جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے : کرن سنگھ
سری نگر، جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست کرن سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے “بھیک نہیں مانگنی چاہئے”، کیونکہ مرکز کی حکومت پہلے ہی اس کی بحالی کا وعدہ کر چکی ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب مذاکرے کے پروگرام کے علاوہ نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ “میں اس وقت ریاست کا سربراہ تھا۔ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل ریاست تھا۔” انہوں نے ریاست کا درجہ بحال کیے جانے کی اہمیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ “میرا ماننا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہئے۔ حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اسے بحال کرے گی۔ ہم ملک کی سب سے بڑی ریاست تھے۔ ہمیں اس کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے۔ انہیں یہ دینا ہی ہوگا۔ وہ اسے کب دیتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔”
واضح رہے کہ کرن سنگھ نے ریاست کے سربراہ کے طور پر سال 1957 میں جموں و کشمیر کے آئین پر دستخط کئے تھے۔
مسٹر سنگھ نے امن اور اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے اور جموں و کشمیر کے خطوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “میرا پیغام ہے کہ ہم آہنگی بنائے رکھیں۔ جموں اور کشمیر کے درمیان جو تعلقات کبھی کبھی نازک ہو جاتے ہیں، انہیں مضبوط بنائے رکھنا چاہئے، تاکہ ہماری ریاست ترقی کرے، پورے ہندوستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بین المذاہب مذاکرہ ہندوستان کا اتحاد بنائے رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اسے جموں و کشمیر میں بھی فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل صرف جموں و کشمیر ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے اہم ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ “یہ پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ اگر فرقہ واریت اور تقسیم بڑھے گی تو ملک بھی تقسیم ہوگا۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔”
بین المذاہب مذاکرے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات اور عقائد کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “اس بین المذاہب مذاکرے کا مقصد یہی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسا جموں و کشمیر میں بھی ہونا چاہئے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
شری امرناتھ یاترا کے 5300 سے زیادہ تیرتھ یاتریوں کا نیا جتھہ جموں سے ہوا روانہ
جموں، شری امرناتھ یاترا کے 5300 سے زیادہ تیرتھ یاتریوں کا ایک نیا جتھہ منگل کو جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس بیس کیمپ سے جنوبی کشمیر ہمالیہ میں واقع گپھا مندر کے دو بیس کیمپوں کے لیے سخت سکیورٹی کے درمیان روانہ ہوا۔
اہلکاروں نے بتایا کہ 5335 تیرتھ یاتری آج صبح 232 ہلکی اور بھاری گاڑیوں کے قافلے میں بیس کیمپ سے روانہ ہوئے۔ اس جتھے میں 1736 تیرتھ یاتری بالتال بیس کیمپ اور 3599 تیرتھ یاتری پہلگام بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوئے۔ تیرتھ یاتری کئی سطحوں والی سکیورٹی کے درمیان روانہ ہوئے؛ یاترا محفوظ اور پرامن طریقے سے مکمل ہو، اس کے لیے سول ایڈمنسٹریشن، پولیس، سکیورٹی فورسز اور شری امرناتھ شرائن بورڈ نے مل کر انتظام کیا تھا۔
واضح رہے کہ یاترا کے پہلے آٹھ دنوں میں ملک کے الگ الگ حصوں سے 2.5 لاکھ سے زیادہ تیرتھ یاتریوں نے گپھا مندر کے درشن کیے ہیں۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے تیرتھ یاتریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کنفرم رجسٹریشن ملنے اور اپنی طے شدہ یاترا کی تاریخ پر ہی یاترا کریں، کیونکہ بغیر رجسٹریشن والے کسی بھی تیرتھ یاتری کو بیس کیمپ تک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 2 جون کو جموں سے یاترا کے پہلے جتھے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
11 دھوکہ دہی کے مقدمات میں مطلوب ملزم گرفتار، سینٹرل جیل سرینگر منتقل
