ہندوستان
افغانستان کے صنعت و تجارت کے وزیر ہندستان کے دورے پر

نئی دہلی، افغانستان کے صنعت و تجارت کے وزیر الحاج نورالدین عزیزی بدھ کے روز پانچ روزہ سرکاری دورے پر دہلی پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عزیزی کے دورے کا بنیادی مقصد دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانا ہے پوسٹ میں کہا گیا:”صنعت و تجارت کے وزیر الحاج نورالدین عزیزی کا ہندستان کے سرکاری دورے پر دل سے خیر مقدم۔ دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ان کے دورے کا اہم مقصد ہے۔”
اکتوبر میں افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر متقی کے ہندستان دورے کے بعد عزیزی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات اور مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کی اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
اپنے قیام کے دوران ہندستان کے سینئر حکام کے ساتھ ملاقاتوں اور بات چیت کا امکان ہے۔
متقی کے دورے کے بعد ہندستان نے کابل میں موجود اپنے تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے کا درجہ بحال کر دیا تھا۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہاں کے وزراء کا یہ پہلا ہندستانی دورہ ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
حکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر نیز لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ایم ایس ایم ای مخالف حکومت کی پالیسیاں چھوٹی صنعتوں کا گلا گھونٹ رہی ہیں اور اسی وجہ سے راجستھان کے بس اور ٹرک باڈی بلڈنگ صنعت پر بحران آیا ہےمسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ راجستھان کے مقامی بس اور ٹرک باڈی بلڈرز سے ملاقات کے دوران انہیں ایسا ہندوستان دیکھنے کو ملا، جو اپنے ہاتھوں سے روزگار بھی پیدا کرتا ہے اور ملک کی رفتار بھی بڑھاتا ہے۔ ان کاریگروں کی عالمی معیار کی کاریگری فراری اور رولز رائس جیسی کمپنیوں کے معیار کی ہے، لیکن انہیں احترام اور تعاون ملنے کے بجائے قوانین کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیاں ان صنعتوں کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ چھوٹی صنعتوں کے بند ہونے سے نہ صرف فیکٹریاں ہی بند ہوتی ہیں، بلکہ ہندوستان کا ہنر ہارتا ہے اور محنتی کاریگر بے روزگار ہوتے ہیں ۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی ایسے کاریگروں کا حق ان سے نہیں چھیننے دے گی۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری اور خود انحصاری سے وکست بھارت کی سمت بڑھنے کا: راجناتھ
نئی دہلی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی سمت میں پیش رفت کا رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے ہفتہ کو یہاں ایک میڈیا آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں کہا، “گزشتہ 12 سال میں ہندوستان کا سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی طرف پیش رفت کا رہا ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے پہلی میعاد کار میں قلت کو دور کیا، مواقع کو بڑھایا اور ورک کلچر میں تبدیلی کی، دوسری میعاد کار میں، آرزوؤں کو کامیابیوں میں تبدیل کیا اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھایا۔ تیسری میعاد کار میں، حکومت “اصلاح، کارکردگی، تبدیلی” کی پالیسی کے ذریعے وکست بھارت کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے اور چوتھی میعاد کار میں دنیا ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے عروج کی گواہ بنے گی۔ وزیر دفاع نے گزشتہ 12 سال میں ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے اہم پہلوؤں کے بارے میں کہا کہ جب 2014 میں ‘میک ان انڈیا’ اسکیم شروع ہوئی تھی تو کچھ لوگوں نے اسے ناکام بتایا تھا لیکن اس اسکیم نے کامیابی کے نئے معیارات قائم کیے اور یہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان کے عالمی وقار میں ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جہاں دنیا ہماری بات پر توجہ نہیں دیتی تھی، وہیں آج وہ عالمی مسائل پر ہندوستان کے نقطہ نظر کو غور سے سنتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ 2021 میں شروع کیے گئے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن پر ابتدائی شکوک و شبہات کے باوجود، ‘پلگ اینڈ پلے’ بنیادی ڈھانچے کے ماڈل پر مبنی سیمی کنڈکٹر پارکوں کے قیام کی وجہ سے ملک نے گزشتہ سال اپنی خود کی سیمی کنڈکٹر چپ تیار کی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں سالانہ دفاعی پیداوار اب تک کی بلند ترین سطح 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مالی سال 15-2014 کے اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات ریکارڈ 38,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ مالی سال 14-2013 کے 686 کروڑ روپے سے تقریباً 57 گنا زیادہ ہے اور میک ان انڈیا اقدامات میں دنیا کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر دفاع نے ہندوستان کے مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کے بارے میں بتاتے ہوئے موبائل مینوفیکچرنگ، آٹوموبائل برآمدات، دیسی لوکوموٹیو کی پیداوار اور میک ان انڈیا کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کا ذکر کیا۔ انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ میک ان انڈیا 5جی ٹیکنالوجی کی ملک گیر تیز رفتار توسیع کی بھی بات کی اور کہا کہ 6جی کی ترقی کی سمت میں کوششیں جاری ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ 2014 سے پہلے، فلاحی اسکیموں کی تقسیم میں بدعنوانی اور غبن کو بڑے پیمانے پر ناگزیر سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے فائدہ مستحقین تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر، جن دھن، آدھار اورموبائل کی ٹرینٹی اور ‘جے اے ایم ٹرینٹی ‘ کے ذریعے اس چیلنج کا حل نکالا ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کا خاتمہ اور نکسلی انتہاپسندی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششیں حکومت کے ان مسائل کو حل کرنے کے پختہ عزم کی روشن مثالیں ہیں جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ گزشتہ 12 سال میں، اسٹارٹ اپس کی تعداد 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور یونیکورنز کی تعداد چار سے بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔”
مسٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ثقافت اس کی شناخت، اتحاد اور قومی شعور کی بنیاد ہے اور تہذیب، ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت ترقی کو بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے آج کے دور میں میڈیا کے کردار کو ‘مواصلات کی کثرت’ کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم بتاتے ہوئے کہا کہ چیلنج معلومات کی کمی نہیں بلکہ اس کی درستگی اور معتبریت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی تکنیکی ترقی سے ‘صحافت’ بھی متاثر ہوئی ہے لیکن یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کو پیچھے نہیں چھوڑ پائیں گی۔ انہوں نے کہا، “صحافت کی مستقبل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اے آئی کی صلاحیتوں اور انسانی ہمدردی کے درمیان کتنا اچھا توازن اور ہم آہنگی قائم کر پاتی ہے۔ جہاں اے آئی صحافت کو تیز اور زیادہ درست بنائے گا، وہیں جذباتی ذہانت یہ یقینی بنائے گی کہ یہ انسانی اور قابل اعتماد بنی رہے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ صحافت کی اصل طاقت صرف معلومات کی تشہیر میں نہیں بلکہ سماج کو صحیح سمت میں رہنمائی کرنے، سچائی کو سامنے لانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سماج اور دفاعی افواج کے حوصلے پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت میں سب سے پہلے خبر دینا اہم ہو سکتا ہے لیکن صحیح خبریں دینا اس سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا، “خصوصی طور پر جب موضوع دفاعی افواج، قومی سلامتی یا ملک کی خدمت میں اعلیٰ ترین قربانی دینے والوں کے احترام سے متعلق ہو، تو ہر لفظ قومی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ میڈیا کو ہمیشہ درستگی، غیر جانبداری اور غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا6 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا4 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
جموں و کشمیر1 week agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
دنیا5 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان1 week agoسرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے
ہندوستان6 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا


































































































