تازہ ترین
اسکول کی بچیوں کو زہر دینا ’’ناقابل معافی جرم‘‘ ہے: ایرانی سپریم لیڈر

ایران کے سپریم لیڈر نے پیر کے روز کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران میں اسکول کی طالبات پر زہر کے حملے ایک “ناقابل معافی” جرم ہے۔ نومبر میں شروع ہونے والے حملوں کا سلسلہ ایران کے 31 صوبوں میں سے کم از کم 25 تک پھیل گیا ہے۔ جس سے سینکڑوں طالبات متاثر ہوئی ہیں۔
“حکام کو طالبات پر زہر آلودگی کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے، اس جرم کے مرتکب افراد کو سخت سزا دی جانی چاہئے ، “علی خامنہ آی کے حوالے سے ریاستی میڈیا نے ایک بیان میں بتایا۔
سرکاری میڈیا اور عہدیداروں کے مطابق ، مختلف اسکولوں میں ایک ہزار سے زیادہ ایرانی لڑکیوں کو نومبر سے “ہلکے زہر” کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بعض حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف مذہبی گروپوں کی کاروائی ہو سکتی ہے۔
کچھ والدین اپنے بچوں کو اسکول سے باہر نکال رہے ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
دنیا
امریکہ نے ایران پر ایک اور دور کے حملے کیے، ہرمز کے پاس فوجی ٹھکانے نشانے پر
واشنگٹن/تہران، امریکہ کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے منگل کی دیر رات کہا کہ اس نے ایران کے خلاف ایک اور مرحلے کے حملے مکمل کرتے ہوئے آبنائے ہرمز اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں نے سات گھنٹے تک جاری رہنے والی مہم میں ایران کے میزائل اور ڈرون اڈوں، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظاموں پر بالکل درست حملے کیے۔ بیان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد تجارتی جہازوں اور سویلین عملے کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔ سینٹ کام نے یہ بھی بتایا کہ اسی دن امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں سے آنے جانے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے، “امریکی افواج مکمل طور پر چوکس، مہلک صلاحیتوں سے لیس اور صدر کی ہدایت کے مطابق کارروائی کے لیے تیار ہیں۔”
اس دوران، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی آنے والے دنوں میں جاری رہے گی اور اس میں مزید تیزی آئے گی۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہیں لوٹتا، تو اگلے ہفتے امریکہ ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی اور مستقل امن کے مقصد سے کیے گئے معاہدے (اسلام آباد ایم او یو) کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط بھیج کر امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کرنے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ايروانى نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے خط میں کہا، “معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ہی سے امریکہ نے نہ صرف اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، بلکہ منظم طریقے سے اس معاہدے کی بنیاد کو کمزور کرنے کا کام کیا ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران پر نئے حملے مفاہمت نامے کی خلاف ورزی، تنازع کے حل کی راہ مسدود ہو رہی ہے: لاؤروف
ماسکو، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ ایران پر فوجی حملوں کا دوبارہ آغاز تنازع کے پرامن حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو ان حملوں کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے مفاہمت نامے کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔
سرگئی لاؤروف نے یہ بات منگل کو اپنے چاڈی ہم منصب عبداللہ صبری فضول کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایران پر حملوں کے دوبارہ آغاز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی۔
انہوں نے کہا، “ہم ایران کے خلاف فوجی حملوں کے دوبارہ آغاز کو مفاہمت نامے کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں اور اس پر مزید تبصرے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک افسوس ناک صورت حال ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران میں شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں بھی شہری تنصیبات متاثر ہو رہی ہیں، اور یہ کسی مثبت نتیجے کی طرف نہیں لے جا رہا۔”
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ اقدام اس دروازے کو بند کر رہا ہے جسے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت نامے نے کھولا تھا۔
انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران پر حالیہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت نامے کی خلاف ورزی ہیں۔
چند روز قبل بھی سرگئی لاؤروف نے ایران سے متعلق تنازع کو ایسے معاہدوں کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا جو تمام فریقوں کے مفادات کا احاطہ کرتے ہوں۔
موزمبیق کے دورے کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران، آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی مجموعی صورت حال کے حوالے سے روس کا مؤقف واضح ہے۔
لاؤروف نے کہا، “ہم سمجھتے ہیں کہ اس تنازع کا حل ناگزیر ہے اور یہ صرف ایسے معاہدے کے ذریعے ممکن ہے جو نہ صرف ایران، اس کے پڑوسیوں اور امریکہ بلکہ ان تمام ممالک کے مفادات کی بھی عکاسی کرے جو موجودہ صورت حال کے عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔”
یواین آئی۔ م س
دنیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں کے خلاف مظاہرے ،ایران نے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت کی
صنعا/ تہران، یمن کے مختلف صوبوں میں صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی حملے کے خلاف مسلح قبائلی اجتماعات اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے یمنی مسلح افواج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے حملے کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یمنی میڈیا نے المسیرہ نیٹ ورک کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی فضائی حملوں کے خلاف حجہ، ریمہ، المحویت اور اباب صوبوں میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ حجہ کے ضلع المحبشہ کے قبائل نے صنعا کے ہوائی اڈے پر حملے کی مذمت اور یمنی مسلح افواج کے اقدامات کی حمایت کے لیے مسلح اجتماع منعقد کیا۔
اس اجتماع نے یمن کی ناکہ بندی اٹھانے کے بارے میں ایران کے موقف کی حمایت کا اظہار کیا اور فوجی تربیت اور متحرک ہونے میں حصہ لینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے انصار اللہ تحریک کے سربراہ کو حملے کے ردعمل اور ناکہ بندی اٹھانے کے بارے میں فیصلے کرنے کے مکمل اختیار کا اعلان بھی کیا۔
قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے پیر کے روز صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کر کے ایک ایرانی طیارے کو اترنے سے روک دیا۔ یمن کی وزارت دفاع کے مطابق، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب حوثی وفد نے، جو مرحوم رہنما علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے ایران کا سفر کیا تھا، یمنی ایئرلائن کی پرواز سے واپس آنے سے انکار کر دیا اور ایرانی طیارے میں واپس آنے پر اصرار کیا۔
ادھر ایران نے صنعا کے ہوائی اڈے پر سعودی حمایت یافتہ حکومت کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور یمن کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ یہ حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور یمن کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس سے قبل حوثی تحریک نے سعودی عرب پر صنعا کے ہوائی اڈے پر بمباری کا الزام عائد کیا تھا اور جوابی کارروائی میں میزائل داغے تھے۔ سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے حوثی میزائلوں کو فضا میں ہی مار گرایا گیا۔
حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساری نے کہا کہ ان کی فورسز نے یمن کی سرحد کے قریب سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ مارچ 2022 میں غیر رسمی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے یہ پہلے حملے بتائے جاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
ہندوستان7 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا7 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا7 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا7 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا5 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ہندوستان5 days agoمیرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم قتل کیس پر کھرگے کا بی جے پی پر شدید حملہ، کہا، حکومت دبا رہی ہے انصاف کی آواز




































































































