تازہ ترین
بائیڈن کا 2024 کے انتخابات میں ٹک ٹاک بلاگرز کو شامل کرنے کا منصوبہ

واشنگٹن، 10 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر جو بائیڈن نے 2024 کی صدارتی مہم میں دوبارہ انتخاب لڑنے کے اپنے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر حمایت حاصل کرنے کے لیے چین کے ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سینکڑوں متاثر کن لوگوں کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ایکسیوس نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
آؤٹ لیٹ کے مطابق، مسٹر بائیڈن نے ابھی تک دوبارہ انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نوجوان ووٹروں میں اپنی مقبولیت کو بڑھانے اور سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی فعال سوشل میڈیا مہم کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے سینکڑوں متاثر کن افراد پر انحصار کریں گے۔
ایکسیوس نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ خاص طور پرٹک ٹاک صارفین کی حمایت پر انحصار کرے گی جو کہ امریکہ میں اس ایپ پر چینی حکومت سے مبینہ تعلقات کی وجہ سے پابندی پر موجودہ بحث کے باوجود ہے۔
مسٹر بائیڈن کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف، جین او میلے ڈلن نے کہا: “ہم نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ ماؤں، موسمیاتی کارکنان، اور مختلف پلیٹ فارم استعمال کرنے والے لوگوں تک بھی۔” وہ تمام لوگ جن کی معلومات تک رسائی کا بنیادی طریقہ ڈیجیٹل ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں سے، ٹِک ٹاک امریکی قانون سازوں کی جانب سے ان خدشات کے باعث سخت جانچ پڑتال کا شکار ہے کہ کمپنی امریکہ میں 15 ملین صارفین کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے چینی حکومت کے حوالے کر سکتی ہے۔ مارچ کے اوائل میں، امریکی ہاؤس کمیٹی برائے خارجہ امور نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت امریکی حکومت کو ٹک ٹاک یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی کسی بھی غیر ملکی ایپ پر پابندی عائد کرنے کی اجازت ہوگی۔
یو ایس ہاؤس انرجی اینڈ کامرس کمیٹی نے 23 مارچ کو ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) شا زی چیو کی گواہی سننے کے لیے ایک سماعت کی۔ مسٹر چیو سے امریکی قانون سازوں نے پلیٹ فارم کے ڈیٹا پرائیویسی کے طریقوں اور چینی حکومت سے مبینہ تعلقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
مسٹر چیو نے امریکی صارف کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ٹک ٹاک کی کوششوں کے بارے میں بات کی اور ان دعوؤں کی تردید کی کہ پلیٹ فارم کی چینی حکومت کے ساتھ ملی بھگت ہے۔ تاہم امریکی قانون سازوں نے مسٹر چیو کے بیانات پر اب بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور پابندیوں کا مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر
لیفٹیننٹ گورنر کا جموں و کشمیر میں نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خاتمے کا عزم
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو منشیات کے نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ “نشہ سے پاک جموں و کشمیر مہم” کے 100 دن کی کامیاب تکمیل اس سنگین مسئلے کے خلاف ایک طویل جدوجہد کا محض آغاز ہے۔
مسٹر منوج سنہا نے سماجی بہبود محکمہ کی جانب سے مہم کے 100 دن مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس پیش رفت کو اہم قرار دیا، تاہم کہا کہ یہ مشن ابھی اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم ان منشیات کے نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ غیر قانونی اسمگلنگ کے نظام کا خاتمہ، عوامی بیداری میں اضافہ اور منشیات سے متاثرہ افراد کو بہتر بازآبادکاری کی سہولتیں فراہم کرکے انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید رکن بنانا ہماری بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جنہیں ہم مزید مضبوط بناتے رہیں گے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مہم کے ابتدائی 100 دنوں نے آگے کی مشکل جدوجہد کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
انہوں نے کہا، “آگے کا راستہ یقیناً دشوار ہوگا، لیکن نارکو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا ہمارا عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔”
منوج سنہا نے بتایا کہ 100 روزہ مہم کے دوران انہوں نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ہر حصے کا دورہ کیا اور 20 اضلاع میں پیدل مارچ کے ذریعے مقامی برادریوں سے رابطہ قائم کیا۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر
آرٹیکل 370 کی بحالی کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے سے نہ جوڑا جائے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے منگل کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں نیشنل کانفرنس کی جانب سے کیے گئے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مرکزی حکومت کو اس کے وعدے کی یاد دلانا تھا۔
قومی دارالحکومت میں نیشنل کانفرنس کی قیادت میں ہوئے احتجاج کے ایک روز بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کیے بغیر آرٹیکل 370 کی بحالی کی سمت بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔
انہوں نے اپیل کی کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کو آرٹیکل 370 کے معاملے سے نہ جوڑا جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے یہ تحریک کمزور پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “جس دن آپ ریاست کا درجہ اور آرٹیکل 370 کی بحالی کے مطالبے کو ایک ہی احتجاج میں ملا دیں گے، اسی دن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ریاست کا درجہ نہ دینے کا بہانہ مل جائے گا۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا، “آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں کہ موجودہ بی جے پی حکومت سے ہمیں آرٹیکل 370 واپس نہیں ملے گا۔ میں نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے عوام سے کہا ہے کہ وہ یہ توقع نہ رکھیں کہ جن لوگوں نے آرٹیکل 370 کو ختم کیا ہے، وہ اسے آسانی سے بحال بھی کر دیں گے۔ یہ حقیقت پسندانہ سوچ نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا، “ہمیں جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ یعنی آرٹیکل 370 ضرور واپس حاصل کرنا ہے، لیکن یہ اس حکومت سے ممکن نہیں ہوگا۔ البتہ کم از کم اسی حکومت سے ہمیں اس کی بنیاد یعنی ریاست کا درجہ ضرور حاصل ہو سکتا ہے۔
