ہندوستان
اقتدار میں حصہ داری کے بغیر فرقہ پرستی کا خاتمہ نہیں ہے ممکن: ڈاکٹر ایوب سرجن

پرتاپ گڑھ، آزادی کے بعد سے ہندوستانی مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کی اذیتیں برداشت کر رہا ہے، اور ان کے ووٹ حاصل کر اقتدار میں آنے والی نام نہاد سیکولر پارٹیاں خاموش تماشائی نظر آتی ہیں، اگر مسلم سماج نے آج اپنی قیادت کو ترجیح دی ہوتی تو وہ اقتدار میں حصہ دار ہوتی تو فرقہ پرست طاقتوں کی ہمت نہیں تھی کی وہ ان کا استحصال کرتی ۔اقتدار میں حصہ داری کے بغیر فرقہ پرست طاقتوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہے، اس لئے اس پارلیمانی انتخاب میں اپنی قیادت کو ترجیح دے کر فرقہ پرستی کے عذاب سے نجات کی راہ ہموار بنائیں ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی پر تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ پیس پارٹی روز اول سے یہ کہہ رہی ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کی ہمدرد نہیں ہیں، بلکہ وہ ووٹ لینے کے لئے زبانی ہمدردی دکھاتی ہیں ،جس کا ثبوت کانگریس ،سماج وادی پارٹی و بی ایس پی کا اقتدار ہے، جہاں ان کے اقتدار میں فرقہ پرست طاقتوں نے مسلمانوں کا کھلے عام نشانہ بنایا ،اور زیر اقتدار نام نہاد سیکولر پارٹیاں خاموش تماشائی نظر آئی ، وہیں کانگریس کے زیر اقتدار تو فرقہ پرست طاقتیں مزید سرگرم رہیں ،اور جو چاہا وہ کیا ،اور ان کے اقتدار میں پولیس انتظامیہ بھی فرقہ پرستوں کے زیر اثر رہی ،اس لئے فرقہ پرستوں پر قانونی کارروائی نہیں ہوتی تھی، جبکہ سماج وادی پارٹی کے زیر اقتدار فرقہ پرست طاقتوں نے جو چاہا کیا۔ جبکہ بی ایس پی کے اقتدار میں معصوم مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل بھیجا گیا،پھر بھی مسلم سماج نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتا آرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں و بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے ،اس لئے مسلمان سوچ سمجھ کر اس مرتبہ ووٹ کرے،جس سے اقتدار میں حصہ داری کی راہ ہموار ہو سکے ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ پیس پارٹی کے امیدوار جہاں انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، وہیں انہیں ووٹ دے کر کامیاب بنائیں ۔پیس پارٹی ہی مسلمانوں کے حقوق کی آواز اٹھانے والی واحد پارٹی ہے ۔
یواین آئی ع کریم خاں
ہندوستان
سی جے پی نے پردھان کے استعفے کا کیا استقبال، مطالبات پر تحریری یقین دہانی ملنے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے اعلان کا استقبال کیا ہے لیکن کہا ہے کہ طالبہ کی تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
سی جے پی کے رہنماؤں نے ہفتہ کو یہاں جنتر منتر پر بڑی تعداد میں موجود طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علموں کے تین اہم مطالبات پر جب تک تحریری یقین دہانی نہیں ملتی ہے، تب تک تحریک جاری رہے گی۔ طالب علموں سے خطاب کرنے والوں میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے، ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا شامل تھے۔
سی جے پی کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان کل ہوئی بات چیت میں وفد کی طرف سے تین مطالبات رکھے گئے تھے۔ ان میں مسٹر پردھان کا استعفیٰ، نیٹ پیپر لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے کی امدادی رقم نیز تحریک چلانے والے طالب علموں کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آرز واپس لینے کا مطالبہ شامل ہے۔
آخری دو مطالبات پر حکومت کی طرف سے مثبت ردِعمل دیا گیا تھا، لیکن مسٹر پردھان کے استعفے کے بارے میں فیصلے کے لیے آج دوپہر تک بتانے کو کہا گیا تھا۔ حکومت کی طرف سے بات چیت میں مرکزی وزیر جے پی نڈا نیز جتیندر سنگھ شامل ہوئے تھے۔
طلبہ کا جنتر منتر پر مظاہرہ اور دھرنا گزشتہ 20 جون سے چل رہا ہے اور اس کے بعد ملک کے کئی دیگر حصوں میں بھی طالب علم مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طالب علموں کی جیت: پرینکا
نئی دہلی، کانگریس جنرل سکریٹری اور کیرالہ کے وائناڈ سے رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طالب علموں کی جدوجہد کی جیت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نے شروع سے طالب علموں کا مضبوطی سے ساتھ دیا اور تعلیمی نظام میں سدھار کی اس کی لڑائی جاری رہے گی۔
