جموں و کشمیر
ساحلی شہر ویشاکھاپٹنم میں قومی تقریب،وزیراعظم مودی مہمان خصوصی،جموں وکشمیر بھی تیار

آج یعنی 21جون2025کویوگا کا 11واںبین الاقوامی دن
مرکزی خیالیہ ’ایک زمین ،ایک صحت‘کیساتھ ملک بھرمیں یوگاکے 8لاکھ پروگرام
سری نگر : جے کے این ایس : آج یعنی 21جون2025کویوگا کا 11واںبین الاقوامی دن منایا جا رہا ہے، اس سال کا تھیم’یوگابرائے ایک زمین ،ایک صحت‘ ہے۔ملک بھر آج یوگاکے حوالے سے 8لاکھ پروگرام منعقد ہونگے جبکہ عالمی سطح پر175ممالک یوگا کاعالمی دن منائیں گے ۔وزیراعظم نریندر مودی ،آج آندھرا پردیش کے مشہور ساحلی شہر ویشاکھاپٹنم میں ہزاروں لوگوں کیساتھ قومی سطح کے یوگا پروگرام میں حصہ لیں گے ۔جے کے این ایس کے مطابق جسمانی،روھانی ا ورذہنی صحت کوبڑھانے کی ایک اہم مشق وعمل یوگا کے 11واں بین الاقوامی دن فلیگ شپ پروگرام’یوگا سنگم‘کےساتھ منایا جا رہا ہے جس میں ملک بھر میں ایک لاکھ مقامات پر یوگا کی نمائش کی جائے گی۔یوگا کا بین الاقوامی دن2015 میں اپنے آغاز کے بعد سے عالمی تقریب کی 11ویں قسط ہوگی۔ اس سال کی تقریب کا تھیم’یوگا فار ون ارتھ، ون ہیلتھ‘یعنی’یوگابرائے ایک زمین،ایک صحت‘ ہے، جس کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سا ل 30 مارچ کو اپنے ماہانہ ریڈیو نشریات’من کی بات‘کے دوران کیا تھا۔یوگا کا افتتاحی عالمی دن 21 جون 2021 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پیش کی گئی اقوام متحدہ کی قرارداد پر منایا گیا۔ 21 جون، شمالی نصف کرہ کے موسم گرما کے سولسٹس دن جب دن اور رات ایک دوسرے کو آپس میں ملاتے ہیں، اس دن کو دماغ اور جسم کے لیے یوگا کے فوائد کی علامت کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔حکومت ہند نے ایک بیان میں کہاہے کہ اس سال کا تھیم مجموعی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں یوگا کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
پچھلی دہائی کے دوران، یوگا کا بین الاقوامی دن ایک عالمی تحریک میں تبدیل ہوا ہے، جس نے جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کو بڑھانے کے لیے لاکھوں افراد کو یوگا کی مشق میں متحد کیا ہے۔یوگا کا 11واںبین الاقوامی دن ہر تقریب کے ساتھ 10 دستخطی پروگرام پیش کیے جائیں گے جس کا مقصد تمام کے لیے یوگا کی حقیقی روح کو مجسم کرنے والے متنوع گروپوں کو شامل کرنا ہے۔10 ایونٹس میں سے، فلیگ شپ ایونٹ، ’یوگا سنگم‘ 21 جون کو صبح 6بجکر30منٹ سے صبح 7بجکر 45منٹ تک شیڈول ہے اور یہ پورے ہندوستان میںایک لاکھ مقامات پر بڑے پیمانے پر یوگا کے مظاہروں کی نمائش کرے گا۔
دیگر نو دستخطی واقعات تعمیر میں حصہ ڈالیں گے اور ان میں،یوگا بندھن،یوگا پارک،یوگا سماویش،یوگا پربھاوا،یوگا کنیکٹ،ہریت یوگا،یوگا ان پلگ،یوگا مہاکمب اورسم یوگا شامل ہیں۔یوگا کے عالمی دن 2025 پر ملک میں اہم قومی تقریب 21 جون کو صبح 6.ساڑھے6سے9بجے تک وشاکھاپٹنم، آندھرا پردیش میں منعقد ہوگی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ یہ عظیم الشان تقریب کرشنا ضلع کے وجیا انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسز میں منعقد ہوگی۔آندھرا پردیش میں مرکزی تقریب کے علاوہ باقی ریاستوں میں بھی سینکڑوں تقریبات کا شیڈول ہے۔ جموں وکشمیر میں یوگا کے11ویں بین الااقوامی دن کے موقعہ پرآج یعنی21جون 2025کو صبح کے اوقات میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں جھیل ڈل کے کنارے ایک بڑا پروگرام طے ہے ،جس میں ہزاروں طلباءوطالبات اور دیگر نوجوانوں کیساتھ ساتھ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور سیول وپولیس انتظامیہ کے سینئر حکام کی شرکت متوقع ہے ۔جموں وکشمیر کے تمام بیس اضلاع بشمول سری نگراور جموںمیں آج یوگا کے گیارہویں بین الااقوامی دن کے حوالے سے تقریبات اور پروگراموں کاانعقاد ہورہاہے۔پرتاپ راو ¿ جادھو، آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے وزیر مملکت نے یوگا کو ہر شہری تک لے جانے کے وزیر اعظم کے ویڑن کو پورے طور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کے نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ یوگا کا بین الاقوامی دن صرف ایک جشن نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو وزارتوں، اداروں اور شہریوں کو مجموعی صحت کے لیے مشترکہ عزم میں متحد کرتی ہے۔
جموں و کشمیر
کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی،وادیِ کشمیر کے تشخص پر میرواعظ کا مؤقف
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو فراموش یا مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر کی تاریخ کا آغاز 2019 سے نہیں ہوا۔
میرواعظ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش پر مبنی مواد سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے آٹھ سرکاری افسران کی معطلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس میں مختلف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ادوار شامل ہیں۔
نہوں نے کہا، “کشمیر کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمیں اس کے ہر باب پر فخر ہے۔ اس میں بدھ مت کا دور، شیو مت، ہندو دھرم، اسلام کی آمد اور بعد ازاں 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کے تمام اہم تاریخی مراحل شامل ہیں۔”
میرواعظ نے کہا کہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مختلف ادوار اور واقعات پر متعدد مصنفین نے اپنی اپنی آرا اور تحقیقات قلم بند کی ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کی تاریخ 2019 کے بعد شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے تمام بیانیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمہ، علمی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، “کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔”
