تجزیہ
جیسی کرنی ویسی بھرنی نہ مانے تو کرکے دیکھ!!

(کر بھلا تو ہو بھلا )
تحریر: جاوید بھارتی
اکثر ضعیف العمر لوگوں کے ذریعے یہ سنا گیا ہے کہ بھلائی کر بھلا ہوگا ، برائی کر برا ہوگا تو کسی نے کہا ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی نہ مانے تو کرکے دیکھ ، جنت بھی ہے دوزخ بھی ہے نہ مانے تو مرکے دیکھ ،، بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی کے لئے گڈھا نہ کھود ورنہ تیرے لئے بھی گڈھا تیار ہوگا اور عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ناحق کسی کے لئے گڈھا تیار کرنے والا خود ایک دن اسی گڈھے میں گرتا ہے کیونکہ یہ دنیا انتقام کی ہے یہاں انتقامی کارروائیاں ہوتی ہیں سماجی ، معاشی، سیاسی ، اقتصادی ہر اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔
دنیا میں جینے کے لئے بھی حوصلہ چاہئے اور کچھ کہنے کی صورت میں جواب کو برداشت کرنے کی طاقت بھی ہونا چاہئے اسی لئے کہا گیا ہے کہ جانکاری نہ ہونے کی صورت میں کسی سے سوال کرنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ ہماری معلومات میں اضافہ ہوجائے اور آزمائش کی صورت میں سوال کرنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ سامنے والے کا امتحان ہوجائے اور اس کی معلومات کا اظہار ہوجائے ،، لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ خود اپنی معلومات کے لئے سوال کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن آزمانے کے لئے سوال ہے تو پھر سوال کرنے والے کو خود جواب معلوم ہونا چاہئے ورنہ پھر ممتحن کو کسی کا امتحان لینے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
گداگری کا پیشہ اختیار کرنے والے بھی اکثر صدا لگاتے ہیں کہ کربھلا تو ہو بھلا ،، اے اللہ کے بندے تو دے اللہ کے نام پر اللہ تیرا بھلا کرے گا ، تیرے بال بچے خوشحال ہوں گے ، اللہ تجھے خوب دولت سے مالامال کرے گا۔
ایک سائل جب کسی کے دروازے پر یہ صدائیں لگاتا ہے تو مکان مالک کے ذہن میں کبھی کبھی یہ بات ضرور آتی ہو گی کہ میرے لئے دولت کی فراوانی کے لئے دعا کرنے والا خود اپنے لئے کیوں نہیں کرتا لیکن مکان مالک اپنی زبان سے یہ بات نہیں کہتا ہے کہ کیونکہ اسے اندر سے احساس ہوتا ہے کہ میرا یہ جملہ کہیں مجھے تکبر کے زمرے میں شامل نہ کرادے ،، دوسری طرف سائل کے ذہن میں بھی یہ بات ضرور آتی ہوگی کہ مجھے اس دروازے سے یا مکان سے پانچ دس روپے ہی تو ملیں گے اور میں لمبی لمبی دعائیں دے رہا ہوں کہیں مکان مالک کہہ نہ دے کہ او اللہ کے بندے یہ دعائیں تو اپنے لئے کیوں نہیں کرتا کیا تجھے مال ودولت کی ضرورت نہیں ہے مگر ہاں ایک سائل جب یہ سوچ لے گا تو پھر صدا لگا ہی نہیں پائے گا اس طرح بغیر کسی لاگت کے اسے جو آمدنی ہوتی ہے اس آمدنی سے وہ محروم ہو جائے گا اسی لئے اس طرح کی بات ذہن میں آنے کے بعد بھی وہ نظر انداز کرتا ہے اور گداگری کے پیسے پر قائم رہتا ہے ۔
چھوٹی چھوٹی کتابوں میں کہانیاں پڑھی گئی ہیں کہ ایک عورت نے بلی پال رکھی تھی لیکن اسے بھر پیٹ کھانا نہیں دیتی تھی اور دھوپ میں اسے باندھ کر رکھتی تھی جبکہ بظاہر وہ نماز روزے کی پابند تھی لیکن جب اس کا آخری وقت آیا تو اسے بیحد تکلیف اٹھانی پڑی اور سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔
دوسری عورت بظاہر بدچلن تھی لوگ بھی اسے نفرت و حقارت سے دیکھا کرتے تھے لیکن ایک دن اس نے دیکھا کہ راستے میں ایک جگہ کتا پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا ہے اس عورت کو ترس آگیا اس نے ڈول کا انتظام کیا اور اس ڈول میں اپنا دوپٹہ تک استعمال کیا اور کنویں سے پانی نکالا اور کتے کو پلایا وہ پانی پینے کے بعد کچھ دیر تک اس عورت کے پاس ہی کھڑا رہا تو اس عورت نے کہا جاؤ تو وہ کتا چلا گیا اس کا جب آخری وقت آیا تو یوں آیا کہ بیٹھے بیٹھے طبیعت کچھ ناساز ہوئی اور وہ بستر پر لیٹی اور لیٹتے روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی اور اس عورت کا انتقال ہوگیا تجہیز وتکفین کے بعد بہت سے لوگوں نے خواب دیکھا کہ وہ قبر میں بڑے آرام سے ہے اس کی قبر میں بڑی روشنی ہے ،، یہ رہا بھلائی کرنے کا انجام جو کہ سبق آموز ہے۔
زید گھر سے باہر نکلتا ہے تو بکر اس کا گریبان پکڑ کر کہتاہے کہ تو انتہائی گھٹیا انسان ہے مجھے تجھ سے نفرت ایک تو تیرے کپڑے بوسیدہ ، پاؤں میں جوتے بھی نہیں یہ کہتے ہوئے اسے تھپڑ بھی مارا اور دھکا بھی دیا اب زید آنکھوں میں آنسو لئے مسجد پہنچتا ہے وضو بناکر مسجد کے اندر داخل ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ بکر پہلی صف میں بیٹھا ہوا وظیفہ پڑھ رہا ہے۔
