پاکستان
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

منصور آفاق
نواز شریف اور شہباز شریف نے پارٹی کی ہائی کمان کو لندن بلا لیا۔ کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ شہباز شریف نے خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، ملک احمد خان، امیر مقام، رانا تنویر اور ایاز صادق سے علیحدہ علیحدہ تفصیلی ملاقات کیں۔ نواز شریف پرویز رشید سے تنہائی میں ملے۔
سنا ہے اس ملاقات کا موضوع مریم نواز کا مستقبل تھا۔ وہ فکرمند ہیں کہ سپریم کورٹ کہیں مریم نواز کی ضمانت منسوخ نہ کر دے۔ فائنل میٹنگ کے لئے جو ایجنڈا نواز شریف کو بھیجا گیا ہے اس کی شقیں درج ذیل ہیں۔ 1۔آرمی ایکٹ میں ترمیم۔ 2۔الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی۔ 3۔اِن ہاؤس تبدیلی۔ 4۔پرویز الٰہی کی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد۔ 5۔لیڈر شپ کے خلاف مقدمات پر نون لیگ کا رویہ۔ 6۔حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز۔ 7۔نیا بیانیہ کیا ہونا چاہئے۔ 8۔اسٹیبلشمنٹ سے مراسم۔ اب دیکھتے ہیں کہ میٹنگ میں کس کس پر بحث ہوتی ہے۔
بیمار نواز شریف نے باقاعدہ سیاسی سر گرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ شہباز شریف کی صحت بھی بہتر نہیں۔ شاید اِسی لئے نواز شریف، شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم بنانے کے موضوع پر بالکل خاموش ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ مستقبل میں اقتدار مریم نواز کو ملے۔ انہیں تمام مقدمات سے باعزت بری ہونا چاہئے۔ مریم نواز کی موجودہ خاموشی شاید اِسی طرح کی کسی ڈیل کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
بہرحال یہ بات طے ہے کہ شریف فیملی کے ایجنڈے کی پہلی شق یہی ہے کہ کسی طرح مقدمات سے نجات حاصل کی جائے۔ سزائیں ختم کرائی جائیں۔ اس میں شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ مینگل، چوہدری اور ایم کیو ایم نون لیگ سے مل گئی تو عمران خان کی حکومت کے لئے سچ مچ کے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں عمران خان نئے انتخابات کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی بھی خاصی پریشان ہے۔ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ اس کے باپ کو بھی نواز شریف کی طرح ملک سے باہر علاج کرانے کا حق ملنا چاہئے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی باقاعدہ کمپین چلا رہی ہے۔ میڈیا کی وساطت سے اس ایشو کو اٹھایا گیا ہے۔ دوسری طرف آصف علی زرداری ہیں کہ ملک سے باہر جانا ہی نہیں چاہتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جیل میں رہ کر وہ پیپلز پارٹی کی زیادہ بہتر قیادت کر سکتے ہیں۔ بے شک آصف علی زرداری خاصے سخت جان لیڈر ہیں۔ اُن پر پی ٹی آئی کے رہنما شہزادہ جہانگیر نے محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام لگایا ہے اور دعویٰ کیا ہے خود انہیں آصف علی زرداری نے کہا تھا محترمہ کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ محترمہ ناہید خان بھی پہلے دبے الفاظ میں ایسی باتیں کرتی رہی ہیں۔ شہزادہ جہانگیر کا معاملہ بہت سیریس ہے وہ برطانوی شہری ہیں اُن کے خلاف پیپلز پارٹی ضرور برطانوی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ کہتے ہیں کہ محترمہ کے قتل کو چھپانے کے لئے خالد شہنشاہ کے قتل تک مقتولین کی ایک لمبی فہرست ہے۔ بہرحال الزام تو الزام ہی ہوتا ہے۔ محترمہ کا خون ابھی تک اپنے اصل قاتلوں کی نشاندہی چاہتا ہے۔ سنا تو یہی تھا کہ خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ۔ مگر یہاں ابھی تک خون اور قانون دونوں خاموش ہیں۔ یہی حالت ماڈل ٹائون کے شہیدوں کی ہے۔ وہاں بھی وقت انصاف کی تلاش میں رکا ہوا ہے۔
پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی قیادت پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے۔ اُن کے خیال میں اُن کی قیادت پر لگائے جانے والے تمام الزامات سیاسی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت دراصل پیپلز پارٹی کے خلاف میڈیا وار لڑ رہی ہے جس کا آغاز جنرل محمد ضیاء الحق نے کیا تھا۔ البتہ پیپلز پارٹی نون لیگ کے ساتھ تمام معاملات طے کر چکی ہے۔ کہہ چکی ہے کہ اِن ہائوس تبدیلی ہو یا قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونا، پیپلز پارٹی ساتھ ہے مگر صوبائی سطح پر پیپلز پارٹی مستعفی نہیں ہوگی۔ یعنی وہ سندھ کی حکومت چھوڑنے کے لئے کسی قیمت پر تیار نہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے ابھی کل کہا ہے ’’سندھ حکومت کا طرزِ حکمرانی خراب نہیں ناکام ہے۔ اربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت ملے ہیں اور کرپشن کے خلاف جہاد کرنے آیا ہوں کرپٹ لوگوں سے کوئی ڈیل ہوگی نہ ڈھیل۔ گزشتہ 10سال میں سب سے زیادہ کرپشن سندھ میں ہوئی‘۔ اب پاکستان میں کرپٹ افراد کی گنجائش نہیں۔ سب کی باری آئے گی، کوئی نہیں بچے گا، تحریک انصاف کی حکومت کا تو بنیادی ایجنڈا ہی کرپشن کا خاتمہ ہے‘‘۔