سرینگر، اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے سرکاری ملازمت دلانے کے نام پر مبینہ فراڈ، جعلسازی اور دھوکہ دہی کے 11 مقدمات میں مطلوب ایک ملزم کو برسوں تک گرفتاری سے بچنے کے بعد گرفتار کر کے عدالتی احکامات کے تحت سینٹرل جیل سرینگر منتقل کر دیا ہے۔ای او ڈبلیو کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت عبدالمجید میر، ساکن لشتیال، کلاروس، ضلع کپواڑہ کے طور پر ہوئی ہے۔ اسے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سرینگر کی جانب سے جاری طویل عرصے سے زیرِ التوا وارنٹ کی تعمیل میں گرفتار کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ملزم کے خلاف 2015 میں کرائم برانچ کشمیر میں درج ایف آئی آر کے تحت دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ای او ڈبلیو کے مطابق عبدالمجید میر ایک عادی ملزم ہے اور اس کے خلاف کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرکاری ملازمتوں کے نام پر جعلسازی اور جعلی تقرری ناموں کے استعمال سے متعلق مجموعی طور پر 11 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے چار مقدمات زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ سات مقدمات میں چارج شیٹ متعلقہ عدالتوں میں پیش کی جا چکی ہے۔
اقتصادی جرائم ونگ نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں بھیجنے کے احکامات صادر کیے گئے، جس کے بعد اسے سینٹرل جیل سرینگر منتقل کر دیا گیا۔ای او ڈبلیو کے مطابق ملزم کے خلاف 2015 سے 2026 کے دوران کرائم برانچ کشمیر، ای او ڈبلیو کشمیر، میسومہ، کپواڑہ، پنتھا چوک اور لال بازار پولیس تھانوں میں مختلف ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔اقتصادی جرائم ونگ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سرکاری ملازمت دلانے کے جعلی وعدوں، فرضی تقرری ناموں اور روزگار سے متعلق ہر قسم کی دھوکہ دہی سے ہوشیار رہیں اور ایسی کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی پولیس تھانے یا کرائم برانچ کو دیں تاکہ بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کا بیان: 13 جولائی کو عائد پابندیاں وادی میں ‘معمول کے حالات’ کے حکومتی دعوؤں کو جھٹلاتی ہیں
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ 13 جولائی کو مزارِ شہداء، پرانے سرینگر جانے سے رہنماؤں کو روکنے کے لیے عائد کی گئی پابندیوں نے جموں و کشمیر میں معمول کے حالات کے حکومتی دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
نواۓ صبح میں واقع نیشنل کانفرنس کے ہیڈکوارٹر میں 13 جولائی 1931 کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مزارِ شہداء جانے سے روکنے کے فیصلے سے نیشنل کانفرنس نہیں بلکہ فیصلہ کرنے والے خود بے نقاب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت معمول کے حالات کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب امرناتھ یاترا کے لیے قومی شاہراہ بند کرنا اور مزارِ شہداء پر جانے سے روکنا اس دعوے کی نفی کرتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اگر انتظامیہ صرف تقریباً 150 نیشنل کانفرنس کارکنوں کے مزارِ شہداء جانے سے بھی خوفزدہ ہے تو یہ ان کی اپنی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
13 جولائی 1931 کے شہداء کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی قربانیوں کو فرقہ وارانہ نظر سے نہیں بلکہ تاریخی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ان کی جدوجہد برطانوی بالادستی کے خلاف، جمہوری حقوق اور آزادی کے لیے تھی، نہ کہ مذہبی بنیادوں پر۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہداء کی قربانیوں کو صرف اس لیے نظرانداز کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ مسلمان تھے، جبکہ اُس وقت کے مہاراجہ مسلمان نہیں تھے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ مزارِ شہداء پر عائد پابندیاں عارضی ہیں اور وہ جلد یا بدیر وہاں جا کر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر جنتر منتر میں نیشنل کانفرنس کے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق دہلی پولیس سے اجازت طلب کی ہے اور توقع ہے کہ منگل یا بدھ تک اس بارے میں جواب موصول ہو جائے گا۔
یو این آئی۔م ا ع
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا7 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا1 week agoشہید رہبرِ اعلیٰ نے سکھا دیا کہ ایران کا عظیم سرمایہ عوام و اتحاد ہے: ایرانی صدر
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری





































































































