اداریہ
اگر سرما میں ٹیوشن سنٹر چل سکتے ہیں تو اسکول کیوں نہیں؟

اداریہ:
پانچ اگست سے وادی کے لگ بھگ 1.5 ملین بچے اسکولوں کے بند ہونے سے پڑھائی سے تین ماہ تک محروم رہے اور اسکے بعد انتظامیہ نے ان بچوں کے سالانہ امتحانات لینے کا اعلان کر دیا ۔اب جبکہ یہ امتحانات دس نومبر تک اختتام پذیر ہو جائے گے ۔ اور اسکے بعد دسویں اور بارہویں جماعت کے طلاب بے صبری سے اپنے نتائج کا انتظار کریں گے وہیں دسویں اور بارہویں جماعتوں میں اگلے سال داخلہ لینے والوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے طلاب امتحانات کے بعد نجی ٹیوشن سنٹرس کا رخ کریں گے ، تاکہ وہ سال کے آخر تک اپنا نصاب مکمل کر سکے ۔ اور اسی غرض سے آجکل اخبارات ان اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں ۔ مالدار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچے تو ان ٹیوشن سنٹرو ں تک رسائی آسانی سے تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن دوسری جانب غیریب طلبہ و طالبات ان اداروں میں نہیں جا پاتے اور اس طرح سے پیشتر کے یہ تین ماہ ضائع چلے جاتے ہیں یا پھر مزدوری کےلئے چلے جاتے ہیں ، جس سے ان بہت سارے بچوں کا ہاتھ میں پیسہ آکر پڑھائی سے دل اٹھ جاتا ہے ۔
کشمیر میں ہڑتالوں اور خراب حالات کی وجہ سے ہر سال بچوں کے کئی ماہ ضائع ہو جاتے ،جس سے غریب بچے تو اپنا نصاب مکمل نہیں کر پاتے وہیں مالدار گھرانوں کے بچے ٹیوشن کا سہارا لیتے ہیں ۔اور ان بچوں کو ٹیوشن دینے والے بیشتر سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ کشمیر میں سرما میں تین ماہ سے زائد وقت کےلئے اسکولوں کے بند رہنے کی بنیادی وجہ برفباری یا سردی ہوتی ہے ۔ سرینگر شہر کو چھوڑ کر باقی اضلاع اور دیہات میں سرما میں یہ دیکھا جا سکتا ہے طلاب ۸ کلو میٹر سے زائد کی مسافت بھی پیدل ہی طے کر کے ٹیوشن مراکز پہنچ جاتے ہیں ،جہاں انہیں دیہات میں زیادہ تر وہیں اساتذہ پڑھاتے ہیں جو مارچ میں انہیں اسکول میں پڑھائے گے ۔ ان ٹیوشن مراکز میں اگر کچھ زیادہ دیکھی جاتی ہے تو وہ گرما کا معقول انتظام ہے۔
امسال دسویں اوربارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات میںایک لاکھ 13ہزارطلباءو طالبات شامل ہوئے ہیں ، اور ان سے بطورمقررہ امتحانی فیس کل ملاکر10کروڑروپے بورڈآف اسکول ایجوکیشن کے بینک کھاتے میں جمع ہوئی ۔ اسکے علاوہ گیارویں ، آٹھویں اور نویں جماعت کی فیس کی آمدنی الگ ہے۔اتنی آمدنی ہونے کے باوجود کیا بورڈ سرما میں بھی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے اسکولی کمروں میں کھڑکیوں کے لفافے اور گیس ہیٹر دستیاب نہیں رکھ سکتے ۔اور اساتذہ جو ان ماہ میں مفت ایک طرف مفت کی تنخواہ لے رہے ہیں وہیں دوسری طرف ٹیوشن بھی پڑھاتے ہیں ،کیا وہ اسکول ایسے ہی سرما میں بھی نہیں آسکتے ۔
وہیں چھوٹی جماعتوں کے کم عمر اسکولی بچوں کے لئے ایسا بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان کے گاﺅں میں نزدیکی اسکولی اساتذہ گھروں گھروں میں بھی مفت پڑھا سکتے ہیں ۔
ایسے اقدام سے کئی مثبت چیزیں سامنے آئیں گی ، پہلی یہ کہ غریب طلاب کا وقت ضائع نہیں ہو گا اور وہ ان کا تعلق پڑھائی کےساتھ برقرار رہے گا ، دوسری یہ چیز کہ کشمیر میں خراب حالات کی وجہ سے طلاب جو اپنا نصاب مکمل نہیں کر پاتے جب وہ دسمبر ۔ جنوری میں ہی اپنا سکولی سیشن شروع کریں گے تو انکی یہ شکایت بھی دور ہو جائے گی ۔
کشمیر میں تعلیمی نظام کی بڑھتی نجی کاری کی بنیادی وجہ بھی سرکاری اسکولوں میں سہولیات کا فقدان ہونا ۔ جو نجی اسکولوں میں اپنے بچوں کا داخلہ کرا سکتے ہیں وہ تو کرا رہے ہیں لیکن غریب والدین مجبور ہیں ۔ سرکار کو چاہےے اس تعلیمی نظام کی طرف بھی دھیان دے ، آج تو یہ اسسکولی نظام انگلش میڈم اور گونمنٹ اسکول میں بٹ گیا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو آگے چل کر یہ امیر اسکول اور غریب اسکول میں بٹ جائے
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
ہندوستان7 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا7 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا7 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ہندوستان5 days agoمیرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم قتل کیس پر کھرگے کا بی جے پی پر شدید حملہ، کہا، حکومت دبا رہی ہے انصاف کی آواز
ہندوستان5 days agoاتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
دنیا5 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا



































































































