تازہ ترین
دیکھیں! کیا گیلانی کا استعفیٰ کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک کا خاتمہ ہے؟

خبراردو:-
کشمیر کی پچھلے تیس سالوں کی تاریخ گواہ ہے یہاں کی علحیدگی پسند سیاست میں اگر کوئی کردارسب سے قد آور نظر آتا ہے تو وہ سید علی شاہ گیلانی ہے آپ اْن کی سوچ سے اتفاق رکھتے ہوں یا نہیں تاہم آپ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں کچھ لوگ انہیں اپنا قائد مانتے ہیں اور کچھ لوگ اْن سے بالکل متفق نظر نہیں آتے
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/3051548518295011/?t=11
سیدعلی شاہ گیلانی نے ایک بڑے فیصلے کے تحت اپنے آپ کو علحیدگی پسند جماعت حریت کانفرنس سے علحیدگی کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے گیلانی کئی دہائیوں سے اس جماعت کے رہنما رہ چکے ہیں اور زندگی کے آخری ایام میں اس سے علحیدگی اختیار کر لی۔سیاسی مبصرین گیلانی کے اس غیر متوقع فیصلے سے حیران رہ گئے۔تاہم بہت سارے تبصرے بھی سامنے آرہے ہیں پہلے ہم گیلانی کے مستعفی ہونے کی وجہ اْن سے ہی سنتے ہیں
تاہم سیاسی مبصرین اس فیصلے کے پیچھے کی وجوہات کو کسی اور نظر سے دیکھتے ہیں علحیدگی پسند سیاست کو گیلانی کی قیادت کی اس وقت اشد ضرورت تھی دفعہ ۰۷۳ کی منسوخی کے بعد لگ بھگ سبھی بارسوخ رہنما بھارت کی جیلوں میں بند پڑے ہیں زمینی سطح پر علحیدگی پسند سوچ رکھنے والے خیمے میں ایک خلأ نظرآتا ہے،اور رہنمائی کی ساری امیدیں سید علی گیلانی پر ہی ٹکی تھی تین دہائیوں میں گیلانی کے قد کا کوئی علحیدگی پسند رہنما ابھر کر نہیں آیا اور جو کچھ علحیدگی پسند خیمے میں ہو رہا تھا وہ انہی کے صلح مشورے سے ہوتا تھا۔ آج تک کوئی ایسا طریقہئ کار وضع نہیں کیا گیاجس کے تحت گیلانی کی وفات یا سبکدوشی کی صورت میں حریت کانفرنس کی بھاگ ڈور کون اور کیسے سنبھالے گا۔
سید علی شاہ گیلانی جن وجوہات کی بناء پر سبکدوش ہوگئے اسطرح کے معاملات پچھلی کئی دہائیوں سے سامنے آئے ہیں حریت میں ابتدا سے ہی دھڑ بندیوں۔مالی بے ضابطگیوں۔قیادت پر حاوی ہونے کی لڑائی ہوتی رہی ہے۔اور آخرکار حریت کے دو دھڑے ہوگئے۔آگے چل کر اس کی شکست و ریخت کاسلسلہ جاری رہا۔ حریت کی پالسیوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ عوام میں حریت کی مقبولیت دن بددن کم ہوتی گئی البتہ گیلانی کی شخصیت اپنے اسلامی شدت پسند سوچ سے نوجوانوں کے دل و دماغ پر چھا گئی۔حریت کانفرنس پر اْن کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اس کی تیس سالہ تاریخ میں زیادہ دیر تک انہوں نے ہی اس کی قیادت سنبھالی۔دوسرے دھڑوں میں بھی جو بھی لیڈر بنا وہ بھی ان کے ہی آشیرواد سے بنا۔
۸۰۰۲۔۰۱۰۲۔یا پھر ۶۱۰۲ میں لوگوں نے وہی کیا جو انہوں نے کہا نوجوانوں نے اپنی جانیں دے دی۔ لوگوں کو مالی مشکلات اْٹھانے پڑے لیکن گیلانی کی شخصیت میں انہیں ایک مسیحا نظر آرہا تھا جس کی قیادت میں اْن کی آزادی کا سورج طلوع ہوگاجب اْن کی پالسیوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا اس کے باوجود لوگوں نے ان کی قیادت پر سوالات نہیں اْٹھائے۔اب ایک ایسے مرحلے پر جبکہ جموں کشمیر سیاسی تاریخ کے ایک نازک مرحلے پر کھڑی ہے،۵ اگست ۹۱۰۲ کو ریاست کی نا صرف خصوصی پوزیشن ختم کردی گئی بلکہ ریاست کو یو۔ٹی۔بناکر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ایسے وقت میں اْن کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ایسے وقت میں اْن کے اچانک استعفی دینے سے لوگوں میں بے چینی پھیل گئی۔سبھی کے لبوں پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر ایسے نازک مرحلے پر کس چیز نے انہیں استعفی دینے پر مجبور کر دیا؟ اب جبکہ علحیدگی پسند کیمپ میں لیڈر شپ کا بحران پیدا ہوگیادوسری طرف جموں کشمیر میں جنگی حالات بھی سامنے آرہے ہیں ایسے حالات میں سید علی شاہ گیلانی کا یہ فیصلہ صحیح ہے لوگوں کو اس سوال کے جواب کا انتظار ہے؟
دنیا
اسلامک ریپبلک کی منظوری کے بغیر ہرمز سے کوئی بھی جہاز نہیں گزرے گا: ایرانی فوج کے سربراہ
تہران، ایرانی فوج کے سربراہ حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے اور ملک کی فوج کی اجازت کے بغیر وہاں سے کوئی بھی سمندری نقل و حرکت ممکن نہیں ہے۔
مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مسٹر سیاری نے بدھ کے روز کہا کہ ایرانی فوج اور اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز میں کوئی بھی سرگرمی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی زمینی، سمندری اور فضائی سرحدوں پر سکیورٹی مستحکم ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 18 جون کو ایران اور امریکہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت 28 فروری سے شروع ہونے والے تصادم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، 8 جولائی کے بعد سے امریکی فوج نے ایران پر متعدد بار حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف ایران کی کارروائی کے جواب میں کیے گئے تھے۔
ایرانی فوج نے مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں پر حملے کر کے اس کا جواب دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اسلامک جمہوریہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اب قابل عمل نہیں رہی۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
امریکی۔سعودی حملوں کے بعد عراق جامع دفاعی منصوبہ تیار کرے گا
بغداد عراق کی قومی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکی اور سعودی حملوں کے بعد ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع دفاعی اور سکیورٹی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
بدھ کو ہنگامی اجلاس کے بعد جاری بیان میں قومی سلامتی سے متعلق وزارتی کونسل نے کہا کہ ملک بھر میں حکومتی کنٹرول مزید مضبوط کرنے، عراق کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر جواب دینے اور کسی بھی فریق کو عراقی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ایک جامع سکیورٹی منصوبہ نافذ کیا جائے گا۔
حملے کے جواب میں کونسل نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق کارروائی کرے، اس واقعے کو دستاویزی شکل دے اور عراق کے جائز حقوق کا دفاع کرے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس نوعیت کے حملوں سے نمٹنا اور ان کا جواب دینا صرف عراقی حکومت اور ملک کے آئینی سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے منگل کی شب دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اور سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے مشرقی عراق میں “ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں” کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران امریکی فوجی اڈوں اور سعودی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب پاپولر موبلائزیشن فورسز نے کہا ہے کہ اس کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
امریکی فوجیوں پر حملے کی کوشش کے بعد امریکہ کے ایران پر شدید فضائی حملے
ماسکو، امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فوجی کمان مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی مراکز اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ مغربی ایشیا میں تعینات امریکی فوجیوں اور جنگی جہازوں پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
سینٹ کام نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی مغربی ایشیا میں تعینات امریکی افواج پر منگل کے روز کیے گئے مبینہ میزائل حملے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔
بیان کے مطابق امریکی فوج نے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے، جن میں فوجی کمان مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور دفاعی مراکز، نیز بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف شامل تھے۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد “ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی افواج، تجارتی بحری جہازوں اور خلیجی ہمسایہ ممالک کو لاحق خطرات کو کم کرنا” تھا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان7 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر7 days agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے





































































































