Connect with us

تجزیہ

جیسی کرنی ویسی بھرنی نہ مانے تو کرکے دیکھ!!

Published

on

(کر بھلا تو ہو بھلا )
تحریر: جاوید بھارتی
اکثر ضعیف العمر لوگوں کے ذریعے یہ سنا گیا ہے کہ بھلائی کر بھلا ہوگا ، برائی کر برا ہوگا تو کسی نے کہا ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی نہ مانے تو کرکے دیکھ ، جنت بھی ہے دوزخ بھی ہے نہ مانے تو مرکے دیکھ ،، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی کے لئے گڈھا نہ کھود ورنہ تیرے لئے بھی گڈھا تیار ہوگا اور عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ناحق کسی کے لئے گڈھا تیار کرنے والا خود ایک دن اسی گڈھے میں گرتا ہے کیونکہ یہ دنیا انتقام کی ہے یہاں انتقامی کارروائیاں ہوتی ہیں سماجی ، معاشی، سیاسی ، اقتصادی ہر اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔

دنیا میں جینے کے لئے بھی حوصلہ چاہئے اور کچھ کہنے کی صورت میں جواب کو برداشت کرنے کی طاقت بھی ہونا چاہئے اسی لئے کہا گیا ہے کہ جانکاری نہ ہونے کی صورت میں کسی سے سوال کرنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ ہماری معلومات میں اضافہ ہوجائے اور آزمائش کی صورت میں سوال کرنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ سامنے والے کا امتحان ہوجائے اور اس کی معلومات کا اظہار ہوجائے ،، لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ خود اپنی معلومات کے لئے سوال کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن آزمانے کے لئے سوال ہے تو پھر سوال کرنے والے کو خود جواب معلوم ہونا چاہئے ورنہ پھر ممتحن کو کسی کا امتحان لینے کا کوئی حق نہیں ہے ۔

گداگری کا پیشہ اختیار کرنے والے بھی اکثر صدا لگاتے ہیں کہ کربھلا تو ہو بھلا ،، اے اللہ کے بندے تو دے اللہ کے نام پر اللہ تیرا بھلا کرے گا ، تیرے بال بچے خوشحال ہوں گے ، اللہ تجھے خوب دولت سے مالامال کرے گا۔

ایک سائل جب کسی کے دروازے پر یہ صدائیں لگاتا ہے تو مکان مالک کے ذہن میں کبھی کبھی یہ بات ضرور آتی ہو گی کہ میرے لئے دولت کی فراوانی کے لئے دعا کرنے والا خود اپنے لئے کیوں نہیں کرتا لیکن مکان مالک اپنی زبان سے یہ بات نہیں کہتا ہے کہ کیونکہ اسے اندر سے احساس ہوتا ہے کہ میرا یہ جملہ کہیں مجھے تکبر کے زمرے میں شامل نہ کرادے ،، دوسری طرف سائل کے ذہن میں بھی یہ بات ضرور آتی ہوگی کہ مجھے اس دروازے سے یا مکان سے پانچ دس روپے ہی تو ملیں گے اور میں لمبی لمبی دعائیں دے رہا ہوں کہیں مکان مالک کہہ نہ دے کہ او اللہ کے بندے یہ دعائیں تو اپنے لئے کیوں نہیں کرتا کیا تجھے مال ودولت کی ضرورت نہیں ہے مگر ہاں ایک سائل جب یہ سوچ لے گا تو پھر صدا لگا ہی نہیں پائے گا اس طرح بغیر کسی لاگت کے اسے جو آمدنی ہوتی ہے اس آمدنی سے وہ محروم ہو جائے گا اسی لئے اس طرح کی بات ذہن میں آنے کے بعد بھی وہ نظر انداز کرتا ہے اور گداگری کے پیسے پر قائم رہتا ہے ۔

چھوٹی چھوٹی کتابوں میں کہانیاں پڑھی گئی ہیں کہ ایک عورت نے بلی پال رکھی تھی لیکن اسے بھر پیٹ کھانا نہیں دیتی تھی اور دھوپ میں اسے باندھ کر رکھتی تھی جبکہ بظاہر وہ نماز روزے کی پابند تھی لیکن جب اس کا آخری وقت آیا تو اسے بیحد تکلیف اٹھانی پڑی اور سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