بکر دوسرے صف میں بیٹھ کر دعائیں کرنے لگا کہ ائے اللہ آج ایک شخص نے دولت کے گھمنڈ میں مجھے تھپڑ مارا میں تیرے دربار میں آیا تو وہ پہلی صف میں موجود ہے ،، کیا تو دل دکھانے والے کو پسند کرتاہے ، کیا تو دل توڑنے والے کو پسند کرتاہے ؟ غیب سے صدا آئی کی نہیں میں کسی کا دل دکھا نے والے کو پسند نہیں کرتا جو حقوق اللہ ہیں اسکی ادائیگی میں کوتاہی کو میں معاف کروں نہ کروں یہ میری مرضی لیکن جو حقوق العباد ہیں اس کی ادائیگی میں کوتاہی کو میں اس وقت تک معاف نہیں کرسکتا جب تک میرا بندہ خود معاف نہ کرے ۔
جماعت کا وقت ہوگیا مؤذن نے اقامت کہی اور امام نے تکبیر تحریمہ کے ساتھ نیت باندھی زید نے بھی نیت باندھی نماز مکمل ہوئی تو زید و بکر دونوں مسجد کے باہر نکلے تو بکر نے کہا کہ میں نے جو تیرے ساتھ معاملہ کیا ہے مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے بتا اب تو کیا کرے گا زید نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں کرنا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ سے میری بات ہوئی ہے میں نے یہ معاملہ اسی کے سپرد کردیا ہے اور وہی انصاف کرے گا ۔
دروازے پر دستک ہوتی ہے جب دروازہ کھولا تو سامنے پولیس آفیسر کو کھڑا پایا آفیسر نے سوال کیا کہ تم نے شکایت کی تھی تو دروازہ کھولنے والے نے کہا ہاں میں نے شکایت کی تھی لے جائیے اس بڈھے کو جیل کی کوٹھری میں بند کر دیجئیے آفیسر نے پوچھا کون ہے یہ تو جواب ملا کہ میرا باپ ہے آفیسر حیرت میں پڑگیا کہ ایک بیٹا باپ کی شکایت کررہاہے اور جیل میں بند کرنے کی بات کررہا ہے ادھر باپ ہے کہ ایک کونے میں بیٹھ کر گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے ، چہرے اور پیشانی پر پسینہ بھی ہے اور لکیریں بھی ابھری ہوئی ہیں۔
آفیسر اس ضعیف العمر کے پاس جاکر سوال کرتا ہے کہ چچا کیا بات ہے باپ جواب دیتا ہے کہ کوئی بات نہیں آپ مجھے لے چلو جیل میں بند کردو ،، پولیس آفیسر پوچھتا ہے کہ آپ کس سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں مجھے بتائیے تو آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے باپ کہتاہے کہ ڈاکٹروں کے پاس گیا، حکیموں کے پاس گیا، سادھو سنتوں کے پاس گیا ، پیروں اور فقیروں کے پاس گیا ، جھاڑ پھونک کرنے والوں کی چوکھٹ پر گیا ، مولوی مولانا سے دعا کروایا ، راتوں میں جاگ جاگ کر گڑگڑایا اور اللہ سے فریاد کیا کہ مجھے بیٹا دیدے تب جاکر مجھے ایک بیٹا ملا ۔
میں نے اسے گود میں لے کر کھلایا، سینے سے لگایا، انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ، پال پوس کر بڑا کیا ، پڑھایا لکھایا اور آج میرا بیٹا اس قابل ہوگیا کہ میری شکایت کررہاہے اور مجھے جیل میں بند کرانے کی بات کررہا ہے بس یہی سرجھکائے سوچ رہا ہوں اتنا سنتے ہی پولیس آفیسر کھڑا ہوجاتا ہے اور بیٹے کو زوردار طمانچہ مارتے ہوئے کہتاہے کہ تجھے شرم نہیں آتی ہے کہ اپنے باپ کی تو شکایت کررہاہے ،، ارے تجھے نہیں معلوم کہ باپ اگر غلطی بھی کرے تو بیٹے کو شکایت کرنے کا حق نہیں ، باپ ڈانٹے پھٹکارے تو بھی باپ سے اونچی آواز میں بات کرنے کا بھی حق نہیں ،، آج تو جو کچھ ہے اپنے باپ کی وجہ سے ہے ان کے ساتھ تو جیسا سلوک کرے گا ویسا ہی کل تیرا بیٹا بھی تیرے ساتھ کرے گا ،، باپ کے ساتھ اچھا سلوک کر وہ تجھے دعائیں دیں گے اور ایک بیٹے کے لئے باپ کی دعا ہر پیر فقیر کی دعا سے بڑھ کر ہے ۔
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
تجزیہ
مشرق وسطی میں ایران کے ہاتھوں امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی:ایک جائزہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی، عسکری اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایک پیچیدہ مگر نہایت اہم بحث کو جنم دے رہی ہیں خاص طور پر امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور اس کے ساتھ موسمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بعض حلقوں میں آپس میں جوڑ کر دیکھ رہے ہیں یہ موضوع صرف سیکیورٹی یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی، سائنسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں موسمی حالات ہمیشہ سے سخت رہے ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا عمومی طور پر خشک اور گرم ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں اور کئی ممالک طویل عرصے سے قحط سالی جیسے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، عمان، یمن اور دیگر ممالک میں پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے پانی کے متبادل ذرائع، جیسے ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنانا) پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ اور موسم کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جبکہ بعض دیگر افراد اسے مصنوعی عوامل سے جوڑتے ہیں، جن میں عسکری ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز اور الیکٹرو میگنیٹک لہروں کا کردار شامل بتایا جاتا ہے۔
