تازہ ترین
بھاجپا ۔پی ڈی پی حکومت ٹوٹنے کے بعد بھی ممبران اسمبلی ہنوز سرکاری رہائش گاہوں پر قابص

خبر اردو:
ممبران اسمبلی اور سیاست دان ہنوز سرکاری رہائش گاہوں پر قابض ہیں جبکہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، حسیب درابو، الطاف بخاری، نعیم اختر ، پریا سیٹھی سمیت کئی سیاست دان سرکاری رہائش گاہوں سے دست بردار ہوئے ہیں۔ جموں وکشمیر میں پی ڈی پی، بی جے پی کی مخلوط حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے بعد سے اب تک مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ سیاست دان اورممبران اسمبلی ہنوز سرکاری رہائش گاہوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ 19جون 2018کو مخلوط حکومت کی جانب سے آخری ہچکی لینے کے بعد سے اب تک محکمہ اسٹیٹس کے تحت آنے والے سرکاری رہائش گاہوں اور ہوٹلوں میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ سیاست دان اور ممبران اسمبلی ہنور اپنا ڈھیرہ جمائے ہوئے ہیں۔ اگر چہ ضابطے کے تحت سیاست دانوں اور ممبران اسمبلی کو حکومت گرنے کے ساتھ ہی سرکاری رہائش گاہوں سے دستبردار ہونا چاہیے تھا تاہم ابھی بھی ایسے بے شمار سیاست دان اور ممبران اسمبلی سرکاری رہائش گاہوں پر قابض ہیں۔
محکمہ اسٹیٹس کے ڈائریکٹر تصدق جیلانی نے کہا کہ بہت سارے ممبران اسمبلی نے سرکاری رہائش گاہوہیں کردی ہیں تاہم ابھی بھی ایسے کئی ممبران اسمبلی اور سیاست دان باقی ہیں جنہوں نے سرکاری رہائش گاہوں کو ہنوز قبضے میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، حسیب درابو، الطاف بخاری، نعیم اخبر، پریا سیٹھی سمیت دیگر سیاست دانوں نے جموں میں قائم سرکاری رہائش گاہوہیں خالی کر دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مخلوط حکومت کے گرنے کے 2روز بعد ہی جموں میں قائم سرکاری رہائش گاہ کی چابیاں محکمہ اسٹیٹس کے حوالے کردی۔
انہوں نے بتایا کہ اگر چہ بہت سارے لوگوں نے سرکاری رہائش گاہوں سے دست برداری اختیار کی ہے تاہم ابھی بھی کچھ ایسے ممبران اسمبلی اور سیاست دان ہیں جنہوں نے سرکاری رہائش گاہوں کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے تاہم ڈائریکٹر اسٹیٹس نے بتایا کہ سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کرنے میں ابھی بھی کچھ وقت باقی ہے اور جونہی ہمیں لگے گا کہ وقت مکمل ہوچکا ہے تو محکمہ ایسے افراد کو نوٹس اجرا کرے گا۔ KNS
دنیا
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں، وہ ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش سے مطمئن نہیں نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ امریکی صدر نے اپنے مشیروں کو بتایا ایران کی پیش کش حقیقت سے انکاری ہے، جب کہ امریکی عہدے دار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ جوہری مطالبات پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اخبار کے مطابق ایران کی تجویز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے، جب کہ جوہری پروگرام کا معاملہ ایرانی پیشکش میں شامل نہیں ہے، ایران کا یورینیم ذخیرہ حوالے کرنے اور پروگرام معطل کرنے سے انکار برقرار ہے، جب کہ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری مذاکرات میں تاخیر عالمی توانائی و مالی منڈیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جب کہ ایران کی شرط ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ روایتی طور پر عالمی آبی گزرگاہوں پر پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے، تاہم فوجی دباؤ کے باوجود ایران کے مؤقف میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں، کچھ حکام کے نزدیک آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ ہی بہتر راستہ ہے۔