محترمہ واڈرا کا وائناڈ میں صحافیوں کے سوال پر دیے گئے جواب کو پارٹی نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ کیا جس میں محترمہ واڈرا کہتی ہیں “راہل گاندھی پچھلے دو تین سال سے مسلسل سوالنامہ لیک اور امتحانی سدھار کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر پوری کانگریس تنظیم، این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس کو طالب علموں کے حقوق نیز تعلیمی نظام میں اصلاح کے لیے ملک گیر تحریک کھڑی کرنے کی ترغیب دی۔”
انہوں نے کہا “میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کی خبر سن کر جذباتی ہو گئی۔ کئی سال سے سوچتی تھی کہ ملک کے نوجوان ناانصافی کے خلاف کب متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔ آج ملک کے نوجوانوں نے اپنی طاقت دکھائی اور پیغام دیا ہے کہ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔” انہوں نے الزام لگایا کہ تعلیمی نظام میں نظریاتی مداخلت بڑھی ہے اور مخالفت کرنے والے طالب علموں کے ساتھ طاقت کا استعمال ہوا ہے لیکن اب نوجوانوں نے اپنی بات پورے ملک کے سامنے رکھ دی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
طالب علموں کے تینوں مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وزیرِ تعلیم کو ہٹانا ہی ہوگا: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ احتجاج کر رہے طالب علموں کے تینوں مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹانا ہی ہو گا۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو یہاں 10 جن پتھ کے باہر صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کو طالب علموں اور ملک کے مستقبل کے ساتھ ہوئے واقعہ کے لیے معافی مانگنی ہوگی۔ انہوں نے کہا “طلبا کا پہلا مطالبہ بدعنوان ، نااہل اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام وزیرِ تعلیم کو برطرف کرنا ہے۔ انہیں وزارتِ تعلیم سے ہٹا کر کسی دوسری وزارت میں بھیجے جانے کی بات چل رہی ہے لیکن یہ نہ تو طالب علموں کو قبول ہے اور نہ ہی ملک کے لوگوں کو۔”
انہوں نے کہا کہ مسٹر پردھان کرپشن نیز ملک کے طالب علموں اور ان کے مستقبل کے ساتھ ہوئے ناانصافی کی علامت بن چکے ہیں۔ اس لیے انہیں کسی دوسری وزارت میں بھیجنے کی نہیں، بلکہ عہدے سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والے نیز اس کی منصوبہ بندی کرنے اور اسے نافذ کرنے والے تمام لوگوں کو سزا دی جائے اور انہیں جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک کے دوران ایک طالبہ زخمی ہوئی ہے، جبکہ ایک طالب علم کی آنکھ میں گولی لگی۔ اس کے علاوہ ہزاروں طالب علموں کے سر اور پیروں پر لاٹھیاں برسی ہیں نیز کئی کے جسم میں چھرے لگے۔ ان تمام واقعات کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ اس پورے نظام کے سربراہ ہونے کے ناطے مسٹر مودی طالب علموں اور ملک کے مستقبل کے ساتھ جو ہوا اس کے لیے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والے اس نظام سے طالب علموں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کی پوری طاقت بھی انہیں مظاہرے کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے مظاہرہ روکنے کی کوشش کرے، دھمکائے یا کوئی بھی دباؤ بنائے، اپوزیشن اور طالب علم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم ملک کا مستقبل ہیں اور ان سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کہا، “مسٹر مودی ہندوستان کا ماضی ہیں اور ماضی کبھی مستقبل سے نہیں لڑ سکتا۔”
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا1 week agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
دنیا1 week agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان1 week agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا1 week agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے ایران مذاکرات سے متعلق مالی فائدے کے الزامات مسترد کر دیے
دنیا1 week agoمجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، امریکی صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کی عرب ممالک کو سخت دھمکی، اونٹوں کے دور میں واپس پہنچا دیں گے

































































































