دنیا
خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے سے ہی عالمی توانائی کی سپلائی کا تحفظ ممکن ہے: ایران
نئی دہلی، ایران کے وزیر تیل محسن پاکنزاد نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں دیرپا استحکام اور عالمی توانائی کی سپلائی کی سلامتی خطے سے غیر ملکی افواج کے انخلاء اور امریکی فوجی اڈوں کو ختم کرنے سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
گروگرام میں برکس کے وزرائے توانائی کے 11ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر پاکنزاد نے کہا کہ ایران محفوظ اور سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے برکس کے اراکین کے درمیان توانائی کے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک فعال اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اسرائیل جنگ کے دوران ملک کے تیل، گیس، ریفائننگ اور پیٹرو کیمیکل انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے عالمی توانائی کی سلامتی کے خلاف “اندھی جنگ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تیل کی صنعت کے کارکن ہلاک ہوئے، ماحولیاتی نقصان پہنچا، سپلائی چین میں خلل پڑا، اور خلیج فارس کے علاقے میں ہزاروں خاندانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مسٹر پاکنزاد نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات کے نتائج نے توانائی کی منڈی میں عدم استحکام، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، اور دنیا بھر میں زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب، جغرافیائی سیاسی خطرات، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، آب و ہوا کے چیلنجز، اور سرمایہ کاری کی رکاوٹوں کے لیے وسیع تر بین الاقوامی تعاون اور عملی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ تیل اور قدرتی گیس 2050 تک عالمی توانائی کی ضروریات کا نصف سے زیادہ حصہ لے گی۔
ایرانی وزیر نے ‘برکس انرجی سیکیورٹی پارٹنرشپ’ بنانے کی تجویز بھی پیش کی جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان توانائی کی قدر کے سلسلے میں لچک، پائیداری اور تعاون کو بڑھانا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 11ویں برکس وزرائے توانائی کی میٹنگ 25-26 جون کو ہو رہی ہے۔ برکس 11 بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کو اکٹھا کرتا ہے، جن میں برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، ہندوستان، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکوں کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تہران، آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کے باعث کشیدگی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل امریکی انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر دو آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزارنے کی کوشش کی، جہاں وہ سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
بیان کے مطابق بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دونوں آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
ایران نے متاثرہ آئل ٹینکروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم ملاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے جاری ہدایات پر عمل کریں اور بارودی سرنگوں والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔
اس واقعے پر امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
کویت میں پیٹرولیم تنصیب پر ایران کا حملہ، متعدد افراد زخمی، بڑے پیمانے پر نقصان
تہران، ایرانی حملے میں کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
اس حوالے سے جاری کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے خبر دار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران تنازع کو مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر دے گا۔
محسن رضائی نے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب جنگ یا مذاکرات کی پالیسی ختم ہو چکی ہے، 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی حکمتِ عملی تنازع کو خطے میں پھیلنے سے روکنا تھی۔
سینئر فوجی مشیر کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے کویت یا دیگر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنانی صدر جوزف عون امریکہ کے دورے پر روانہ
تہران، لبنان کے صدر جوزف عون اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ روانہ ہوگئے۔
بیروت میں ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لبنانی صدر کی امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ سربراہی اجلاس منعقد ہو گا۔
اجلاس میں امریکی حکام کے ساتھ لبنان کی موجودہ صورتِ حال، جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے ممکنہ اقدامات، بالخصوص جنوبی لبنان میں امن و استحکام کی بحالی، اسرائیل کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور ریاستی عملداری کو لبنان کے تمام علاقوں تک وسعت دینے جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
ہندوستان5 days agoخردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 day agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز میں ایران نے 2 اماراتی ٹینکرز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنا دیا، ہندوستانی ہلاک








































































































