ہندوستان
صرف اردو یا ہندی میڈیا کے سامنے چیلنج نہیں بلکہ پورے میڈیا کے سامنے چیلنج ہے: جے شنکر گپتا

نئی دہلی، ملک میں صحافت کی زبوں حالی اور گرتے معیارپر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی ، پریس کونسل آف انڈیا کے رکن جے شنکرگپتا نے کہاکہ ملک میں صرف اردو یا ہندی میڈیا کے سامنے چیلنج نہیں ہے بلکہ پورے میڈیا کے سامنے چیلنج ہے اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس چےلنج سے کےسے نمٹا جائے یہ بات انہوں نے مشہور صحافی عتیق مظفرپوری کی زندگی پر مبنی جاوید رحمانی کی مرتب کردہ ’عتیق مظفر پوری: حیات و خدمات‘کتاب کے اجرا کے موقع پر ’اردو صحافت کے چیلنجز اور امکانات’کے موضوع پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے اردو اخبار اور اس کے قاری کی کم ہوتی تعداد پر تشوےش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت کی بقاءکا مسئلہ قارئین کی تعداد پر منحصر ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ قاری کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے اور جب تک قاری کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا یہ چیلنج برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ اردو کے قاری کی تعداد میں اضافہ کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ انہوں نے تمل، تیلگو، ملیالم اور کٹر زبان کی مثال پےیش کرتے ہوئے کہاکہ ان زبانوں کی جاننے والوں کی تعداد کم ہے لیکن ان زبانوں کے بڑے بڑے اخبارات ہےں،’ ملیالم منورما‘ اور’ ماتر بھومی‘ کی بڑی اشاعت ہے۔ اردو کا کوئی اخباراس کے آس پاس نہیں پھٹکتا۔
انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ 20کروڑ کی آبادی والے ایک بھی کوئی بڑا اخبار نہیں ہے اور نہ ہی کسی اخبارا کی اشاعت ایک لاکھ ہے۔ یہ سوچنے والی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح کا مواد قاری کو پیش کرتے ہیں، گزشتہ پانچ برسوں میں کوئی ایسی اخبر اردو اخبار میں شائع ہوئی ہے جس سے حکومت ہل جائے ےا ملک میں ہل چل مچ جائے۔ ایسے میں قاری کی تعداد کےسے بڑھے گی۔
انہوں نے موجودہ صحافت کے تعلق سے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صحافی سوال کرنا بھول گئے ہیں۔ جب تک سوال نہےں پوچھیں گے حالات نہیں بدلیں گے۔
سابق سفیر اور سابق ایم پی میم افضل نے عتیق زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ بہترین صحافی، تجزےہ نگاراور ادب و تہذیب کو برتنے والے تھے۔ انہوں نے کہاکہ عام طور پر اےڈیٹر اور کام کرنے والوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں لیکن عتیق مظفرپوری اور میرے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم بہت ساری چیزوں کو جاننے کا دعوی نہیں کرتے تھے لیکن اردو زبان پر ان کی گہری گرفت تھی۔ اسی لیے جب تک ہم ان کے ساتھ اخبار نو میں کام کیا کبھی بھی ان کی تحریروں کو ہم نے بغیر دیکھے ہوئے اخبار میں شائع ہونے دیا
تقرےیب کی صدارت کرتے ہوئے پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ سوال کرنے کی اہمیت اس لئے ہے کہ سوال کرنے کی اجازت نہیں ہے، پھر بھی سوال کر رہے ہیں۔ انہوںنے جاوید رحمانی کو مبارکباد پےش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اک سعادت مند بےٹے کا فرض ادا کیا ہے۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے سابق ممبر پارلیمنٹ شاہد صدیقی نے کہا کہ مرحوم عتیق مظفرپوری بڑے اعلی درجے کے صحافی تھے۔ آج عزیزم جاوید رحمانی نے ان کے اوپر کتاب مرتّب کر کے ایک نیک بیٹے ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم عتیق مظفرپوری نئی نسلوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ہیں کیونکہ انہوں نے بڑی تعداد میں نوجوان صحافیوں کی تربیت کی ہے۔
انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ آج اردو گھر کا آڈیٹوریم میں اتنی بڑی تعداد میں اردو ادب و صحافت سے وابسطہ اہم ترین شخصیات کا یکجا ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مرحوم عتیق مظفرپوری کتنے نیک دل اور اصول پرست شخصیت کے مالک تھے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر محمد خواجہ کرام الدین نے کہا کہ یہ ہمارا المیہ رہا ہے کہ قارئین کو جو خبریں پڑھنے کو ملتی ہے اس میں حقائق سے دور دور کا رشتہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کے اندر سچائی آپ کو تلاش کرنی ہوگی۔