ادھر روئٹرز نے بھی ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز سے خوش نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سے ایران تنازع کے حل کی امیدیں کمزور ہو گئی ہیں۔ خیال رہے کہ ایران کی نئی تجویز ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو اس وقت تک مؤخر رکھا جائے گا جب تک جنگ ختم نہ ہو جائے اور خلیج میں جہاز رانی سے متعلق تنازعات حل نہ ہو جائیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کانگریس نے اوڈیشہ کے رائگڑا اور کالاہانڈی اضلاع میں کان کنی کے لیے قبائلی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے منگل کو اوڈیشہ کے رائگڑا اور کالاہانڈی اضلاع میں مجوزہ باکسائٹ کانکنی پروجیکٹ کے سلسلے میں قبائلی حقوق اور ماحولیاتی تحفظات کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا انہوں نے خطے میں حالیہ بدامنی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر رمیش نے کہا کہ اڈیشہ کی عوامی مزاحمت کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، خاص طور پر جب ماحولیاتی نتائج کے ساتھ کان کنی کے پروجیکٹوں کو آئینی اور قانونی تحفظات کی پیروی کیے بغیر ’جبراً تھوپا‘ جاتا ہے۔ انہوں نے سیجیمالی میں مجوزہ پروجیکٹ کو اسی ’مایوس کن کہانی‘ کا حصہ قرار دیا۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ قبائلی اور جنگل میں رہنے والی برادریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے کلیدی قوانین، جن میں پنچایت (شیڈولڈ ایریاز تک توسیع) ایکٹ (پیسا) 1996، اور جنگلات کے حقوق ایکٹ 2006 شامل ہیں، ان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے دعویٰ کیا کہ جب حالیہ دنوں میں مظاہرے شروع ہوئے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’ضرورت سے زیادہ طاقت‘ کا استعمال کیا، جس میں خاص طور پر شیڈولڈ ٹرائب کمیونٹیز اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں درج فہرست ذاتوں/ درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ 1989 کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
سیاسی سیاق و سباق کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ چونکہ اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر دونوں کا تعلق ایک ہی ریاست سے ہے، اس لیے انہیں اس معاملے سے نمٹنے میں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے قبائلی امور کے مرکزی وزیر پر زور دیا کہ وہ سیجیمالی بدامنی کی آزادانہ انکوائری کا حکم دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پی ای ایس اے اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے التزامات کو شفاف اور شراکتی عمل کے ذریعے ’لفظ بہ لفظ‘ لاگو کیا جائے۔
یہ الزامات جنوبی اوڈیشہ کے کچھ حصوں میں جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں قبائلی برادریوں نے نقل مکانی، ماحولیاتی انحطاط اور روایتی حقوق کے نقصان کے خدشات پر کان کنی کے پروجیکٹس پر اکثر احتجاج کیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
منیش سسودیا نے بھی جسٹس سوارن کانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا
نئی دہلی، اروند کیجریوال کے بعد اب دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھی جسٹس سوارن کانتا شرما کو خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں نہ تو وہ اور نہ ہی ان کے وکیل ان کی عدالت میں پیش ہوں گے اپنے خط اور سوشل میڈیا ‘ایسک’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر سسودیا نے کہا کہ ‘پورے احترام کے ساتھ’، ان کا ضمیر انہیں موجودہ حالات میں جج کے سامنے کارروائی میں حصہ لینا جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’یہ کسی فرد کا سوال نہیں ہے، بلکہ اس اعتماد کا سوال ہے جس پر نظام انصاف قائم ہے کہ ہر شہری کو نہ صرف انصاف ملنا چاہیے بلکہ انصاف ہوتے وہئے نظر بھی آنا بھی چاہیے۔
سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عدلیہ اور آئین پر ان کا اعتماد ’’غیر متزلزل‘‘ ہے لیکن جب دل میں سنگین شکوک پیدا ہوں تو محض رسمی شرکت مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس لیے، میرے پاس ستیہ گرہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔
یہ اقدام مسٹر کیجریوال کے ذریعہ اسی طرح کا مؤقف اختیار کرنے کے کچھ ہی وقت کے بعد آیا ہے، جنہوں نے اپنے ریکیوزل درخواست (جج کو معاملے سے ہٹنے کی عرضی) خارج ہونے کے بعد عدالت میں پیش ہونے ست انکار کردیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک غیر معمولی اورتلخ ٹکراؤ کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) دونوں سینئر لیڈروں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا4 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط










































































