ریڈار سسٹمز کا بنیادی مقصد دفاعی نگرانی، دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور میزائل یا فضائی حملوں کا بروقت پتہ لگانا ہوتا ہے۔ یہ سسٹمز انتہائی جدید ہوتے ہیں اور ان میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک ویوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض نظریات کے مطابق یہ لہریں ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نظام پر۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی ریڈار سسٹمز موسمی حالات کو متاثر کر سکتے ہیں؟ سائنسی اعتبار سے اس کا کوئی واضح اور مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے کہ عام دفاعی ریڈار براہ راست موسمی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ موسمی نظام ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے جس میں درجہ حرارت، ہوا کا دباؤ، نمی، سمندری دھارائیں اور دیگر کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو کسی ایک ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
البتہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی ہے، جسے ‘کلاؤڈ سیڈنگ’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے بادلوں میں خاص کیمیکل شامل کر کے بارش کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے بعض اوقات بارش میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، لیکن یہ عمل محدود پیمانے پر ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مکمل طور پر یقینی نہیں ہوتے۔
اگر ہم امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کے درمیان تعلق کی بات کریں تو اس حوالے سے زیادہ تر دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی خاص علاقے میں ریڈار سسٹم کی موجودگی یا عدم موجودگی سے مقامی سطح پر پورے خطے کے موسم میں بڑی تبدیلی کو صرف اس ایک عنصر سے جوڑنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا اور ہم ان عوامل سے انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور ہوا کے دباؤ کے نظام میں تبدیلی جیسے عوامل موسمی پیٹرن کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی کا اثر مشرقِ وسطیٰ پر بھی پڑ رہا ہے۔
قحط سالی کے خاتمے یا اس میں کمی کے حوالے سے بھی ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ کہنا کہ قحط سالی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، درست نہیں ہوگا۔ پانی کا بحران اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اس کے علاوہ سیاسی اور عسکری حالات بھی اس خطے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں جنگ یا کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف معیشت بلکہ ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ صنعتی سرگرمیاں، تیل کی پیداوار، اور دیگر عوامل فضائی آلودگی کو بڑھاتے ہیں، جو موسمی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اوقات میڈیا اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسی معلومات پھیل جاتی ہیں جو حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کو جوڑنے والے نظریات بھی اسی زمرے میں آ سکتے ہیں لیکن فی الحال سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مفروضے سے ہم انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر دعوے کو سائنسی بنیادوں پر پرکھیں اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ، اور غیر متوقع موسمی حالات اس خطے کے لیے بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔
مشرقِ وسطیٰ میں موسمی تبدیلی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کے اسباب پیچیدہ اور کثیر جہتی ہیں۔ امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی کو اس تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اس کے مضر اثرات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اصل عوامل میں عالمی موسمیاتی تبدیلی، انسانی سرگرمیاں، اور قدرتی نظام شامل ہیں۔ ہمیں ان عوامل کو سمجھ کر ہی مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ اس خطے کو ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
گوہر پیرزادہ
اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا7 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا7 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا4 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط








































































































