی اثاثہ جات مینجمنٹ کی جانب سے آج جاری تصحیح خط میں کہا گیا ہے کہ کووڈ۔19 کے پیش نظر ائرلائن کے لئے بولی لگانے میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کی درخواست پر دلچپسی کے خط جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 جون سے بڑھا کر 31 اگست کردی گئی ہے۔ تکنیکی بولی کی بنیاد پر اہل بولی فراہم کرنے والوں کو 14 ستمبر تک مطلع کردیا جائے گا۔
دلچپسی کے خط جمع کرانے کی تاریخ میں تیسری مرتبہ تبدیلی کی گئی ہے۔ اس سال 27 جنوری کو جاری حقیقی ابتدائی اطلاعاتی خط میں 17 مارچ تک بولی کی دعوت دی گئی تھی جس کے بعد اسے بڑھاکر 30 اپریل اور پھر 30 کیا گیا تھا۔
حکومت نے قرض کے بوجھ تلے دبے ائر انڈیا کی صد فیصد حصہ داری فروخت کرنے کے لئے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ ساتھ ہی ائر انڈیا کی ائرانڈیا ایکسپریس میں صد فیصد اور ائر انڈیا ایس اے ٹی ایس ائرپورٹ سروسیز میں پچاس فیصد حصہ داری بھی اس بولی کے عمل کے تحت بیچی جارہی ہے۔(قومی اواز)
دنیا
حکومتی اختلافات باہر لانےوالے وزیر یا اہلکار کو برطرف کر دیا جائے گا:رضا عارف
تہران، ایرانی نائب صدر رضا عارف نے کہا ہے کہ حکومتی اختلافات عوام میں لانےوالے وزیر یا اہلکار کو برطرف کر دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں ایرانی نائب صدر نے کہا کہ سرکاری اداروں کے درمیان اختلاف کابینہ اور صدر کی موجودگی میں اٹھائےجائیں تاہم کسی شعبے کو دوسرے کے خلاف کارروائی یا حکومتی میکانزم سے ہٹ کر فیصلےکا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ من مانی کارروائی یا اختلافات میڈیا میں لانے سے معاشرے میں اضطراب پیدا ہوتا ہے ایسا کرنے والوں کےخلاف حکومت فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔
دریں اثناایرانی نائب اسپیکر حمید رضا بابائی نے کہا ہے کہ ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی اسمبلی کے نائب اسپیکر حمید رضا بابائی کا کہنا ہے کہ ہمیں امریکا کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ جب چاہے جنگ شروع کرے اور جب چاہے جنگ بندی کا اعلان کر دے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے سے روکنا چاہیے اور ایران کو امریکی مطالبات کے سامنے مضبوطی سے ڈٹے رہنا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
شاہ کو عہدے سے ہٹانا ہوگا، گولی چلانے کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو جانچ : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دینے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس پورے واقعہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے 25 جولائی کو مسٹر شاہ کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ طالب علموں پر پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا اور احتجاج کے دوران سادہ وردی میں موجود لوگ کون تھے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پیلٹ گن کے استعمال کے ثبوت، تصویریں اور زخمی طالب علموں کے طبی دستاویزات ہیں نیز انہی کی بنیاد پر طالب علموں کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کر رہے طالب علموں پر پولیس نے بربریت کی۔ ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، کئی طالب علموں کے جسم پر پیلٹ کے نشانات ہیں اور ایمس کی طبی رپورٹ میں بھی ایک زخمی طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو کیل لگی لاٹھیوں سے پیٹا گیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور کچھ لوگ سادہ وردی میں بھی کارروائی میں شامل تھے، جن کی شناخت اب تک واضح نہیں کی گئی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے کہا کہ انہوں نے آج پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انہیں بولنے نہیں دیا گیا، جبکہ حکومت کے وزراء کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے معافی مانگنے پر بولنے دینے کی بات کہی گئی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے جڑے کسی بھی شخص سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ اپوزیشن کے رہنما کے طور پر ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ پیلٹ گن جیسی طاقت کے استعمال کی اجازت وزارتِ داخلہ کی سطح پر ہی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف دو ہی امکانات ہیں—یا تو وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیلٹ گن چلانے، لاٹھی چارج اور دیگر طاقت کے استعمال کا حکم دیا، یا پھر انہیں اس کی معلومات ہی نہیں تھی۔ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کا حق نہیں ہے اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گولی چلانے کے احکامات کس نے دیے، اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے تاکہ پورے معاملے کی جوابدہی طے ہو سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالب علموں کے خلاف فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے منظم کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی آواز نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طالب علموں پر ہوئے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بل لے کر آئی ہے۔ یہ “اینٹی پیپر لیک بل نہیں، بلکہ پنشمنٹ بل” ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر شاہ کو عہدے سے ہٹا کر پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ طالب علموں پر گولی اور پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا نیز قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور انہیں انصاف ملنا ہی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
جموں و کشمیر
مظاہروں سے نہیں، بات چیت سے ہی جموں و کشمیر کے حقوق بحال ہوں گے: الطاف بخاری
سرینگر، جموں و کشمیر کی اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر نے 5 اگست 2019 کو جو حقوق کھوئے ہیں، انہیں احتجاجی مظاہروں یا تصادم کے ذریعے واپس نہیں پایا جا سکتا۔ انہیں صرف بات چیت، مشاورت اور ایک واضح روڈ میپ کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی پارٹی ریاست کا درجہ، آرٹیکل 370 اور 35اے کی بحالی، قیدیوں کی رہائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی مفاد کے دیگر مسائل اٹھانے والی کسی بھی جماعت کی حمایت کرے گی۔
مسٹر بخاری نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “5 اگست جموں و کشمیر کے لیے ایک سیاہ دن ہے اور جب تک ہمارے حقوق بحال نہیں ہو جاتے، یہ سیاہ دن ہی رہے گا۔ تاہم، ان حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کے بجائے بات چیت، مشاورت اور ایک واضح فریم ورک کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات اور شکایات کا ازالہ کرنے اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35اے کی منسوخی کے آٹھ ماہ بعد، مارچ 2020 میں سابق اراکینِ اسمبلی اور سابق وزراء کی جانب سے ‘اپنی پارٹی’ تشکیل دی گئی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران جموں کے خطے میں مذہب کے نام پر ہندو ووٹروں کو متحد کیا تھا۔ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا، “اب ایسا لگتا ہے کہ جموں کی اکثریتی ہندو برادری کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس طرح کی سیاست جموں و کشمیر کے وسیع تر مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا5 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا1 week ago‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی





































































