دوسری عورت بظاہر بدچلن تھی لوگ بھی اسے نفرت و حقارت سے دیکھا کرتے تھے لیکن ایک دن اس نے دیکھا کہ راستے میں ایک جگہ کتا پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا ہے اس عورت کو ترس آگیا اس نے ڈول کا انتظام کیا اور اس ڈول میں اپنا دوپٹہ تک استعمال کیا اور کنویں سے پانی نکالا اور کتے کو پلایا وہ پانی پینے کے بعد کچھ دیر تک اس عورت کے پاس ہی کھڑا رہا تو اس عورت نے کہا جاؤ تو وہ کتا چلا گیا اس کا جب آخری وقت آیا تو یوں آیا کہ بیٹھے بیٹھے طبیعت کچھ ناساز ہوئی اور وہ بستر پر لیٹی اور لیٹتے روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی اور اس عورت کا انتقال ہوگیا تجہیز وتکفین کے بعد بہت سے لوگوں نے خواب دیکھا کہ وہ قبر میں بڑے آرام سے ہے اس کی قبر میں بڑی روشنی ہے ،، یہ رہا بھلائی کرنے کا انجام جو کہ سبق آموز ہے۔

زید گھر سے باہر نکلتا ہے تو بکر اس کا گریبان پکڑ کر کہتاہے کہ تو انتہائی گھٹیا انسان ہے مجھے تجھ سے نفرت ایک تو تیرے کپڑے بوسیدہ ، پاؤں میں جوتے بھی نہیں یہ کہتے ہوئے اسے تھپڑ بھی مارا اور دھکا بھی دیا اب زید آنکھوں میں آنسو لئے مسجد پہنچتا ہے وضو بناکر مسجد کے اندر داخل ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ بکر پہلی صف میں بیٹھا ہوا وظیفہ پڑھ رہا ہے۔

بکر دوسرے صف میں بیٹھ کر دعائیں کرنے لگا کہ ائے اللہ آج ایک شخص نے دولت کے گھمنڈ میں مجھے تھپڑ مارا میں تیرے دربار میں آیا تو وہ پہلی صف میں موجود ہے ،، کیا تو دل دکھانے والے کو پسند کرتاہے ، کیا تو دل توڑنے والے کو پسند کرتاہے ؟ غیب سے صدا آئی کی نہیں میں کسی کا دل دکھا نے والے کو پسند نہیں کرتا جو حقوق اللہ ہیں اسکی ادائیگی میں کوتاہی کو میں معاف کروں نہ کروں یہ میری مرضی لیکن جو حقوق العباد ہیں اس کی ادائیگی میں کوتاہی کو میں اس وقت تک معاف نہیں کرسکتا جب تک میرا بندہ خود معاف نہ کرے ۔

جماعت کا وقت ہوگیا مؤذن نے اقامت کہی اور امام نے تکبیر تحریمہ کے ساتھ نیت باندھی زید نے بھی نیت باندھی نماز مکمل ہوئی تو زید و بکر دونوں مسجد کے باہر نکلے تو بکر نے کہا کہ میں نے جو تیرے ساتھ معاملہ کیا ہے مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے بتا اب تو کیا کرے گا زید نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں کرنا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ سے میری بات ہوئی ہے میں نے یہ معاملہ اسی کے سپرد کردیا ہے اور وہی انصاف کرے گا ۔

دروازے پر دستک ہوتی ہے جب دروازہ کھولا تو سامنے پولیس آفیسر کو کھڑا پایا آفیسر نے سوال کیا کہ تم نے شکایت کی تھی تو دروازہ کھولنے والے نے کہا ہاں میں نے شکایت کی تھی لے جائیے اس بڈھے کو جیل کی کوٹھری میں بند کر دیجئیے آفیسر نے پوچھا کون ہے یہ تو جواب ملا کہ میرا باپ ہے آفیسر حیرت میں پڑگیا کہ ایک بیٹا باپ کی شکایت کررہاہے اور جیل میں بند کرنے کی بات کررہا ہے ادھر باپ ہے کہ ایک کونے میں بیٹھ کر گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے ، چہرے اور پیشانی پر پسینہ بھی ہے اور لکیریں بھی ابھری ہوئی ہیں۔

آفیسر اس ضعیف العمر کے پاس جاکر سوال کرتا ہے کہ چچا کیا بات ہے باپ جواب دیتا ہے کہ کوئی بات نہیں آپ مجھے لے چلو جیل میں بند کردو ،، پولیس آفیسر پوچھتا ہے کہ آپ کس سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں مجھے بتائیے تو آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے باپ کہتاہے کہ ڈاکٹروں کے پاس گیا، حکیموں کے پاس گیا، سادھو سنتوں کے پاس گیا ، پیروں اور فقیروں کے پاس گیا ، جھاڑ پھونک کرنے والوں کی چوکھٹ پر گیا ، مولوی مولانا سے دعا کروایا ، راتوں میں جاگ جاگ کر گڑگڑایا اور اللہ سے فریاد کیا کہ مجھے بیٹا دیدے تب جاکر مجھے ایک بیٹا ملا ۔

