ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ نے بنگال مدرسہ اسٹاف کو مستقل کیئے جانے کی عرضی مسترد کی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے مدرسوں میں اپنی تقرری کو منظوری دینے کا مطالبہ کرنے والے 350 اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی عرضی پیر کو مسترد کر دی مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ 2008 کو کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج بنچ نے غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے بعد ان سبھی کی ملازمت چلی گئی تھی۔ عدالت نے بعد میں اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ان کی تقرری مستقل تھی اس لیے انہیں مغربی بنگال کی گرانٹ ان ایڈ اسکیم کے تحت تنخواہ ملنی چاہیے۔
جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے متعلقہ عرضیوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ سماعت کے قابل نہیں ہیں۔ عدالت عظمی میں 361 سے زیادہ عرضی گزاروں نے 40 سے زیادہ عرضیاں دائر کی تھیں۔ اعلیٰ عدالت نے مارچ 2016 کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اس سے پہلے چھ جنوری 2020 کو سپریم کورٹ نے 2008 کے قانون کو آئینی طور پر درست بتایا تھا۔
سپریم کورٹ نے ان عرضیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 13 عرضی گزاروں کے معاملات گزشتہ حکم کے بعد اس کے سامنے رکھے گئے تھے۔ اعلیٰ عدالت نے کہا تھا کہ اگر یہ 13 عرضیاں اسے راضی کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو باقی عرضی گزاروں کے دعووں کی بھی جانچ کی جائے گی، تاہم کوئی بھی عرضی عدالت کو اپنی بات نہیں سمجھا سکی۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
رام مندر چڑھاوا خورد برد معاملے میں سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر مرکز، یوپی حکومت، ٹرسٹ کو سپریم کورٹ کا نوٹس
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے ایودھیا رام مندر چڑھاوا میں خوردبرد اور فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں پر پیر کو مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا عدالت نے اتر پردیش حکومت کے ذریعہ تشکیل دی گئی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کو اب تک کی جانچ کی صورتحال پر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ رپورٹ میں ایس آئی ٹی کے بارے میں بھی ذکر کرنے کو کہا گیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن کی بنچ نے عرضیوں پر سماعت کی۔ مرکز اور اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ سیل بند لفافے میں داخل کی جائے گی۔ سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل نے مندر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرنے کو ٹالنے کی درخواست کی، جسے بنچ نے مسترد کر دیا۔
عرضی گزاروں میں سے ایک کے وکیل نے عدالت سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی۔ عرضی گزاروں نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی کاپی انہیں بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن بنچ نے فی الحال اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جانچ جاری ہے اور اس پر بعد میں غور کیا جائے گا۔
ایک عرضی نریندر کمار گوسوامی نے خود دائر کی ہے، جس میں سی بی آئی جانچ کے ساتھ ساتھ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے مالی لین دین کا کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری عرضی اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی ہے۔ اس میں بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکز، اتر پردیش حکومت اور ٹرسٹ کو عقیدت مندوں اور عطیہ دہندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ الزامات آخر کار درست ثابت ہوں یا نہیں، لیکن مالی بے ضابطگیوں کی رپورٹوں سے رام مندر تحریک کی حمایت کرنے والے اور عطیہ دینے والے لوگوں میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ تیسری مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم پی سدھاکر سنگھ نے دائر کی ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کے علاوہ ٹرسٹ کے پورے مالی لین دین کی فورینسک جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں تمام مالی دستاویزات، ڈیجیٹل لیجر، یو پی آئی لین دین کی تفصیلات اور بینک ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔ عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ مجوزہ نگرانی کمیٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ٹرسٹ کو بڑی سرمایہ کاری، اہم معاہدوں یا بڑے مالی فیصلے کرنے سے روکا جائے۔ ساتھ ہی ٹرسٹ کو شفافیت کے مفاد میں جانچ کی گئی مالی رپورٹ اور عطیات سے متعلق تفصیلات اپنی آفیشل ویب سائٹ پر عام کرنے کی ہدایت دینے کا بھی درخواست کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
بدعنوانی ، وصولی نظام میں بدل چکے تعلیمی نظام میں ’طلبہ کی گونج‘ لائے گی انقلاب: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام بدعنوانی، وصولی اور جانبدار ہوکر طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے، اس لیے طلبہ کو اب متحد ہو کر لڑنا ہوگا تاکہ ’طلبہ کی گونج‘ مہم تعلیمی نظام میں انقلاب کا ذریعہ بنے مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’بدعنوانی ، ناانصافی، جانبداری اور بے ایمانی‘ جیسے الفاظ ان کے نہیں، بلکہ ملک کے طلبہ کے ہیں، جو آج کے تعلیمی نظام کی عکاسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے بنایا گیا تعلیمی نظام اب ایک ’بے ایمان وصولی نظام‘ میں بدل چکا ہے، جو طلبہ اور ان کے خاندانوں کو قرض، تناؤ اور مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں پھیلی بدعنوانی نے پیپر لیک مافیا کو جنم دیا ہے، جو لاکھوں طلبہ کی برسوں کی محنت ایک جھٹکے میں برباد کر دیتا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ اس نظام میں قصوروار وینڈروں اور افسران کو کارروائی کے بجائے نئے ٹینڈر اور ترقیاں ملتی ہیں جبکہ سزا طلبہ بھگتتے ہیں اور انہیں ٹوٹے ہوئے خوابوں اور غیر یقینی مستقبل کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر تعلیم اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں نیز جواب دہی سے بچ رہے ہیں اور میڈیا بھی اس سنگین مسئلے پر خاموش ہے۔ اب بہت ہو چکا ہے اور تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے طلبہ، نوجوانوں اور سرپرستوں سے 17 جولائی کو دہرادون میں منعقد ہونے والے ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے تعلیمی نظام میں تبدیلی کی اس مہم کو مضبوط کرنے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا7 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا1 week agoشہید رہبرِ اعلیٰ نے سکھا دیا کہ ایران کا عظیم سرمایہ عوام و اتحاد ہے: ایرانی صدر
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی



































































































