دنیا
اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا ہوگا: نیتن یاہو
تل ابیب، پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے ناخوش اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کا امریکی فوجی امداد پر انحصار کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ایک بار پھر اپنے ملک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی خودمختاری میں اضافہ کرے اور امریکہ کی فوجی امداد پر انحصار کم کرے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک تربیتی کورس کے دوران ریزرو افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے امریکی دوستوں سے ملنے والی فوجی امداد کی دل سے تعریف کرتا ہوں، لیکن ہمیں اس انحصار سے آزاد ہونے اور اپنا آزادانہ اسلحہ سازی کا نیٹ ورک بنانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کا مذکورہ بیان 18 جون کو اُس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے ابتدائی معاہدے ہوا، اسرائیل میں اس معاہدے کے خلاف شدید مخالفت کی گئی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنے آزاد اسلحہ سازی کے نیٹ ورک کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ہتھیار خود تیار کرنے چاہییں۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے اعداد و شمار کے مطابق 1948 سے اسرائیل نے 300 بلین ڈالر سے زیادہ کی امریکی اقتصادی اور فوجی امداد حاصل کی ہے جو کہ 1946 کے بعد سے کسی بھی دوسرے ملک کو ملنے والی امداد سے کہیں زیادہ ہے۔
2016 میں دستخط کیے گئے اور 2019 سے نافذ العمل ایک معاہدے کے تحت اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری کیلیے مالی امداد ملتی ہے جو کہ اس کے دفاعی بجٹ کا تقریباً 15 فیصد ہے۔ یہ معاہدہ 2028 تک لاگو رہے گا۔ نیتن یاہو اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی فوجی امداد پر اسرائیل کا انحصار ختم کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اسرائیل کا سب سے قریبی اتحادی ہے، لیکن 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل کی جنگی حکمت عملی پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے خلاف جنگ میں نیٹو نے مایوس کیا، یورپ نے بھی ساتھ نہیں دیا: امریکی صدر
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدے کے نتیجے میں بہت بڑی رعایتیں دے رہا ہے اور امریکہ جیت رہا ہے۔
نیٹو چیف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو نے ایران کےخلاف جنگ میں ہمیں مایوس کیا، ایران کے خلاف جنگ میں یورپ نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا، میں ایران کے معاملے پربرطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی سے مایوس ہوں۔
سینیٹ روانگی سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کی کسی وضاحت کے کہا کہ چیزیں بہت اچھی طرح سے چل رہی ہیں اور ہم ایران سے جنگ جیت رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے امریکہ سے آبنائے ہُرمُز سے کوئی ٹول ٹیکس نہ لینے کا کہا ہے، اگر یہ ’’فیک نیوز‘‘ ہے تو مذاکرات فوری ختم سمجھیں۔
ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر جلی حروف میں لکھا ’’آبنائے ہُرمُز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران نہ ٹول ٹیکس، نہ انشورنس کی رقم اور نہ کسی اور مد میں کوئی رقم مانگے گا اور نہ وصول کرے گا‘‘ ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس کے منجمد اثاثوں میں سے کوئی فنڈز ریلیز کرنے کی بھی تردید کرتےہوئے کہا کہ ایران امریکی کسانوں سے خوراک خریدے، خوراک کی ادائیگی منجمد اثاثوں میں سے ہوگی۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہاہے کہ ایران سے رابطے کے بغیر آبنائے ہرمزکے لیے کسی بھی نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول اور انتہائی خطرناک ہے۔
پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ صرف ان مخصوص روٹس کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ایران نے باقاعدہ طور پر مقرر کیے ہیں۔ ایرانی پاسداران نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے، ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
واشنگٹن، ٹرمپ انتظامیہ نے ترکیہ کو 750 ملین ڈالر مالیت کے ایف 110 جیٹ انجن فروخت کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق، انتظامیہ نے جنرل الیکٹرک کے تیار کردہ ان انجنوں کی فروخت جاری رکھنے کے اپنے ارادے سے کانگریس کو آگاہ کر دیا ہے جو ترکیہ کے پہلے مقامی جنگی طیارے کان کو قوت فراہم کریں گے۔
انتظامیہ نے صدر رجب طیب ایردوان کو “خطے میں ایک اہم شراکت دار” قرار دیا ہے۔ اس اقدام کو اگلے ماہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ترکیہ کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت اور خیر سگالی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر ایردوان سے ملاقات متوقع ہے۔
توقع ہے کہ اس فروخت کے معاملے کو آنے والے دنوں میں حتمی شکل دے دی جائے گی، جس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کیا جائے گا۔ بدھ کے روز جب ٹرمپ سے انقرہ کی جانب سے ایف-35 جنگی طیاروں اور جیٹ انجنوں کے مطالبے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جو ترکیہ کو بہت خوش کر دے گا۔ صدر ٹرمپ 7 اور 8 جولائی کو ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ پہنچیں گے جہاں ان کی صدر ایردوان سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 2019 میں ترکیہ کی جانب سے روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر اعتراض کرتے ہوئے انقرہ کو F-35 جنگی طیاروں کے پروگرام سے نکال دیا تھا۔
واشنگٹن کا موقف تھا کہ S-400 نظام F-35 طیاروں کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالے گا اور یہ نیٹو کے اصولوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یہ قبول نہیں کرینگے کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو: مارکو روبیو
واشنگٹن، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، اس آبی گزرگاہ سے کوئی بھی ملک ٹیکس وصول نہیں کر سکتا۔
بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزر لینڈ جائیں گی جہاں ایران سے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق بات کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسا پائیدار امن چاہتے ہیں جو حقیقی ہو اور ہماری اور ہمارے اتحادیوں کی سیکیورٹی اور خوش حالی کو نقصان نہ پہنچاتا ہو، ہم یقینی بنائیں گے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہ ہو جو ہمارے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف ہو۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہمارے اتحادیوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے، امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے کو کامیاب کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، ہم یہ قبول نہیں کریں گے کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں، مگر کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں چاہتے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا سے ایم او یو پر واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایم او یو سے متعلق امریکا کے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اسماعیل بقائی کے مطابق ایسے بیانات ایرانی عوام کے عدم اعتماد کو کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکا کو ایم او یو کے واضح متن کے منافی تشریحات سے گریز کرنا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
تازہ ترین3 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان1 week ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا1 week agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
دنیا1 week agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoمجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں: ٹرمپ
ہندوستان1 week ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
دنیا6 days agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا7 days agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا3 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں







































































































