ہندوستان
رام مندر ٹرسٹ نے عقیدت مندوں کی آستھا کے ساتھ کھلواڑ کیا: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ ایودھیا میں شری رام جنم بھومی مندر سے متعلق معاملات میں شروع سے ہی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن اب چڑھاوا اور چندہ کی چوری کا انکشاف ہونے سے کروڑوں عقیدت مندوں کی آستھا کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
کانگریس کے ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شری رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے لیے تشکیل دیے گئے ٹرسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ لوگوں کو شامل کیا گیا۔ ٹرسٹ نے مالیاتی جانچ پڑتال کے لیے ایجنسیاں مقرر کی تھیں، جنہوں نے کئی تجاویز دیں، لیکن ٹرسٹ نے انہیں نظر انداز کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مبینہ چوری کے معاملات سامنے آنے لگے اور مندر کے کیش کاؤنٹنگ ایجنٹ مہیپال سنگھ نے کئی حقائق عام کیے تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے بعد جیسے جیسے مزید انکشافات ہونے لگے، مندر کے احاطے سے سی سی ٹی وی کیمرے ہٹا دیے گئے اور ان کی ریکارڈنگ ڈیلیٹ کر دی گئی۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ کے بعد کچھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، لیکن اس میں صرف چھوٹے ملازمین کے نام شامل کیے گئے۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹ کے رکن انل مشرا کے استعفیٰ کی خبریں ہیں، حالانکہ بعد میں کہا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ شری رام جنم بھومی پر تعمیراتی کام شروع ہونے کے ساتھ ہی زمین کی خریداری میں بدعنوانی کے الزامات لگے تھے۔ حکومت نے انکوائری کرانے کی بات کہی تھی، لیکن اس انکوائری کا نتیجہ آج تک سامنے نہیں آیا۔ اس کے بعد مندر کی تعمیر میں بدعنوانی اور اب چڑھاوا چوری کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں چمپت رائے نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئی قابلِ ذکر گڑبڑ نہیں ہوئی ہے، لیکن جیسے جیسے معاملہ کھلتا گیا، ٹرسٹ کے ہی ایک سینئر رکن نے اسے بدعنوانی نہیں بلکہ ‘ڈاکہ’ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کروڑوں ہندستانیوں نے بھگوان شری رام کے مندر کی تعمیر کے لیے عقیدت اور یقین کے ساتھ عطیہ دیا، لیکن ٹرسٹ سے جڑے لوگوں نے عقیدت مندوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا اور جم کر لوٹ کی۔
کانگریس نے کہا کہ وہ پہلے سے ہی ٹرسٹ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتی رہی ہے، لیکن اس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ پارٹی نے پوچھا کہ اتنے بڑے معاملے پر مسٹر مودی خاموش کیوں ہیں اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرا کر خاطیوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
خصوصی مہم میں چھ ہزار کروڑ روپے کی منشیات تلف کرنے کا ہدف : شاہ
نئی دہلی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو یہاں نارکو کوآرڈینیشن سینٹر کی دسویں اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور “منشیات کنٹرول پر وژن دستاویز (2026-2029)” اور “این سی بی کی سالانہ رپورٹ-2025” کا اجراء کیا اور جموں و گوہاٹی میں نیشنل ریکارڈ بیورو کے علاقائی دفاتر کا ای-افتتاح کیا۔
مسٹر شاہ نے ‘آن لائن ڈرگز ڈسپوزل فورٹ نائٹ کمپین’ کا آغاز بھی کیا جس میں 6,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 2,09,500 کلو گرام نشہ آوراشیا تلف کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، “ملک نارکوٹکس کے خلاف لڑائی کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آنے والے تین سال یہ طے کریں گے کہ نشہ ہم پر فتح حاصل کرے گا یا ہم نشے پر فتح حاصل کریں گے۔ ملک کے آنے والے 100 سال کے مستقبل کے لیے یہ لڑائی ہمیں مضبوطی کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے جیتنی چاہیے۔ یہ لڑائی کوئی ایک محکمہ، ریاست، حکومت یا فرد نہیں لڑ سکتا بلکہ اس کے لیے تمام ریاستوں اور ان کے متعلقہ محکموں کو ایک ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔”
