تازہ ترین
رمضان نفرت پر قابو پانے کی تحریک دیتا ہے: ڈونالڈ ٹرمپ

خبراردو :صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نےرمضان کے مقدس مہینے میں مذہبی فریضہ انجام دینے والے امریکہ اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو دل کی گہرائیوں سے تہنیت ارسال کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ’’ رمضان کے جذبے میں ہم سب مل کر ایک مزید ہم آہنگ اور بااخلاق معاشرہ تخلیق کرنے کا مقصد پا سکتے ہیں‘‘۔
اس تمہید کے ساتھ کہ ’’میرے ساتھ میلانیا بھی ۔رحمتوں بھرے اس مہینے کی آمد پر مسلمانوں کے لئے نیک خواہشات پیش کرتی ہیں‘‘اپنے تہنیتی پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ مبارک مہینہ عطا کردہ رحمتوں پر غوروفکر اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدمی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے کام کا موقع فراہم کرتا ہے، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ پر قرآن مقدس کے نزول کی یاد دلاتا ہے اور مسلمانان اس ماہ مقدس کا چاند نظر آنے پرباطنی فکر، روحانی تجدید اور عبادت کے مہینے کا آغاز کر کے اس نزول کی تعظیم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے دوران ’’مسلمان طلوع سحر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ سخاوت اور خیرخواہی پر مبنی نیک افعال انجام دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی روحانی زندگی میں مقصد سے متعلق تجدیدی احساس پیدا کرتے ہیں اور خدا کے کرم و رحمت کے لیے بھرپور شکرگزاری کرتے ہیں‘‘۔
امریکی وزیر خارجہ پومپئو نے بھی اندرون و بیرون ملک مسلمانوں کے لئے رمضان مقدس کی آمد پر نیک خواہشات کا اظہار کیا اور گزشتہ ماہ تین ابراہیمی مذاہب کی عبادت گاہوں پر حملے کے پیش نظر امید ظاہر کی کہ دنیا بھر میں فرد کے اپنے عقیدے پر آزادانہ عمل کی اہلیت کو درپیش سنگین مسائل حل کیے جا سکتے ہیں اگر حکومتیں اور عوام مل کر سبھی کے لئے مذہبی آزادی کے فروغ کی خاطر اکٹھے کام کریں۔ اس طرح اُس نفرت پر قابو پا یا جا سکتا ہے جو ایسے حملہ آوروں کو تحریک دیتی ہے۔
پومپئو نے کہا کہ رمضان بہت سے مسلمانوں کے لیے روحانی تجدید، مہربانی ، غریبوں کے لیے دردمندی اور متنوع معاشروں میں ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اس موقع پر ’’ امریکہ میں بہت سی مساجد اور گھروں میں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور ہمسایوں کا مساوات، رحم دلی اور فیاضی کی مشترکہ امریکی اقدار کے تحت خیرمقدم کیا جاتا ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ رمضان تمام عقائد اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مشترکہ دردمندی، احترام اور ایک دوسرے کی مدد کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ روزانہ روزہ کھولنے اور دوسروں کو کھانے میں شریک کرنے کی بدولت رمضان ہمارے معاشرتی تعلقات میں مضبوطی لاتا اور سماجی خدمت پر زور دیتا ہے۔ ’’اسی جذبے کے تحت ہم عقیدے سے قطع نظر ایک دوسرے کے لیے اپنی باہمی ذمہ داریوں پر غوروفکر اور بہترین فرد بننے کی سعی کرتے ہیں‘‘۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سے امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے افطار کے ساتھ استقبالیہ تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں جس سے امریکی سفارت کاری کی بنیادی طاقت کا اظہار ہوتا ہے اور مذہبی آزادی، مذہبی اقلیتی برادریوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور ان کے احترام اور امن کے لیے شراکتوں پر ہمارا عزم مزید تقویت پاتا ہے۔
دنیا
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں، وہ ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش سے مطمئن نہیں نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ امریکی صدر نے اپنے مشیروں کو بتایا ایران کی پیش کش حقیقت سے انکاری ہے، جب کہ امریکی عہدے دار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ جوہری مطالبات پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اخبار کے مطابق ایران کی تجویز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے، جب کہ جوہری پروگرام کا معاملہ ایرانی پیشکش میں شامل نہیں ہے، ایران کا یورینیم ذخیرہ حوالے کرنے اور پروگرام معطل کرنے سے انکار برقرار ہے، جب کہ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری مذاکرات میں تاخیر عالمی توانائی و مالی منڈیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جب کہ ایران کی شرط ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ روایتی طور پر عالمی آبی گزرگاہوں پر پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے، تاہم فوجی دباؤ کے باوجود ایران کے مؤقف میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں، کچھ حکام کے نزدیک آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ ہی بہتر راستہ ہے۔
