تازہ ترین
سرینگر میں چوری کا معاملہ:مشتبہ شخص کی شناخت کے لئے عام لوگوں سے مدد

خبراردو:-
سرینگر:سرینگر پولیس نے دستگیر صاحب شرائن خان یار میں چوری میں ملوث کیمرے میں پکڑے گئے چور کی نشاندہی کرنے میں عام لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق مورخہ13-09-2020کو، پولیس اسٹیشن خان یار کو دستگیر صاحب شرائن خان یار کی انتظامہ کمیٹی سے اطلاع ملی کہ رات کے دوران کچھ نہتے ہوئے چوروں نے عطیہ کی صندوق سے کچھ نقد رقم چھیننے پر عطیہ کی صندوق کوتوڑنے کی کوشش کی۔ جبکہ جرائم کے بعد، مشتبہ شخص موقع سے فرار ہوگیا۔
اسی مناسبت سے پولیس اسٹیشن خانیار میں قانون کے متعلقہدفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 66/2020 کو درج کیا گیا، اور تفتیش شروع کی۔ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقاتکے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ دوران تحقیقات سائنسی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک مشتبہ شخص کی تصویردیکھی گئی۔ اس سلسلے میں سرینگر پولیس کی طرف سے عام لوگوں سے گزارش ہے کہ مشتبہ شخص کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہو تو ان نمبرات پر 0194-2455049، 7006621918، 9469665786 اور9596760874 یا 112 پر پولیس کنٹرول روم کے ساتھ سر شیئر کریں۔
ہندوستان
طالب علموں کے تینوں مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وزیرِ تعلیم کو ہٹانا ہی ہوگا: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ احتجاج کر رہے طالب علموں کے تینوں مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹانا ہی ہو گا۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو یہاں 10 جن پتھ کے باہر صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کو طالب علموں اور ملک کے مستقبل کے ساتھ ہوئے واقعہ کے لیے معافی مانگنی ہوگی۔ انہوں نے کہا “طلبا کا پہلا مطالبہ بدعنوان ، نااہل اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام وزیرِ تعلیم کو برطرف کرنا ہے۔ انہیں وزارتِ تعلیم سے ہٹا کر کسی دوسری وزارت میں بھیجے جانے کی بات چل رہی ہے لیکن یہ نہ تو طالب علموں کو قبول ہے اور نہ ہی ملک کے لوگوں کو۔”
انہوں نے کہا کہ مسٹر پردھان کرپشن نیز ملک کے طالب علموں اور ان کے مستقبل کے ساتھ ہوئے ناانصافی کی علامت بن چکے ہیں۔ اس لیے انہیں کسی دوسری وزارت میں بھیجنے کی نہیں، بلکہ عہدے سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والے نیز اس کی منصوبہ بندی کرنے اور اسے نافذ کرنے والے تمام لوگوں کو سزا دی جائے اور انہیں جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک کے دوران ایک طالبہ زخمی ہوئی ہے، جبکہ ایک طالب علم کی آنکھ میں گولی لگی۔ اس کے علاوہ ہزاروں طالب علموں کے سر اور پیروں پر لاٹھیاں برسی ہیں نیز کئی کے جسم میں چھرے لگے۔ ان تمام واقعات کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ اس پورے نظام کے سربراہ ہونے کے ناطے مسٹر مودی طالب علموں اور ملک کے مستقبل کے ساتھ جو ہوا اس کے لیے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والے اس نظام سے طالب علموں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کی پوری طاقت بھی انہیں مظاہرے کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے مظاہرہ روکنے کی کوشش کرے، دھمکائے یا کوئی بھی دباؤ بنائے، اپوزیشن اور طالب علم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم ملک کا مستقبل ہیں اور ان سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کہا، “مسٹر مودی ہندوستان کا ماضی ہیں اور ماضی کبھی مستقبل سے نہیں لڑ سکتا۔”
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا
اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو اس کیساتھ جوہری معاہدہ نہیں کریں گے: ٹرمپ کا اعلان
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو اس کے ساتھ ہم جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی کا رکن ہونا چاہیے۔
ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔
اس کے علاوہ ایران جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایرانی حکام اب زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دیکھیں، اس وقت ہماری ان سے بات چیت جاری ہے۔ میرے خیال میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شاید اس کی وجہ بھی سب پر واضح ہے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دی ہے تاہم اسے کانگریس کی منظوری درکار ہے۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔
ساتھ ہی امریکی صدر نے واضح کیا تھا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شامل ہو۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کے یمن کے شہر الحدیدہ میں فضائی حملے
ریاض، سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول مغربی شہر الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات اور کمران جزیرے پر فضائی حملے کیے ہیں۔
ترجمان سعودی رائل فورسز ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے یہ کارروائی حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے پر کی گئی ہے۔
حوثی ٹی وی المسیرہ نے بھی الحدیدہ پر سعودی فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ حوثیوں کی وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول شہر الحدیدہ پر فضائی حملے کیے۔
وزارت نے خبردار کیا کہ جمعہ کی شب کیے گئے اس حملے کی قیمت ریاض کو چکانا پڑے گی، اور اشارہ دیا کہ حوثی ان حملوں کا جواب دیں گے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا الحدیدہ کو نشانہ بنا کر سعودی حکومت نے آئندہ مرحلے کی بنیادی خصوصیت ’’شدت کے جواب میں مزید شدت‘‘ کو بنا دیا ہے۔
حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی کے مطابق حملوں میں ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ چینل نے جزیرہ کمران پر بھی حملوں کی اطلاع دی۔ المسیرہ ٹی وی کے مطابق جزیرہ کمران پر حملے میں اب تک ایک خاتون کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر بھی دھماکے سنے گئے، تاہم یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بندرگاہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
الحدیدہ کی بندرگاہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمن کے علاقوں کے لیے ایک نہایت اہم رسد گاہ ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعے شمالی یمن میں، جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے، تجارتی سامان اور انسانی امداد کا زیادہ تر حصہ پہنچایا جاتا ہے۔
یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کشیدگی کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیتے ہوئے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر ان کے حملوں کو ’’بزدلانہ اور غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا۔ المالکی نے کہا کہ اگر حوثی اپنی ’دشمنانہ کارروائیاں‘ جاری رکھتے ہیں تو ان کا جواب ’بلا جھجک دیا جائے گا۔‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا1 week agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان1 week agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا1 week agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا1 week agoایرانی فوج کو دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے، باقر قالیباف
دنیا1 week agoمجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، امریکی صدر ٹرمپ






































































