میرواعظ نے مزید کہا کہ تاریخ کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے صرف ان حصوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق، معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور علمی بحث سے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندی لگانے یا مختلف آرا کو خاموش کرانے سے۔
انہوں نے کتابوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نامناسب پیغام دیتے ہیں، جبکہ تاریخی حقائق اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سرکاری اناج غبن معاملہ، 5 اعلیٰ حکام سمیت 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج
سرینگر، جموں و کشمیر کے اینٹی کرپشن بیورو نے پیر کے روز ضلع کپواڑہ کے کرناہ علاقے میں سرکاری راشن (اناج) کے بڑے پیمانے پر غبن، خرد برد اور ہیرا پھیری کے الزام میں محکمہ خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین کے پانچ اعلیٰ افسران اور نو (9) سرکاری راشن ڈیلرز کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد، کرپشن کے اس سنگین معاملے میں اے سی بی پولیس اسٹیشن بارہمولہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اے سی بی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر کی جانب سے موصول ہونے والے ایک سرکاری خط کے بعد کی گئی ہے۔ خط میں محکمانہ معائنے اور فزیکل ویریفکیشن (جسمانی تصدیق) کے دوران سرکاری اناج کے اسٹاک میں بھاری کمی پائے جانے پر مجرمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
سرکاری گوداموں پر کیے گئے اچانک مشترکہ معائنے میں ابتدائی طور پر کپواڑہ کے کرناہ میں واقع ‘لونتھا فوڈ اسٹور’ سے 4,175.89 کوئنٹل چاول کم پائے گئے تھے۔
محکمہ کی ذیلی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ اور اے سی بی کی گہری چھان بین کے بعد انکشاف ہوا کہ ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈھار، کرناہ-اے اور کرناہ-بی سرکلز کے تحت آنے والے مختلف سرکاری سیلز سینٹرز اور راشن کی دکانوں پر اناج کا ایک بڑا حصہ غائب تھا۔ اس سوچے سمجھے غبن کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 5.57 کروڑ روپے کا خطیر نقصان پہنچا ہے۔
“سرکاری اناج کی یہ بڑی کمی دراصل سرکاری ملازمین اور نجی فائدہ اٹھانے والوں (ڈیلرز) کی ملی بھگت سے رچی گئی ایک ‘منظم مجرمانہ سازش’ کا نتیجہ ہے۔ ان افراد نے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور غریبوں کے راشن میں ہیرا پھیری کی۔”
تفتیش اور تصدیق کے دوران حاصل ہونے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر، اے سی بی نے ملزمان کے خلاف فرائض میں غفلت، مجرمانہ خیانت (امانت میں خیانت)، سرکاری اناج چوری کرنے اور سازش رچنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
نامزد کیے گئے اہم ملزمان میں
عمر بشیر عرف راجہ عمر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر)
عاشق حسین میر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر) شامل ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر 12 افراد، جن میں محکمہ کے ملازمین اور راشن ڈپو کے ڈیلرز شامل ہیں۔
اے سی بی حکام کے مطابق، معاملے کی تفصیلی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھوٹالے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلاب اورلینڈ سلایئڈنگ سے متعدد گاڑیاں ملبے میں دب گئیں
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں موسلا دھار بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلاب اور بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے( لینڈ سلایئڈنگ) کے باعث شدید تباہی ہوئی ہے۔ 540 میگاواٹ کے زیرِ تعمیر ‘کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ’ کے نزدیک کئی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں اور متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، متاثرہ گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے اور راستوں کو دوبارہ آمد و رفت کے لیے بحال کرنے کے لیے امدادی ٹیموں اور بھاری مشینریکو فوری طور پر کام پر لگا دیا گیا ہے۔
کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ضلع ڈوڈا کے کئی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے اور سیلابی ریلے کے باعث عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے اور کئی مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ضلع سے کسی جانی نقصان یا کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا”کشتواڑ سے رپورٹ ملنے کے فوراً بعد میں نے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار سے بات چیت کی ہے۔ اطلاعات تھیں کہ سیلاب کا پانی زیرِ تعمیر 540 میگاواٹ کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے احاطے میں داخل ہو گیا ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا تسلی بخش بات یہ ہے کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پروجیکٹ سے وابستہ کچھ قیمتی مشینری کو بھی کسی نقصان کے بغیر بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، زیرِ تعمیر پروجیکٹ کا ہر حصہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔”انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا5 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا7 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
ہندوستان6 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان7 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا
دنیا5 days agoامریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانہ تعمیر کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے



































































