ریاست کا درجہ بحال ہوئے بغیر آرٹیکل 370 کی بحالی کا کوئی مطلب نہیں۔”
انہوں نے دلیل دی کہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ واپس دلانے کے لیے ریاست کا درجہ بحال ہونا آئینی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے پیر کے احتجاج میں شریک نہ ہونے پر جموں و کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا، “ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی تھی کیونکہ یہ صرف نیشنل کانفرنس کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کا مسئلہ تھا۔ ہمارے ساتھ آنے کے بجائے بعض جماعتوں نے اس پروگرام کا مذاق اڑایا اور اسے ناکام بنانے کی کوشش کی۔”
انہوں نے مزید کہا، “وہ ہم سے پہلے آرٹیکل 370 اور خصوصی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرنے کو کہتے ہیں، لیکن ریاست کا درجہ بحال ہوئے بغیر آرٹیکل 370 کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ریاستی فہرست نہیں ہوتی، تمام اختیارات مرکز کے پاس ہوتے ہیں۔ اس لیے ریاست کا درجہ نہ ہونے کی صورت میں مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان اختیارات کی کوئی بامعنی تقسیم ممکن نہیں۔”
ریاست کا درجہ بحال کرانے کی مہم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کا احتجاج کسی طویل سیاسی تحریک کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہم کے اگلے مرحلے اور اس کی حکمت عملی کا فیصلہ پارٹی صدر فاروق عبداللہ کی نگرانی میں تنظیمی سطح پر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی ریاست کا درجہ بحال کرانے کے مطالبے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی اور مرکزی حکومت کو اس کے وعدے کی مسلسل یاد دہانی کراتی رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ وعدہ جلد یا بدیر ضرور پورا ہوگا۔
دیگر سیاسی جماعتوں کی شرکت سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس متعلقہ جماعتوں کو دعوت تو دے سکتی ہے لیکن انہیں شریک ہونے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں بیک وقت جاری مختلف سیاسی احتجاج اور پابندیوں کے باعث بعض جماعتوں کو رسد سے متعلق مشکلات پیش آئیں، تاہم کانگریس، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کے رہنماؤں نے اس احتجاج کی حمایت کی، جبکہ کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے مقام تک نہیں پہنچ سکے۔
جموں و کشمیر کی سابق اسمبلی میں نیشنل کانفرنس حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے خودمختاری کے قرارداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت اس کی مخالفت علیحدگی پسند گروپوں اور مرکز دونوں نے کی تھی۔
انہوں نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا نام لیے بغیر اس پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سال 2000 میں خودمختاری کی قرارداد کے بعد جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی آواز کو کمزور کرنے کے لیے ایک نئی جماعت وجود میں لائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا، “اس وقت کی حکومت اسمبلی سے منظور شدہ خودمختاری کی قرارداد سے ناراض تھی۔ یہاں کے عوام کی آواز کو کمزور کرنے اور رائے عامہ کو تقسیم کرنے کے لیے 2000 میں ایک نئی جماعت تشکیل دی گئی۔”
انہوں نے مزید کہا، “نہ آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو آزادی ملی اور نہ پاکستان میں شامل ہونے کے خواہاں اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ 2000 میں وجود میں آنے والی جماعت آج بھی یہاں کے عوام کی آواز کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔”
عمر عبداللہ نے بی جے پی رہنما سنیل شرما کے اس بیان پر بھی تنقید کی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب بحال کیا جائے گا، اس کا فیصلہ سکیورٹی ایجنسیاں کریں گی۔
انہوں نے کہا، “اگر جموں و کشمیر کا مستقبل سکیورٹی ایجنسیاں ہی طے کریں گی تو بی جے پی کو سپریم کورٹ میں بھی یہی مؤقف اختیار کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ انتخابات کے بعد ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا جائے۔ سیاسی فیصلے سیاسی قیادت کو ہی کرنے چاہییں، نہ کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو۔”
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
فیشل ریکگنیشن سسٹم کی مدد سے اننت ناگ میں یو اے پی اے کا ایک اور ملزم گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو اننت ناگ میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک مقدمے میں مطلوب ایک اور ملزم کو فیشل ریکگنیشن سسٹم (ایف آر ایس) کی مدد سے گرفتار کر لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق شری امرناتھ یاترا کے راستے پر نصب فیشل ریکگنیشن سسٹم نے معمول کی سکیورٹی جانچ کے دوران ملزم کی شناخت کی۔ ویرسرن کے رہائشی دانش امین ریشی کو امرناتھ یاترا کے دوران لنگن بل میں سکیورٹی جانچ کے وقت روکا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ فیشل ریکگنیشن سسٹم کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ سے معلوم ہوا کہ وہ ایک سابقہ مجرمانہ مقدمے میں ملوث رہا ہے۔ مزید جانچ کے دوران پتہ چلا کہ وہ پہلگام پولیس تھانے میں یو اے پی اے کے تحت درج ایک ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہے، جس کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے اسے حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے کیے گئے کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کا حصہ ہے۔ یاترا کے دوران مطلوب افراد کی شناخت اور یاترا کے راستے پر سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے فیشل ریکگنیشن سسٹم (ایف آر ایس) جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا4 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا4 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا6 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا4 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا4 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
دنیا4 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان5 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا6 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی



































































