دیگر مقررین میں سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل زیڈ کے فیضان،رحوم عتیق مظفر پوری کے ہم زلف بھوپال سے آئے ایم ایس حسن،مسعود خان،معروف بزنس مین حاجی قمر الدین سروکون کے ڈائریکٹر،معروف شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی اور معروف مصنف فاروق ارگلی شامل ہیں۔
معروف شاعر و صحافی ڈاکٹر معین شاداب نے جلسے کی کامیاب نظامت انجام دیتے ہوئے درمیان میں مرحوم عتیق مظفرپوری کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکرکیا۔پروگرام کے روح رواں جاوید رحمانی نے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تعلیمی اصلاحات کی شروعات، طلبہ کے دیگر مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: راہل گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’’ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی جانب ایک بڑا قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے والے طلبہ کی تاریخی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مظاہرین پر مبینہ تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اور وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے نوجوانوں سے معافی نہیں مانگتے۔
مرکزی وزراء کونسل سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ اس کامیابی کا مکمل سہرا طلبہ کو جاتا ہے، جن کے مسلسل احتجاج نے حکومت کو کارروائی پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ساکھ بحال کرنے کی وسیع تر تحریک کی پہلی بڑی کامیابی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’سب سے پہلے یہ ہمارے طلبہ کی فتح ہے، جو ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام کبھی ہماری پہچان تھا اور پوری دنیا اس کی غیر معمولی معیار کی معترف تھی، لیکن کئی برسوں سے اسے کمزور کیا جا رہا ہے، اس پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور اسے نجی ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اسی صورت حال اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے خلاف ردعمل تھا۔ دھرمیندر پردھان محض ایک علامت تھے، بدعنوانی، تعلیمی نظام کی تباہی اور نااہلی کی علامت، اور ان کا جانا بہتر ہوا۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی شعبے کا بحران کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ساختی مسئلہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وزیر اعظم نے تعلیم کے معاملے میں غلطیاں کی ہیں تو آر ایس ایس بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے، کیونکہ اس نے دیمک کی طرح نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس کے لیے سنجیدہ اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے، اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حکومت ایسا کر پائے گی۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا کہ اگرچہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبہ کے ایک اہم مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن دو ’’ناقابلِ سمجھوتہ‘‘ مطالبات اب بھی باقی ہیں۔ انہوں نے نیٹ معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج، پیلٹ گن کے استعمال اور دیگر طاقت کے استعمال میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے کہا، ’’طلبہ کے دو مطالبات اب بھی باقی ہیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور تشدد میں ملوث تمام سیکورٹی اہلکاروں اور منتظمین کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی ہونی چاہیے اور یہ کارروائی نظر بھی آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اس پورے نظام کے اصل ذمہ دار وزیر اعظم نریندر مودی کو ہندوستان کے طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کی حکمت عملی سے متعلق سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتی رہے گی اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی مہم کا اہم موضوع ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم امت شاہ کو طلبہ کے خلاف تشدد کا براہِ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے طلبہ پر فائرنگ اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی۔ ہم ہرگز یہ قبول نہیں کریں گے کہ ہمارے اپنے حفاظتی ادارے ہندوستان کے مستقبل پر گولیاں چلائیں۔ یہ پارلیمنٹ میں ایک بڑا مسئلہ ہوگا، اور جیسا کہ میں نے کہا، طلبہ وزیر اعظم سے معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘
ملک گیر احتجاج میں شریک طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے عزم نے جمہوریت اور آئین کا تحفظ کیا ہے اور اس سے کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور دیگر محروم طبقات کو بھی اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد کی ترغیب ملے گی۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری طلبہ کی بے مثال تحریک کے بعد سامنے آیا۔ یہ احتجاج متعدد ریاستوں تک پھیل گیا تھا اور اس دوران مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے پردھان کے استعفے کو بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا ہے، کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک مبینہ پولیس زیادتیوں کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا اور وزیر اعظم نوجوانوں سے عوامی معافی نہیں مانگتے، تحریک جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
سی جے پی نے پردھان کے استعفے کا کیا استقبال، مطالبات پر تحریری یقین دہانی ملنے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے اعلان کا استقبال کیا ہے لیکن کہا ہے کہ طالبہ کی تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
سی جے پی کے رہنماؤں نے ہفتہ کو یہاں جنتر منتر پر بڑی تعداد میں موجود طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علموں کے تین اہم مطالبات پر جب تک تحریری یقین دہانی نہیں ملتی ہے، تب تک تحریک جاری رہے گی۔ طالب علموں سے خطاب کرنے والوں میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے، ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا شامل تھے۔
سی جے پی کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان کل ہوئی بات چیت میں وفد کی طرف سے تین مطالبات رکھے گئے تھے۔ ان میں مسٹر پردھان کا استعفیٰ، نیٹ پیپر لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے کی امدادی رقم نیز تحریک چلانے والے طالب علموں کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آرز واپس لینے کا مطالبہ شامل ہے۔
آخری دو مطالبات پر حکومت کی طرف سے مثبت ردِعمل دیا گیا تھا، لیکن مسٹر پردھان کے استعفے کے بارے میں فیصلے کے لیے آج دوپہر تک بتانے کو کہا گیا تھا۔ حکومت کی طرف سے بات چیت میں مرکزی وزیر جے پی نڈا نیز جتیندر سنگھ شامل ہوئے تھے۔
طلبہ کا جنتر منتر پر مظاہرہ اور دھرنا گزشتہ 20 جون سے چل رہا ہے اور اس کے بعد ملک کے کئی دیگر حصوں میں بھی طالب علم مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طالب علموں کی جیت: پرینکا
نئی دہلی، کانگریس جنرل سکریٹری اور کیرالہ کے وائناڈ سے رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طالب علموں کی جدوجہد کی جیت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نے شروع سے طالب علموں کا مضبوطی سے ساتھ دیا اور تعلیمی نظام میں سدھار کی اس کی لڑائی جاری رہے گی۔
محترمہ واڈرا کا وائناڈ میں صحافیوں کے سوال پر دیے گئے جواب کو پارٹی نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ کیا جس میں محترمہ واڈرا کہتی ہیں “راہل گاندھی پچھلے دو تین سال سے مسلسل سوالنامہ لیک اور امتحانی سدھار کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر پوری کانگریس تنظیم، این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس کو طالب علموں کے حقوق نیز تعلیمی نظام میں اصلاح کے لیے ملک گیر تحریک کھڑی کرنے کی ترغیب دی۔”
انہوں نے کہا “میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کی خبر سن کر جذباتی ہو گئی۔ کئی سال سے سوچتی تھی کہ ملک کے نوجوان ناانصافی کے خلاف کب متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔ آج ملک کے نوجوانوں نے اپنی طاقت دکھائی اور پیغام دیا ہے کہ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔” انہوں نے الزام لگایا کہ تعلیمی نظام میں نظریاتی مداخلت بڑھی ہے اور مخالفت کرنے والے طالب علموں کے ساتھ طاقت کا استعمال ہوا ہے لیکن اب نوجوانوں نے اپنی بات پورے ملک کے سامنے رکھ دی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا4 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا5 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
ہندوستان5 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا4 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر1 week agoامرناتھ یاترا: جموں و کشمیر کے ادھم پور میں سڑک حادثے میں پانچ زائرین زخمی
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان4 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام

































































