مہم میں سب کی شرکت کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “اس لڑائی میں ہمیں عوام کو ترغیب دینے والے سنتوں، ملک کا مستقبل طے کرنے والے نوجوانوں اور ہماری ماتر شکتی (خواتین) کو بھی جوڑنا ہوگا، تبھی اس لڑائی میں ہم پوری طرح کامیاب ہو سکیں گے۔ منشیات کا مسئلہ صرف امن و امان اور عوامی صحت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی اندرونی سلامتی، سماجی استحکام، اقتصادی مفادات کے تحفظ اور ہماری نوجوان نسل اور اس کے ذریعے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر مکمل فتح حاصل کرنا ہندستان کی تمام ریاستوں کا ایک اجتماعی ہدف ہونا چاہیے۔” وزیر داخلہ نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، نارکو ٹیرر فنانس اور سرحد پار کے دہشت گرد نیٹ ورکس کی فنانسنگ کے ساتھ یہ مسئلہ ایک ابھرتا ہوا نارکو دہشت گردی کا نظام بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی، معیشت اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہمیں اس پر مکمل فتح حاصل کرنی ہی ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ہم ڈیتھ ٹرائینگل اور ڈیتھ کریسنٹ کے درمیان ہیں اور ڈرون پر مبنی ڈراپس، سمندری راستوں سے کنٹینرائزڈ کارگو، ڈارک نیٹ، کرپٹو پیمنٹ، آرڈر ٹو ڈیلیوری ماڈل، پارسل کا استعمال وغیرہ جیسے طریقوں سے منشیات کا کاروبار کرنے والوں نے ہماری لڑائی کو اور زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ نارکو مجرم ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر نیٹ ورک پر مبنی بن چکے ہیں اور ملٹی ڈومین جرائم کی شکل میں آج ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ اس مشکل لڑائی کے تئیں ہمارا ردعمل بھی اجتماعی اور منظم، روڈ میپ پر مبنی اور جدید اور انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہمارا نقطہ نظر ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا چاہیے اور ہمیں سخت موقف کے ساتھ نیٹ ورک سینٹرک لڑائی لڑنی ہوگی تبھی ہم اس مسئلے کے خلاف فتح حاصل کر سکتے ہیں۔”
مسٹر شاہ نے کہا کہ 2004 سے 2014 تک 40000 کروڑ روپے کی مالیت کی 26 لاکھ کلو گرام سنتھیٹک ڈرگز ضبط کی گئی تھیں جبکہ 2014 سے 2026 تک 1 لاکھ 84 ہزار کروڑ روپے مالیت کی ایک کروڑ 18 لاکھ کلو گرام منشیات ضبط کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی مہم کامیابی کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا، “اگر ہم اس لڑائی کو مل کر اور متحد ہو کر لڑتے ہیں تو یقیناً فتح ہماری ہوگی۔ تین سال کے اندر ہم ہندستان میں نشہ آوراشیا کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی سمت میں بہت آگے نکل جائیں گے۔ ان تین سال میں ہم سب ایک ہدف طے کر کے اجتماعی کوششوں سے محنت کریں، وقت کی حد اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ ہدف مقرر کریں تو ہماری جیت یقینی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا ایم پی مسٹر رندیپ سنگھ سرجیوالا نے یکم جولائی سے نافذ ہونے والے پاسپورٹ فیس میں اضافے پر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور اسے عام لوگوں پر ‘مہنگائی کی نئی قسط’ قرار دیا ہے جمعہ کو جاری ایک بیان میں مسٹر سرجیوالا نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے پاسپورٹ بنوانا 2,000 روپے تک مہنگا کر دیا ہے ان کے مطابق 36 صفحات والے نئے پاسپورٹ کی عام کیٹیگری کی فیس 1,500 روپے سے بڑھا کر 2,500 روپے اور تتکال (فوری) کیٹیگری کی فیس 3,500 روپے سے بڑھا کر 5,000 روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح 60 صفحات والے پاسپورٹ کی عام فیس 2,000 روپے سے بڑھا کر 3,500 روپے اور تتکال فیس 4,000 روپے سے بڑھا کر 6,000 روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گمشدہ یا خراب شدہ پاسپورٹ کو دوبارہ بنوانے، نابالغوں کے پاسپورٹ، پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ (پی سی سی)، سرٹیفکیٹ آف آئیڈنٹٹی اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی فیس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ ان فیس میں اضافے سے عام شہریوں، طلبہ اور بیرون ملک جانے کی تیاری کر رہے نوجوانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے وزارتِ خارجہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سال 2014 سے 2024 کے آخر تک 17.10 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی شہری اپنی شہریت چھوڑ چکے ہیں، جب کہ ہندوستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی 75 ویں نمبر پر ہے۔ مسٹر سرجیوالا نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت عوام کو راحت دینے کی بجائے مسلسل مالی بوجھ بڑھانے والی پالیسیاں اپنا رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
موجودہ وقت میں منقسم دنیا ایک حقیقت، استحکام اور سلامتی کے لیے باہمی تعاون ضروری: جے شنکر
نئی دہلی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منقسم دنیا کو موجودہ وقت کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اجارہ داری کم ہو سکتی ہے اور مواقع وسیع ہو سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ استحکام، کارکردگی اور سلامتی کے لیے اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون ضروری ہے مسٹر جے شنکر نے جمعرات کو جنوبی کوریا میں جیجو امن اور خوشحالی فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا انضمام اور تقسیم کے ایک پیچیدہ مرکب کا تجربہ کر رہی ہے، جسے سپلائی چینز، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور وبائی امراض، دہشت گردی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے سرحد پار چیلنجز متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اسٹریٹجک مقابلہ تجارت، ٹیکنالوجی، مالیات اور کنیکٹیویٹی کے نظام کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے، جبکہ سیاسی دباؤ اور تحفظ پسند رجحانات عالمگیریت کو کمزور کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے دہشت گردی پر “دوہرے معیار”، موسمیاتی کارروائی پر “کھوکھلے وعدوں” اور ترقی پذیر ممالک کی صنعت کاری اور مارکیٹ تک رسائی کو محدود کرنے والی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔ ہتھیاروں سے لیس ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحان، زیادہ خطرہ مول لینے کے رجحان اور تیز ہوتی ہوئی جیو پولیٹیکل مسابقت سے خبردار کرتے ہوئے مسٹر جے شنکر نے کہا کہ جب بڑی طاقتیں تنگ نظری پر مبنی مفادات کا تعاقب کرتی ہیں، تب ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے اخراجات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
منقسم دنیا میں تعاون کی نئی تشریح کے لیے انہوں نے پانچ ترجیحات تجویز کیں جن میں سپلائی چینز کا تنوع، بااثر ممالک کے درمیان نئی شراکت داریوں کا قیام، بین الاقوامی قانون اور اداروں کو مضبوط کرنا، گلوبل ساؤتھ کے لیے مواقع کو وسعت دینا اور اصلاح شدہ کثیر جہتی کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ مسٹر جے شنکر نے جہاز سازی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچے اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ہندوستان–جنوبی کوریا تعاون کو مزید گہرا بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دوطرفہ تعلقات عالمی استحکام اور ترقی میں تعاون فراہم کریں گے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان1 week ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
ہندوستان3 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین5 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا5 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا5 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تازہ ترین5 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا5 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی





































































