دوسری طرف اپوزیشن موجودہ حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہے مگر ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ میرے خیال میں چھوٹی سطح پر ممکن ہے ابھی کچھ کرپشن ہو مگر بڑی سطح پر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے سوراخ بند کر دیے گئے ہیں۔ بیورو کریسی میں بھی کرپشن میں خاصی حد تک کمی ہوئی ہے۔ سیاسی بھرتیوں کا معاملہ بھی نظر نہیں آرہا۔ پر مٹ وغیرہ بھی جاری نہیں کئے جا رہے۔ ٹیکس کی چوری روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلی بار آفیسر سے کہہ دیا گیا ہے کہ اب ’’سزا‘‘ کے طور پر تبادلہ نہیں، ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ اللہ کرم کرے گا۔ تمام لٹیرے مل کر بھی سچائی کا گلا نہیں گھونٹ سکیں گے۔(جنگ)
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)
پاکستان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل
اسلام آباد، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے حکام نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ورکنگ سیشن کے بعد ایرانی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات طے ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور اپنے دورہ پاکستان کا ایجنڈا مکمل کرنے کے بعد ایرانی وفد اسلام آباد سے مسقط اور پھر ماسکو کے لیے روانہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج اسلام آباد جا رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے دعویٰ کیا صدر ٹرمپ کے کہنے پر ایرانی حکام نے خود رابطہ کیا۔
ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کیلئے کہا اسی لیے صدر ٹرمپ وفد بھیج رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ جے ڈی وینس ابھی یہیں رہیں گے، صورتحال پر نظر رکھیں گے، امید ہے بات چیت نتیجہ خیز ہوگی اور ڈیل کی جانب بڑھے گی، مذاکراتی عمل میں صدر ٹرمپ نے اپنی ریڈ لائنز واضح کی ہیں، مذاکرات کے عمل میں پاکستان حیرت انگیز ثالث رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایکس پر بیان میں لکھا پاکستان امن کی بحالی کیلئے ثالثی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان صرف دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے لیے ہے، عباس عراقچی کو ایٹمی معاملے پر مذاکرات کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
اسلام آباد، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔ رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہ: علیمہ خان
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
محترمہ خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو 16 اکتوبر 2025 سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہوں نے 2025 میں اپنے بیٹوں سے صرف دو بار بات کی اور ایک بار فروری 2026 میں، وہ بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد۔ بیان کے مطابق اسے پڑھنے کے لیے کتابیں بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور جو کتابیں بھیجی گئی ہیں ان میں سے وہ صرف تین ہی وصول کر سکیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر خان، جو کہ دوسری صورت میں صحت مند تھے، اچانک ان کی آنکھ میں خون کا جمنا پیدا ہوگیا، لیکن انہیں بروقت طبی امداد دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس نے دو ہفتوں تک جیل حکام کو بتایا کہ وہ دیکھنے سے قاصر ہے، اس کے باوجود علاج میں تاخیر ہوئی۔ الزام ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم نے تین ماہ تک ماہر ڈاکٹر کو بلانے میں تاخیر کی جس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچا۔
اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دوسری آنکھ بھی اسی طرح کی پریشانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر خان نے پچھلے کچھ مہینوں میں کئی بار علاج سے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور ایک انجیکشن کے بعد ان میں معمولی بہتری آئی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دریں اثناء ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور حال ہی میں ان کا آپریشن ہوا۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مسٹر خان کو بیماری کی وجہ معلوم کرنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مناسب معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔ محترمہ خان نے اسے “غیر انسانی” قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