میں نے اسے گود میں لے کر کھلایا، سینے سے لگایا، انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ، پال پوس کر بڑا کیا ، پڑھایا لکھایا اور آج میرا بیٹا اس قابل ہوگیا کہ میری شکایت کررہاہے اور مجھے جیل میں بند کرانے کی بات کررہا ہے بس یہی سرجھکائے سوچ رہا ہوں اتنا سنتے ہی پولیس آفیسر کھڑا ہوجاتا ہے اور بیٹے کو زوردار طمانچہ مارتے ہوئے کہتاہے کہ تجھے شرم نہیں آتی ہے کہ اپنے باپ کی تو شکایت کررہاہے ،، ارے تجھے نہیں معلوم کہ باپ اگر غلطی بھی کرے تو بیٹے کو شکایت کرنے کا حق نہیں ، باپ ڈانٹے پھٹکارے تو بھی باپ سے اونچی آواز میں بات کرنے کا بھی حق نہیں ،، آج تو جو کچھ ہے اپنے باپ کی وجہ سے ہے ان کے ساتھ تو جیسا سلوک کرے گا ویسا ہی کل تیرا بیٹا بھی تیرے ساتھ کرے گا ،، باپ کے ساتھ اچھا سلوک کر وہ تجھے دعائیں دیں گے اور ایک بیٹے کے لئے باپ کی دعا ہر پیر فقیر کی دعا سے بڑھ کر ہے ۔

javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

Continue Reading

تجزیہ

مشرق وسطی میں ایران کے ہاتھوں امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی:ایک جائزہ

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی، عسکری اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایک پیچیدہ مگر نہایت اہم بحث کو جنم دے رہی ہیں خاص طور پر امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور اس کے ساتھ موسمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بعض حلقوں میں آپس میں جوڑ کر دیکھ رہے ہیں یہ موضوع صرف سیکیورٹی یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی، سائنسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں موسمی حالات ہمیشہ سے سخت رہے ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا عمومی طور پر خشک اور گرم ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں اور کئی ممالک طویل عرصے سے قحط سالی جیسے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، عمان، یمن اور دیگر ممالک میں پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے پانی کے متبادل ذرائع، جیسے ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنانا) پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ اور موسم کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جبکہ بعض دیگر افراد اسے مصنوعی عوامل سے جوڑتے ہیں، جن میں عسکری ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز اور الیکٹرو میگنیٹک لہروں کا کردار شامل بتایا جاتا ہے۔

ریڈار سسٹمز کا بنیادی مقصد دفاعی نگرانی، دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور میزائل یا فضائی حملوں کا بروقت پتہ لگانا ہوتا ہے۔ یہ سسٹمز انتہائی جدید ہوتے ہیں اور ان میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک ویوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض نظریات کے مطابق یہ لہریں ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نظام پر۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی ریڈار سسٹمز موسمی حالات کو متاثر کر سکتے ہیں؟ سائنسی اعتبار سے اس کا کوئی واضح اور مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے کہ عام دفاعی ریڈار براہ راست موسمی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ موسمی نظام ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے جس میں درجہ حرارت، ہوا کا دباؤ، نمی، سمندری دھارائیں اور دیگر کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو کسی ایک ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔

البتہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی ہے، جسے ‘کلاؤڈ سیڈنگ’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے بادلوں میں خاص کیمیکل شامل کر کے بارش کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے بعض اوقات بارش میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، لیکن یہ عمل محدود پیمانے پر ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مکمل طور پر یقینی نہیں ہوتے۔

اگر ہم امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کے درمیان تعلق کی بات کریں تو اس حوالے سے زیادہ تر دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی خاص علاقے میں ریڈار سسٹم کی موجودگی یا عدم موجودگی سے مقامی سطح پر پورے خطے کے موسم میں بڑی تبدیلی کو صرف اس ایک عنصر سے جوڑنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا اور ہم ان عوامل سے انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور ہوا کے دباؤ کے نظام میں تبدیلی جیسے عوامل موسمی پیٹرن کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی کا اثر مشرقِ وسطیٰ پر بھی پڑ رہا ہے۔

