تازہ ترین
پھر ایک بار مودی سرکار

مشتاق شمیم 
23 ۔مئی 2019ءکو ہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسا نیا باب رقم ہوگیا جو اپنے آپ میں کسی تاریخی واقع سے کم ترنہیں ہے۔جی ہاں دوستو ۔سترہ ویں لوک سبھا منتخب کرانے کی غرض سے ہندوستان کی 29 ۔ریاستوں اور سات مرکزی زیر قیادت والے علاقوں میں جو لوک سبھا انتخابات لگ بھگ دو ماہ تک جاری رہنے کے بعد مکمل ہوگئے اُن کے نتائج 23 ۔مئی کو سامنے آگئے۔ا ن پارلیمانی انتخابات میںامید کے برعکس این ڈی اے خاص طور سے بی جے پی نے 2014ءمیں منعقدہوئے عام چناﺅ کی طرح دھوم مچادی۔ کانگریس کو بھاجپا نے اب کی بار ایک بار پھر ایسا سبق سکھلادیاکہ اس پارٹی کا دوبارہ سنبھلنا اب مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آرہا ہے۔کل 542۔ نشستوں میں سے ایک اکیلی بی جے پی نے اس بار 303۔ حلقوں پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گارڈ دئے۔ساٹھ سال تک ہندوستان پر راج تاج کرنے والی کانگریس پارٹی ساٹھ کا نشانہ بھی پار نہ کرسکی ۔یہ پارٹی بڑی مشکل سے52 ۔نشستیں ہی اپنے کھاتے میں جمع کرنے میں کامیاب ہوسکی ۔نہ صرف کانگریس بلکہ ملک کی دوسری بڑی بڑی قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں جن میں ایس پی ،بی ایس پی،ترنمول کانگریس ،راشٹریہ جنتا دل،ڈی ایم کے،انا ڈی ایم کے ، نیشلسٹ کانگریس ،عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو کی دونوں کمیونسٹ پارٹیاں شامل ہیں کو بھی بھاجپا نے اب کی بار دھول چٹانے پر مجبور کردیا۔کانگریس سمیت بعض دوسری پارٹیوں سے وابسطہ کئی قد آور سیاسی رہنماءاپنے سیاسی کیرئیرمیں ایک لمبی سیاسی باری کھیلنے کے باوجود مودی منتر کے سامنے اُسی طرح سے ٹک نہیں پائے جس طرح سے شبنم کے قطرے سورج کی کرنوںکے سامنے ٹک نہیں پاتے ہیں ۔ اس جمہوری جنگ میں کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی بھی اپنی وراثتی نشست( امیٹھی )ایک خاتون امیدوار سمرتی ایرانی کے مقابلے میں ہار بیٹھے۔حالانکہ کانگریس نے الیکشن ھٰذا میںبھاجپاکو مودی سرکارکی ناکامیوں اور کمزوریوں کا مزہ چکھانے کیلئے آنجہانی اندراگاندھی کی پوتی اور ہمشکل پرینکا واڈرا کو بھی میدان کارزار میںبڑی امید کے ساتھ اُتار دیا تھالیکن مودی نامی سونامی کو آگے بڑھنے سے روکنے میں پرینکا ہی نہیںبلکہ مہا گٹھ بندھن میں شامل بڑے بڑے سیاسی چہرے بھی ناکام رہے۔آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ 2014ءکے عام انتخابات میں بی جے پی نے 282۔ سیٹیں جبکہ کانگریس نے کل ۴۴ ۔نشستیں حاصل کی تھیں۔ اب کی بارمختلف ریاستوں سے ۷۲۔ مسلمان امیدوار بھی اپنی جیت کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوگئے جن میں اسد الدین اویسی کا نام قابل ذکر ہے۔ ۰۳ مئی کونریندر بھائی مودی کی سربراہی میں نئی این ڈے اے سرکار حلف لینے والی ہے۔بھاجپا صدر امت شاہ جنہوں نے بی جے پی کی شاندار کامیابی کو یقینی بنانے میں سب سے اہم رول ادا کیا مودی کے نئے منتری منڈل میں وزیر داخلہ کا قلم دان سنبھال رہے ہیں۔
بہر حال یہاں پر یہ دیکھنے کی خواہش سب دیش واسی محسوس کر رہے ہوں گے کہ آیا آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ہندوستان کی غالب آبادی نے دوسری مرتبہ بھی کانگریس کے بجائے بھاجپا اور راہل کے بجائے مودی پر اپنا اعتماد اوربھروسہ ظاہر کرنے میں اپنی دلچسپی کااظہار کیا۔حالانکہ جب سابقہ مودی سرکارکا باریک بینی سے جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو راقم کو یہ بتانے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ ظاہری صورت میں یہ سرکار عوام کی امیدوں پر کھرا اُترنے میں بالکل ناکام ہوکے رہ گئی تھی۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سابقہ مودی سرکارکے دوران اشیاءضروریہ خاص طور سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھوگئیں۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے اطلاق نے یہاں عام و خاص کی کمر توڑ کے رکھ دی ۔بے روزگاری اور بےکاری کے گراف میں سرکار ھٰذا کے دوران ملک میںلگ بھگ تیس فیصد اضافہ ریکارڈ درج کیا گیا۔اس دوران یہاں پربُلیٹ ٹرین چلی نہ ہی یہاں پر میک ان انڈیا اور جن دھن جیسی بڑی بڑی اسکیمیں غریب عوام کو خط افلاس سے اوپر لا سکیں۔ کسانوں اور مزدورپیشہ افراد کا کوئی بھلا ہوپایا نہ پبلک و پرائیویٹ سیکٹر اداروں میںکام کرنے والے ملازم حضرات کو کوئی فائدہ ملا۔ایودھیا میں رام مندر تعمیر ہوا نہ ہی ریاست جموں کشمیر کودفعات 370 اور 35 ۔اے کے تحت حاصل شدہ خصوصی اختیارات کا خاتمہ کیا جاسکا۔جھگی جھونپڑیوں میں بسیرا کرنے والوں کو چھت ملا نہ ہی بھوکے پیاسے ہندوستانیوں کیلئے روٹی روزی کا انتظام ہوسکا۔ زمینداروں کا قرضہ معاف ہوسکا نہ ہی قرضے کی وجہ سے خود کشی کرنے کے واقعات میں کوئی کمی آئی۔ غیر ملکی بینکوں میں چھپایا گیا کالا دھن واپس لایاجاسکا نہ ہی ملک کے بینکوں کو اربوں کھربوں روپیوںکا چونا لگانے والوں کو قانون کے شکنجے میں لایا جاسکا۔رشوت خوری کا دھندہ بند ہوسکا نہ چھوٹے بڑے گٹا لوں پر قدگن لگائی جاسکی۔ ملک کی اقتصادی حالت میں سدھار ہوا نہ ہی تعمیر وترقی کے میدان میں کوئی قابل دید انقلاب آیا۔ دو کروڑ بے روزگاروں کو روزگار دیا گیا نہ غریب عوام کے بینک کھاتوں میںدو دو لاکھ روپئے جمع کئے گئے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس زمینی سطح پر کہیں نظر آیا نہ ہی اچھے د ن لانے کا خواب مودی پانچ سال میںپورا کرسکا۔ ا لٹا مودی سرکار کے دوران ملک کے کونے کونے میں فرقہ ورانہ فسادات رونما ءہوتے رہے ۔مذہبی سطور پر ملک کوتقسیم کرنے کی کوششیں بام عروج پر پہنچ گئیں۔اقلیتی فرقہ جات سے وابسطہ مسلمانوں سکھوں عیسائیوں اور دلتوں کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں قتل کیا جاتا رہا۔مذہبی عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا۔ اسلامی ناموں سے منسوب بعض تاریخی شہروں شاہراﺅں بازاروں ریلوے اسٹیشنوں ہوائی اڈوں یہاں تک کہ عالمی شہرت یافتہ عمارات کے نام بدل دینے کی کامیاب مہم چھیڑدی گئی۔ کشمیر تنازعے کا کوئی حل نکالا گیا نہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کئے گئے۔ اس دوران ہندوستان کے امبانی جیسے امیر لوگ امیر ترین بنتے گئے اور غریب لوگ افلاس کے دلدل میں اور زیادہ نیچے دستے رہے۔
جہاں تک میری سوچ کا تعلق ہے مجھے لگ رہا ہے کہ عوام نے اب کی بار مودی کی کارکردگی کو نہیں بلکہ اُن کی مہان شخصیت کو ووٹ دیا ہے۔اندرونی سطح پر بھلے ہی مودی جی اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں عوام کی بھلائی اور بہتری کیلئے کچھ خاص کر پائے لیکن خارجی سطح پر عالمی طاقتوں کے سامنے آپ ہمیشہ ہندوستان کو ایک مہا ن دیش کی صورت میں پیش کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔آپ نے بھارت کو اقوام متحدہ میں چھٹے ویٹو پاور کی صورت میں کھڑا کرنے کی داویداری کی کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔آپ اپنے دور میں امریکہ روس برطانیہ فرانس اور چین جیسے سپر پا ور ملکوںکے سربراہوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت دکھاتے رہے۔ آپ پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کو بڑے بڑے عالمی فورموں اور گروپوںمیںایک اعلیٰ مقام دلانے میں کامیاب رہے۔ آپ نے مولانامسعود اظہرمحمد حافظ سعید اور سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ مودی کے دور میں ہندوستان زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل کو گرانے کی شکتی رکھنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ۔ عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ نریندر مودی پاکستان کی طرف سے پھینکی گئی ایک ایک اینٹ کا جواب ہر بار پتھر سے دیتے رہے ۔مودی کے دور میں ہی بھارت کی فوج نے پاکستان کے خلاف سرجیکل اور ائیر اسٹرائیک کرنے کا حوصلہ دکھادیا۔اگر ہم بھی اسی تناظر میں مودی جی کو پرکھنے کی کوشش کرتے چلیں تو اس بات میں بالکل بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ مودی جیسا ہمت والااور جرائت مند سیاسی لیڈر فی الوقت ہندوستان کی کسی بھی دوسری سیاسی جماعت میں دُور دُور تک نظر نہیں آرہا ہے۔میری نظر میںراہول گاندھی مودی کے سامنے ایک ایسا ناتجربہ کار اور نا اہل سیاسی لیڈر ہے جس کو ابھی اپنی پارٹی سنبھالنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔آج کے الیکشن میں عوام نے شاید دوسری لائن پر کھڑے امیدواروں کے بجائے نریندر مودی اور راہول گاندھی کی ذات پر اپنا پورا فوکس کر رکھا ہوا تھا۔بھاجپا امیدواروں کوجتانے کا مطلب مودی کے مضبوط ہاتھوں میں ملک کا مستقبل محفوظ بنا دینا اور کانگریسی امیدواروں کو کامیاب بنانے کا مطلب راہول گاندھی کے کمزور ہاتھوں میں ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دینا۔ میرے خیال میں بھی بی جے پی ہندوستان کی فی الوقت واحد سیاسی پارٹی ہے جس میں نہ صرف قابل تجربہ کار اور باصلاحیت رہنماءموجود ہیں بلکہ اس پارٹی میں ربط و ضبط تنظیم سازی اور اتحادو اتفاق کی طاقت بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی عوام نے مذہبی علاقائی اور سیاسی وابسطہ گیوںسے اوپر اُٹھ کر ایک بار پھر اپنے ملک کی باگ ڈورایک مضبوط قیادت کے ہاتھوں میں تھمانے کا ارادہ کرلیا تھا جو انہوں نے بلآخر پورا کر ہی دیا۔ صرف چند ماہ قبل راجستھان اور مدھیہ پردیش کے لوگوں نے ریاستی سطح کی حکومتیںقائم کرنے کیلئے کانگریس کو ووٹ دیا اور جب وزیر اعظم منتخب کرانے کی باری آئی تو بی جے پی کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے میں فخر محسوس کیا۔اس طرح کا طرز عمل اس بات کاغمازی ہے کہ ہندوستان کا عوام اب سیاسی اعتبار سے کافی زیادہ سنجیدہ ہوچکا ہے۔ کب کس کے حق میں ووٹ کرنا بہتر رہے گالوگ بہت اچھی طرح سے جانتے بھی ہیںاور سمجھتے بھی ۔ہاں مگر اس طرز عمل کے بیچ میں ایک منفی رجحان بھی پروان چڑھنے لگ چکا ہے جو ہندوستان کے اسکیولرکردار کیلئے زرر رساں ثابت ہوسکتا ہے وہ یہ کہ مودی کے چکر میں سادھوی پرگیا ٹھاکر جیسی مذہبی دہشت گرد کے علاوہ بعض دوسرے جرائم پیشہ افراد کو قانون ساز ایوانوں اور فیصلہ ساز اداروں میں اپنے ناپاک قدم جمانے کا بھر پور موقع مل رہا ہے جبکہ سماج سدھار ماہرین تعلیم یہاں تک کہ اعلیٰ قانونی ماہر امیدواروں کو شکست پاش ہونا پڑرہا ہے ۔
علاوہ ازیں اس امر میں بھی شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے کہ نریندر مودی کو ایک مضبوط وزیراعظم کی صورت میں کھڑاکرانے کے پیچھے جہاں اندرونی سطح پر آر ایس ایس جیسے طاقت ور سنگٹھن کا آشراودکار فرما رہاہے وہیں خارجی سطح پر امریکہ اسرائیل روس پاکستان اور بعض یورپی ریاستوں کا عمل دخل بھی اس میں بہ نفس نفیس شامل حال رہا۔ بتایا جارہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے تناظر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان در پردہ طریقے سے گزشتہ ایک سال کے دوران بہت حد تک پیش رفتہ ہوچکی ہے اسلئے مودی کا دوبارہ اقتدار میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ لوٹ آنالازم بن چکا تھا تاکہ مذاکراتی عمل کو کسی منطقی انجام تک لیجانا ممکن بن سکے۔نیز چین کے ساتھ برسوں سے چلے آ رہے سرحدی تنازعے کو بھی بغیرکسی جنگ و جدل کے نپٹایا جاسکے۔
اب جو بھی وجہ رہی ہوگی نریندر مودی کی بھاری اکثریت سے جیت درج کرنے کے پیچھے لیکن یہ بات طے ہے کہ آپ ایک طاقت ور شکتی شالی وزیر اعظم کی صورت میں ابھر گئے ہیں۔اب انھیں اس شاندار کامیابی اور بھر پور طاقت سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرلینی چاہئے۔مودی جی کو اس بھاری عوامی منڈیٹ کوکسی بھی صورت میں بے کار میں جانے نہیں دینا چاہئے نہ ہی انھیں اپنی شکتی کو ملک کے اندر صدیوں سے آباد اقلیتوں کے خلاف استعمال میں لانا چاہئے اُسی میں ہندوستان کی بھلائی اور بہتری کا راز مضمر ہے ۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
9797966365
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































