دنیا
صدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیا۔
صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، چوری کی گئی، پوری دنیا میں امریکی انتخابات مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ہمیں انتخابات ٹھیک کرنے ہوں گے یا یہ ملک نہیں رہے گا، تمام ریپبلکنز شفاف انتخابات کے لیے لڑیں اور امریکہ ایکٹ کو بچائیں، تمام ووٹرز کو ووٹر آئی ڈی ضرور دکھانی چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ووٹ ڈالنے کے لیے تمام ووٹرز کو شہریت کا ثبوت ضرور دکھانا چاہیے، جب کہ بیمار، معذور، فوجی یا سفر کے علاوہ کوئی میل ان بیلٹ نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ جمعہ کو روئٹرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرٹ اولسن (وکیل اور سابق نیوی سیل) کو 2020 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے ثبوت تلاش کرنے کا کام سونپا۔ اولسن یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ڈومینین ووٹنگ سسٹمز کی مشینیں ہیک ہوئی تھیں، لیکن پورٹو ریکو میں ہونے والی وفاقی تحقیقات میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس کے بعد اولسن نے تحقیق کرنے والی کمپنی موجاوے ریسرچ انکارپوریشن پر الزام لگایا کہ وہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور خفیہ طور پر جارج سورس سے پیسے لے رہی ہے، جسے کمپنی نے رد کر دیا۔
بعد میں تحقیقات کو جارجیا اور ایریزونا تک بڑھا دیا گیا اور اس عمل میں سی آئی اے اور ایف بی آئی اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کے ادارے کے وسائل استعمال کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق، یہ اقدامات انتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھانے کی کوشش ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو اے ای سمیت خطے کے کسی ملک سے دشمنی نہیں، پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ
تہران، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ ایران کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور حالیہ ایرانی تجویز پر ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے اپنے اپنے کمنٹس دیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے ان مذاکرات میں ایران کے بنیادی مطالبات میں بیرونی ممالک میں منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کی فوری واگزاری اور ملک پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دشمن کو جواب دینا بخوبی جانتا ہے، اور اب امریکہ بھی یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ وہ کھلی دھمکیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے جائز حقوق کے حصول سے باز نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ موجودہ مرحلے پر ایران کی تمام تر توجہ جنگ کے مکمل خاتمے پر مرکوز ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید انکشاف کیا کہ ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے ہی عمان میں ایک اہم ملاقات کی ہے، جس کے دوران دونوں ٹیموں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میکنزم کو فعال بنانے کے لیے تہران اس وقت عمان سمیت تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
یو اے ای اسرائیلی سازشوں سے دور رہے، بحری ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو بحیرۂ عمان امریکی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے: محسن رضائی
تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکریٹری محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے باہمی تعلقات پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران خطے میں ہونی والی تمام اسرائیلی سرگرمیوں کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ تہران، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین قائم ہونے والے تعلقات اور ہر قسم کے روابط سے پوری طرح باخبر ہے۔
انہوں نے ابوظبی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ امارات کو اسرائیل کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں میں الجھنے سے باز رہنا چاہیے، اور یہ حقیقت بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ایران کے صبر کی ایک حد ہے۔ تاہم، ایرانی عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام تر شدید تحفظات کے باوجود تہران نے ابوظبی کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور دوستی کے دروازے مستقل طور پر بند نہیں کیے۔
دوسری جانب، محسن رضائی نے امریکہ کو کڑے لہجے میں متبادل پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرے، ورنہ بحیرۂ عمان امریکی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو براہِ راست ایک جنگی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس جارحیت کا مقابلہ کرنا تہران کا قانونی اور دفاعی حق ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ ایران کی یہ بحری ناکہ بندی جتنی زیادہ طول پکڑے گی، اس کا خمیازہ اور نقصان دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اتنا ہی زیادہ اٹھانا پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ محسن رضائی نے واضح کیا کہ اس وقت ایک طرف جہاں ہماری مسلح افواج کی انگلی ٹریگر پر ہے، تو دوسری طرف اسی کے ساتھ سفارت کاری کا عمل بھی متوازی طور پر جاری ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
نیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
تل ابیب، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ مؤقف اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں حماس کے عسکری ونگ، عز الدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف عز الدین الحداد کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔حکومت کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں اور یرغمالیوں کے اغوا کے پیچھے موجود ہر ماسٹر مائنڈ کو چن چن کر ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اسرائیلی افواج موجودہ وقت میں غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر اپنے آپریشنز کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں اسرائیلی فوج کی ایک نئی نام نہاد “اورنج لائن” کی جانب پیش قدمی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس اب ان کی گرفت میں ہے اور ان کا اصل ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ مستقبل میں کبھی اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد، جس میں فرانس پریس ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اسرائیل میں 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے، نیتن یاہو نے اس کے ذمہ داروں کے تعاقب کا عزم کیا تھا۔ اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر ایک شدید اور ہولناک جنگ مسلط کی، جس کے نتیجے میں پٹی کے صحت کے حکام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک تقریباً 72,763 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اس سے باہر حماس کے سیاسی و عسکری رہنماؤں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران میں حماس کے متعدد قائدین کا تعاقب کر کے انہیں جاں بحق کیا، جن میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ یحییٰ السنوار اور ان کے بھائی محمد السنوار تھے (جنہوں نے محمد الضیف کے بعد القسام بریگیڈز کی کمان سنبھالی تھی)۔ اس کے علاوہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران کے دورے کے دوران جاں بحق کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، امریکی ثالثی کے تحت طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، جو گزشتہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں نام نہاد “ییلو لائن” تک پیچھے ہٹ جائیں۔ اس معاہدے کی رو سے بھی پٹی کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر اسرائیل کا کنٹرول برقرار ہے۔ تاہم، امریکی سرپرستی میں ہونے والے اس معاہدے کے باوجود غزہ میں پُرتشدد کارروائیاں تھم نہیں سکیں اور پٹی کے صحت کے حکام کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں 871 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فوج نے بھی اپنے 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان1 week agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
تازہ ترین1 week agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا1 week agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
جموں و کشمیر1 week agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا
ہندوستان1 week agoمتحدہ عرب امارات سے ہندوستانی شہریوں کے انخلا کے حوالے سے کسی معاہدے پر بات نہیں ہوئی : وزارت خارجہ







































































