ادھر روئٹرز نے بھی ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز سے خوش نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سے ایران تنازع کے حل کی امیدیں کمزور ہو گئی ہیں۔ خیال رہے کہ ایران کی نئی تجویز ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو اس وقت تک مؤخر رکھا جائے گا جب تک جنگ ختم نہ ہو جائے اور خلیج میں جہاز رانی سے متعلق تنازعات حل نہ ہو جائیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کانگریس نے اوڈیشہ کے رائگڑا اور کالاہانڈی اضلاع میں کان کنی کے لیے قبائلی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے منگل کو اوڈیشہ کے رائگڑا اور کالاہانڈی اضلاع میں مجوزہ باکسائٹ کانکنی پروجیکٹ کے سلسلے میں قبائلی حقوق اور ماحولیاتی تحفظات کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا انہوں نے خطے میں حالیہ بدامنی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر رمیش نے کہا کہ اڈیشہ کی عوامی مزاحمت کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، خاص طور پر جب ماحولیاتی نتائج کے ساتھ کان کنی کے پروجیکٹوں کو آئینی اور قانونی تحفظات کی پیروی کیے بغیر ’جبراً تھوپا‘ جاتا ہے۔ انہوں نے سیجیمالی میں مجوزہ پروجیکٹ کو اسی ’مایوس کن کہانی‘ کا حصہ قرار دیا۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ قبائلی اور جنگل میں رہنے والی برادریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے کلیدی قوانین، جن میں پنچایت (شیڈولڈ ایریاز تک توسیع) ایکٹ (پیسا) 1996، اور جنگلات کے حقوق ایکٹ 2006 شامل ہیں، ان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے دعویٰ کیا کہ جب حالیہ دنوں میں مظاہرے شروع ہوئے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’ضرورت سے زیادہ طاقت‘ کا استعمال کیا، جس میں خاص طور پر شیڈولڈ ٹرائب کمیونٹیز اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں درج فہرست ذاتوں/ درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ 1989 کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
سیاسی سیاق و سباق کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ چونکہ اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر دونوں کا تعلق ایک ہی ریاست سے ہے، اس لیے انہیں اس معاملے سے نمٹنے میں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے قبائلی امور کے مرکزی وزیر پر زور دیا کہ وہ سیجیمالی بدامنی کی آزادانہ انکوائری کا حکم دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پی ای ایس اے اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے التزامات کو شفاف اور شراکتی عمل کے ذریعے ’لفظ بہ لفظ‘ لاگو کیا جائے۔
یہ الزامات جنوبی اوڈیشہ کے کچھ حصوں میں جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں قبائلی برادریوں نے نقل مکانی، ماحولیاتی انحطاط اور روایتی حقوق کے نقصان کے خدشات پر کان کنی کے پروجیکٹس پر اکثر احتجاج کیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
منیش سسودیا نے بھی جسٹس سوارن کانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا
نئی دہلی، اروند کیجریوال کے بعد اب دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھی جسٹس سوارن کانتا شرما کو خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں نہ تو وہ اور نہ ہی ان کے وکیل ان کی عدالت میں پیش ہوں گے اپنے خط اور سوشل میڈیا ‘ایسک’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر سسودیا نے کہا کہ ‘پورے احترام کے ساتھ’، ان کا ضمیر انہیں موجودہ حالات میں جج کے سامنے کارروائی میں حصہ لینا جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’یہ کسی فرد کا سوال نہیں ہے، بلکہ اس اعتماد کا سوال ہے جس پر نظام انصاف قائم ہے کہ ہر شہری کو نہ صرف انصاف ملنا چاہیے بلکہ انصاف ہوتے وہئے نظر بھی آنا بھی چاہیے۔
سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عدلیہ اور آئین پر ان کا اعتماد ’’غیر متزلزل‘‘ ہے لیکن جب دل میں سنگین شکوک پیدا ہوں تو محض رسمی شرکت مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس لیے، میرے پاس ستیہ گرہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔
یہ اقدام مسٹر کیجریوال کے ذریعہ اسی طرح کا مؤقف اختیار کرنے کے کچھ ہی وقت کے بعد آیا ہے، جنہوں نے اپنے ریکیوزل درخواست (جج کو معاملے سے ہٹنے کی عرضی) خارج ہونے کے بعد عدالت میں پیش ہونے ست انکار کردیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک غیر معمولی اورتلخ ٹکراؤ کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) دونوں سینئر لیڈروں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا4 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط










































































