قحط سالی کے خاتمے یا اس میں کمی کے حوالے سے بھی ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ کہنا کہ قحط سالی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، درست نہیں ہوگا۔ پانی کا بحران اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی اور عسکری حالات بھی اس خطے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں جنگ یا کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف معیشت بلکہ ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ صنعتی سرگرمیاں، تیل کی پیداوار، اور دیگر عوامل فضائی آلودگی کو بڑھاتے ہیں، جو موسمی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اوقات میڈیا اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسی معلومات پھیل جاتی ہیں جو حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کو جوڑنے والے نظریات بھی اسی زمرے میں آ سکتے ہیں لیکن فی الحال سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مفروضے سے ہم انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر دعوے کو سائنسی بنیادوں پر پرکھیں اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ، اور غیر متوقع موسمی حالات اس خطے کے لیے بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔

مشرقِ وسطیٰ میں موسمی تبدیلی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کے اسباب پیچیدہ اور کثیر جہتی ہیں۔ امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی کو اس تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اس کے مضر اثرات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اصل عوامل میں عالمی موسمیاتی تبدیلی، انسانی سرگرمیاں، اور قدرتی نظام شامل ہیں۔ ہمیں ان عوامل کو سمجھ کر ہی مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ اس خطے کو ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

جموں و کشمیر

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

Published

on

گوہر پیرزادہ

اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی

پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔

پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔

بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔

انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔

“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔

گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔

محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”

غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔

مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔

کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔

ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔

سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔

ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔

انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔

“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور

مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔

“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔

“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔

کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔

جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔

لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔

جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔

Continue Reading

تجزیہ

اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

Published

on

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔

سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔

آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔

بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔

راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”

Continue Reading
Advertisement
دنیا55 seconds ago

امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں جتنے نظر آ رہے ہیں: سی این این

دنیا2 hours ago

جنگ کے بعد سے ایران میں ادویات کی شدید قلت

دنیا3 hours ago

انڈونیشیا میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں سات افراد ہلاک

دنیا3 hours ago

عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی

دنیا17 hours ago

’نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے‘، حزب اللہ کا اسرائیل سے براہ راست مذاکرات سے انکار

دنیا18 hours ago

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 108 ڈالر سے تجاوز کرگئی

دنیا18 hours ago

باقر قالیباف کی ’جان فدا‘ مہم میں 3 کروڑ ایرانیوں کے اندراج کی تصدیق

دنیا18 hours ago

ٹرمپ ایران سے متعلق حکمت عملی طے کرنے کے لیے اعلیٰ سکیورٹی حکام سے ملاقات کریں گے

جموں و کشمیر18 hours ago

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ کے جذبے کو اپنانے کی اپیل

دنیا18 hours ago

اسلام آباد کا دورہ انتہائی مفید رہا، حکام کے ساتھ مثبت مشاورت ہوئی: ایرانی وزیرِ خارجہ

دنیا21 hours ago

آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کیلئے ایران کی نئی شرط

دنیا21 hours ago

کولمبیا: بس دھماکے میں بچوں سمیت 20 افراد جان سے گئے

دنیا21 hours ago

میں گھبرایا نہیں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں: ٹرمپ

دنیا22 hours ago

فائرنگ واقعہ کے بعد کنگ چارلس کا دورہ امریکہ کے بارے میں شبہات

دنیا22 hours ago

ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ تک نئی تجاویز پہنچا دیں: ایکسیوس

دنیا22 hours ago

امریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ

پاکستان22 hours ago

پاکستان میں خسرہ کی وبا نے خطرناک صورتحال اختیار کرلی، اب تک 40 بچے جاں بحق

دنیا22 hours ago

عباس عراقچی اسلام آباد سے ماسکو پہنچ گئے

تجزیہ22 hours ago

مشرق وسطی میں ایران کے ہاتھوں امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی:ایک جائزہ

ہندوستان24 hours ago

پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی بھلر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا شکنجہ، ٹھکانوں پر چھاپہ ماری

ہندوستان24 hours ago

راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ‘عآپ’ سے الگ ہونے والے سات ارکان کے بی جے پی میں انضمام کو منظوری دے دی

دنیا24 hours ago

آپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ

دنیا1 day ago

سعودی عرب اور ایرانی وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

ہندوستان1 day ago

کیجریوال نے ریکیوزل درخواست مسترد ہونے کے بعد جج سورن کانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا

دنیا1 day ago

جنگیں چھیڑنے والے انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں: پوپ لیو

جموں و کشمیر3 days ago

کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم

جموں و کشمیر3 days ago

مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’

دنیا3 days ago

ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی

دنیا3 days ago

فلسطین میں غزہ جنگ کے بعد پہلی بار انتخابات، سیاسی عمل دوبارہ شروع

دنیا3 days ago

ترکی اسرائیلی جنگی کوششوں کے باوجود ‘محتاط اور مثبت’ موقف پر برقرار ہے: ایردوان

پاکستان3 days ago

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل

جموں و کشمیر3 days ago

ہر پنچایت کو منشیات سے پاک بنانا ہوگا: ایل جی سنہا

دنیا3 days ago

امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران

دنیا3 days ago

عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کے دوران جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: ابراہیم عزیزی

ہندوستان3 days ago

کیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ

جموں و کشمیر3 days ago

سی آئی کے کی سرینگر کی سینٹرل جیل میں تلاشی، دہشت گردی کیس میں ڈیجیٹل آلات برآمد

دنیا3 days ago

جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری، 6 شہید

دنیا3 days ago

پاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی

دنیا3 days ago

امریکہ کے دوسرے ممالک پر فوجی حملے صرف تیل کے لیے ہیں: روس

دنیا3 days ago

اسلام آباد میں امریکہ سے میٹنگ کی کوئی تجویز نہیں: ایران

دنیا3 days ago

ڈالر سواپ کا مقصد امریکی اثاثوں کی بے ہنگم فروخت بند کرنا ہے، ایران

ہندوستان3 days ago

بنگال اور تمل ناڈو میں دوبارہ پولنگ کی کوئی سفارش نہیں کی گئی:الیکشن کمیشن

ہندوستان3 days ago

بی جے پی کے دورِ حکومت میں اب متاثرہ کو ہراساں کرنے کا نیا نظام بن گیا ہے: پرینکا گاندھی

دنیا3 days ago

صدر ٹرمپ برطانیہ کے کنگ چارلس سوم کے ساتھ ایران اور ناٹو کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے

دنیا3 days ago

روس اور ایران کے لیے تیل کی رعایتوں میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں:امریکی وزیرِ خزانہ

ہندوستان3 days ago

مئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق

دنیا4 days ago

ایرانی وزیر خارجہ پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کریں گے

دنیا4 days ago

یورپی یونین اقوام متحدہ کے مشن کے بعد لبنان میں فوج بھیجنے پر غور کر رہی ہے

دنیا4 days ago

ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے ناکہ بندی سخت کردی، امریکی وزیر جنگ

دنیا4 days ago

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کینسر ہونے کا انکشاف

جموں و کشمیر3 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین3 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین3 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین2 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

دنیا2 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

اہم خبریں3 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ5 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین3 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

کھیل2 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر2 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

دنیا2 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

دنیا3 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

ہندوستان3 weeks ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

دنیا2 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین3 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

اہم خبریں3 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تجزیہ5 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین3 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

دنیا2 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

جموں و کشمیر3 weeks ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین4 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

ہندوستان3 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

جموں و کشمیر3 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین3 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

ہندوستان2 months ago

گھریلو ایل پی جی سلنڈر 60 روپے اور کمرشیل سلنڈر 114.50 روپے مہنگا

دنیا2 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

دنیا2 months ago

ٹرمپ کی گردن پر سرخ نشان، صحت سے متعلق نئی بحث چھڑگئی

جموں و کشمیر3 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

دنیا1 month ago

کیا نیتن یاہو مر چکے ہیں سرکاری اکاؤنٹ سے نیتن یاہو کی ’’چھ انگلیوں‘‘ والی ویڈیو وائرل

تازہ ترین6 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

جموں و کشمیر2 weeks ago

لداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی

کھیل3 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

دنیا2 months ago

امریکی شہریوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کی ہدایت

دنیا1 month ago

امریکہ کے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے کی ‘شرائط’

تازہ ترین3 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

جموں و کشمیر3 weeks ago

گاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی

جموں و کشمیر2 months ago

جموں و کشمیر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مجھے بے حد متاثر کیا: سی پی رادھا کرشنن

جموں و کشمیر4 days ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر1 month ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر2 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر2 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین2 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین2 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر3 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں3 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں3 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر6 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین2 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending