دنیا
لبنان۔اسرائیل مذاکرات کا پانچواں دور، جنگ بندی اور انخلا پر بات چیت جاری
واشنگٹن، لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی اور طویل مدتی سکیورٹی و سیاسی مفاہمت کی کوششوں کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں شروع ہوگیا، تاہم اسرائیلی انخلا اور حزب اللہ کے ہتھیاروں سے متعلق اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک کے سیاسی اور فوجی حکام امریکی سرپرستی میں شریک ہیں، جبکہ واشنگٹن جنوبی لبنان میں مستقل استحکام اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ثالثی میں ہونے والے رابطوں سے کئی دیرینہ مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پانچویں دور کے دوسرے روز کا ماحول پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہا اور جنگ بندی، اسرائیلی انخلا اور مجوزہ سکیورٹی انتظامات کے نفاذ کے طریقہ کار پر پیش رفت دیکھنے میں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنانی وفد جنوبی لبنان میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور اس کے لیے واضح ٹائم فریم کے مطالبے پر قائم ہے۔
دوسری جانب مذاکرات میں ممکنہ مفاہمتوں پر عمل درآمد کے لیے انتظامی اور عملی طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور کیا جا رہا ہے، جہاں بات چیت عمومی اصولوں سے آگے بڑھ کر جنگ بندی، نگرانی اور انخلا کے عملی مراحل تک پہنچ چکی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق لبنانی فوج کو نئے سکیورٹی انتظامات نافذ کرنے کے لیے حکومتی حمایت حاصل ہے اور واشنگٹن لبنانی فوج کو ان علاقوں کی سکیورٹی سنبھالنے کے لیے مرکزی ادارہ تصور کرتا ہے جہاں سے اسرائیلی افواج مستقبل میں انخلا کر سکتی ہیں۔
اگرچہ اسرائیلی انخلا کے وقت اور طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں، تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکراتی ماحول پہلے کے مقابلے میں زیادہ امید افزا ہے۔
اس سے قبل لبنانی صدر جوزف عون نے واضح کیا تھا کہ لبنان اپنی سرزمین سے ہر قسم کی غیر ملکی فوجی موجودگی کے خاتمے اور مکمل خودمختاری کی بحالی سے کم کسی حل کو قبول نہیں کرے گا۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا اور جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اسرائیل کو لاحق خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے۔
اسرائیل بدستور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا شامل ہونا چاہیے، جبکہ حزب اللہ اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے حکومتِ لبنان سے براہ راست مذاکرات ترک کرنے اور مسئلے کے حل کے لیے ایران۔امریکہ سفارتی عمل پر انحصار کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں نسبتاً سکون کے باعث مذاکرات میں محدود پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم لبنانی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی مذاکرات میں لبنانی معاملہ شامل ہونے سے بیروت کی اپنی ترجیحات متاثر ہو سکتی ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملے جاری
بیروت، اسرائیل جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج مقبوضہ علاقوں سے واپس نہیں جائے گی۔
الجزیرہ کے مطابق لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی تازہ حملوں میں اپنے گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید اور 1 زخمی ہوا ہے۔
دوسری جانب بحرین میں ہونے والے اجلاس کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اور خلیجی اتحادیوں نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر ایران کی کسی بھی قسم کی فیس یا پابندی کو مسترد کر دیا ہے۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
خلیجی ملک چاہتے ہیں ایران سے مذاکرات پر اعتماد میں لیا جائے: امریکہ
واشنگٹن، امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے ایران کو آبنائے ہرمز سے فیس وصولی پر وارننگ دے دی۔
خلیج تعاون کونسل وزرائےخارجہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ٹول یا فیس قبول نہیں، ایران کو رقم منتقل کی ہے اور نہ تعمیرنو کا منصوبہ ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اچھی ملاقاتیں ہوئیں جن میں خدشات پربات ہوئی، خلیجی ملک چاہتے ہیں ایران سے مذاکرات میں انہیں اعتماد میں لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارتی عمل میں انہیں شامل کریں گے عمان سے تعلقات ٹھیک ہیں، عمان بھی ٹول کے حق میں نہیں۔ اجلاس میں مارکوروبیو نے کہا کہ امریکہ خلیجی اتحادیوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں ہوتیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ پاسداران انقلاب کے ساتھ براہ راست چینل قائم کرنے پر متفق
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران تنازعات کو کم کرنے کے لیے دوحہ میں براہ راست آئی آر جی سی چینل استعمال کریں گے۔
نائب صدر نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران نے مزید تنازع کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہ راست چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ برطانوی دائیں بازو کی نیوز سائٹ UnHerd کے ساتھ ایک انٹرویو میں، جے دی وینس نے کہا کہ اس انتظام میں دوحہ میں ایرانی اور امریکی فوجی حکام کی ملاقاتیں شامل ہوں گی تاکہ تنازعات کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے ایرانی حکام سے بات چیت کو ٹھیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئی آر جی سی سے کسی کو دوحہ میں امریکی سینٹرل کمانڈ] کے کسی کے ملنے کے لیے بھیجیں گے’ اور اس طرح ہم ان تنازعات کو حل کرنے جا رہے ہیں۔
وینس نے یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ایسے چینل کھولے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے، بشمول آئی آر جی سی کے ساتھ۔۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
تازہ ترین4 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان2 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا4 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا1 week agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی








































































































