جموں و کشمیر
کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی،وادیِ کشمیر کے تشخص پر میرواعظ کا مؤقف
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو فراموش یا مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر کی تاریخ کا آغاز 2019 سے نہیں ہوا۔
میرواعظ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش پر مبنی مواد سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے آٹھ سرکاری افسران کی معطلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس میں مختلف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ادوار شامل ہیں۔
نہوں نے کہا، “کشمیر کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمیں اس کے ہر باب پر فخر ہے۔ اس میں بدھ مت کا دور، شیو مت، ہندو دھرم، اسلام کی آمد اور بعد ازاں 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کے تمام اہم تاریخی مراحل شامل ہیں۔”
میرواعظ نے کہا کہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مختلف ادوار اور واقعات پر متعدد مصنفین نے اپنی اپنی آرا اور تحقیقات قلم بند کی ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کی تاریخ 2019 کے بعد شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے تمام بیانیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمہ، علمی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، “کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔”
میرواعظ نے مزید کہا کہ تاریخ کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے صرف ان حصوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق، معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور علمی بحث سے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندی لگانے یا مختلف آرا کو خاموش کرانے سے۔
انہوں نے کتابوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نامناسب پیغام دیتے ہیں، جبکہ تاریخی حقائق اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سرکاری اناج غبن معاملہ، 5 اعلیٰ حکام سمیت 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج
سرینگر، جموں و کشمیر کے اینٹی کرپشن بیورو نے پیر کے روز ضلع کپواڑہ کے کرناہ علاقے میں سرکاری راشن (اناج) کے بڑے پیمانے پر غبن، خرد برد اور ہیرا پھیری کے الزام میں محکمہ خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین کے پانچ اعلیٰ افسران اور نو (9) سرکاری راشن ڈیلرز کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد، کرپشن کے اس سنگین معاملے میں اے سی بی پولیس اسٹیشن بارہمولہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اے سی بی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر کی جانب سے موصول ہونے والے ایک سرکاری خط کے بعد کی گئی ہے۔ خط میں محکمانہ معائنے اور فزیکل ویریفکیشن (جسمانی تصدیق) کے دوران سرکاری اناج کے اسٹاک میں بھاری کمی پائے جانے پر مجرمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
سرکاری گوداموں پر کیے گئے اچانک مشترکہ معائنے میں ابتدائی طور پر کپواڑہ کے کرناہ میں واقع ‘لونتھا فوڈ اسٹور’ سے 4,175.89 کوئنٹل چاول کم پائے گئے تھے۔
محکمہ کی ذیلی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ اور اے سی بی کی گہری چھان بین کے بعد انکشاف ہوا کہ ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈھار، کرناہ-اے اور کرناہ-بی سرکلز کے تحت آنے والے مختلف سرکاری سیلز سینٹرز اور راشن کی دکانوں پر اناج کا ایک بڑا حصہ غائب تھا۔ اس سوچے سمجھے غبن کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 5.57 کروڑ روپے کا خطیر نقصان پہنچا ہے۔
“سرکاری اناج کی یہ بڑی کمی دراصل سرکاری ملازمین اور نجی فائدہ اٹھانے والوں (ڈیلرز) کی ملی بھگت سے رچی گئی ایک ‘منظم مجرمانہ سازش’ کا نتیجہ ہے۔ ان افراد نے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور غریبوں کے راشن میں ہیرا پھیری کی۔”
تفتیش اور تصدیق کے دوران حاصل ہونے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر، اے سی بی نے ملزمان کے خلاف فرائض میں غفلت، مجرمانہ خیانت (امانت میں خیانت)، سرکاری اناج چوری کرنے اور سازش رچنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
نامزد کیے گئے اہم ملزمان میں
عمر بشیر عرف راجہ عمر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر)
عاشق حسین میر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر) شامل ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر 12 افراد، جن میں محکمہ کے ملازمین اور راشن ڈپو کے ڈیلرز شامل ہیں۔
اے سی بی حکام کے مطابق، معاملے کی تفصیلی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھوٹالے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلاب اورلینڈ سلایئڈنگ سے متعدد گاڑیاں ملبے میں دب گئیں
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں موسلا دھار بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلاب اور بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے( لینڈ سلایئڈنگ) کے باعث شدید تباہی ہوئی ہے۔ 540 میگاواٹ کے زیرِ تعمیر ‘کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ’ کے نزدیک کئی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں اور متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، متاثرہ گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے اور راستوں کو دوبارہ آمد و رفت کے لیے بحال کرنے کے لیے امدادی ٹیموں اور بھاری مشینریکو فوری طور پر کام پر لگا دیا گیا ہے۔
کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ضلع ڈوڈا کے کئی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے اور سیلابی ریلے کے باعث عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے اور کئی مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ضلع سے کسی جانی نقصان یا کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا”کشتواڑ سے رپورٹ ملنے کے فوراً بعد میں نے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار سے بات چیت کی ہے۔ اطلاعات تھیں کہ سیلاب کا پانی زیرِ تعمیر 540 میگاواٹ کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے احاطے میں داخل ہو گیا ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا تسلی بخش بات یہ ہے کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پروجیکٹ سے وابستہ کچھ قیمتی مشینری کو بھی کسی نقصان کے بغیر بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، زیرِ تعمیر پروجیکٹ کا ہر حصہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔”انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
پیر کے روز سرینگر ہوائی اڈے سے تمام تجارتی پروازیں منسوخ، مسافروں کو الرٹ جاری
سرینگر، سرینگر ہوائی اڈے سے پیر کے روز کوئی بھی باقاعدہ تجارتی پرواز اڑان نہیں بھر سکے گی۔ ایئرپورٹ اتھارٹی نے آج اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ ایئرپورٹ اتھارٹی نے ہفتے کے روز رن وے کے مرمتی کام کے پیشِ نظر تین ماہ تک ہفتے میں دو دن فلائٹس بند رکھنے کا اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اتھارٹی کے اس اقدام سے جموں و کشمیر کی سیاحتی صنعت نے بڑی راحت کی سانس لی ہے۔
سرینگر ایئرپورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں بتایا کہ پیر اور منگل کے لیے مجوزہ ‘نوٹس ٹو ایئر مین’ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد تمام ایئر لائنز اپنے فلائٹ شیڈول کو دوبارہ ترتیب دینے اور پروازوں کو بحال کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ “تبدیل شدہ ٹائم ٹیبل کو حتمی شکل دینے اور اسے شائع کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
متعلقہ ایئر لائنز کی جانب سے نیا شیڈول جاری ہونے کے بعد پیر اور منگل کی فلائٹ سروسز مکمل طور پر بحال ہونے کی امید ہے۔”ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئر لائنز سے پرواز کی تازہ ترین صورتحال معلوم کر لیں اور افواہوں سے بچنے کے لیے صرف سرکاری اور مستند ذرائع پر ہی بھروسہ کریں۔
گزشتہ روز کی ٹریفک رپورٹ:اتوار کے روز سرینگر ہوائی اڈے پر فلائٹ آپریشنز عروج پر رہے:
کل پروازیں: 72 (36 آمد اور 36 روانگی)کل مسافر: 13,031 مسافروں نے سفر کیا۔
آمد و روانگی کے اعدادوشمار: 6,654 مسافر وادی پہنچے، جبکہ 6,377 مسافروں نے سرینگر سے دیگر شہروں کے لیے اڑان بھری۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا4 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا6 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
دنیا5 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
ہندوستان5 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان6 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا
دنیا4 days agoامریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانہ تعمیر کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے



































































































