تازہ ترین
میری خاک وطن ماتم کناں نہ ہو

الطاف جمیل ندوی
آج صبح سویرے اٹھ کھڑا ہوا تو اخبار کی محبت میں اخبارات کی تلاش کرنے چل پڑا اخبارات کی کچھ کاپیاں لیں اور ورق گردانی کے لئے اپنے مخصوص کمرے میں جاکر بیٹھ گیا نگاہوں میں اب میں نیند کے ہلکے ہلکے سے اثرات تھے اخبارات میں اول اکثر کالم نگاروں کی نگارشات دیکھنے کو اولین ترجیح دینا اب مزاج کا حصہ سا بن گیا ہے اسی لئے مخمور سی کیفیت میں کالموں کے حصے کو دیکھنا شروع کیا پر خمار آلود نگاہوں نے سرکانا شروع کیا کمبل جو کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا تو اچانک ایک ایسی خبر پر نظر پڑی جو کہ 11جولائی کو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی ایک خبر ہے .
منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود بھی 90فیصد پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 10فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ایک سروے رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ اس لت میں 13برس کے بچوں سے لیکر 64برس کی عمر کے بزرگ شہری بھی مبتلا ہیں ۔نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس رپورٹ میںیہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں میں 60فیصد نوجوان کی تعلیمی قابلیت2+10ہے جبکہ 20فیصد گریجویٹ اور10فیصد پوسٹ گریجویٹ بھی منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب اعداوشمار کے مطابق کم پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حیران کن طور پر ان پڑھ نوجوانوں کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا مرکز پڑھے لکھے نوجوان ہیں .
میں اچھل پڑا نیند غائب ہوگئی دل اداس ہوگیا کہ ہائے ہماری نوجوان نسل کہاں جارہی ہے کس نے اسے اس ذلت کی دلدل میں دھکیل دیا خیالون ہی خیالوں میں میرے اک معصوم سی صورت نگاہوں کے سامنے کھڑی ہوگئی یہ ایک اچھے خاندان کا جیالا اور لاڑلا معصوم سا نوجوان تھا جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی جس کے جسم پر ہلکی سی خراش سے بھی اس کے گھر میں چیخیں بلند ہوتی تھیں اپنے والدین کی وہ اکیلی اولاد تھی جو جی چاہتا وہ اسے ملتا یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تھا اپنے والدین کے لئے شکل و صورت بھی حد سے زیادہ دینے والے نے دی تھی اسی لئے تو ہر نگاہ اس پر پڑھ کر نگاہ کے مالک کے دل میں ہوں سی اٹھا دیتی تھی نگاہ اس پر پڑھ تو جاتی تھی پر ظالم نگاہ ہٹائے سے بھی نہ ہٹتی تھی اسے بھی ناز تھا اپنے حسن و شباب کے نکھار پر آہستہ آہستہ اس کے قدم جوانی کی دہلیز پر پڑھنے لگئے تو اس کی شوخیاں اور بھی بڑھنے لگیں اب اس کا حلقہ یاراں بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا والدین نے کبھی کوئی روک نہ لگائی سوچا یہ محو پرواز ہے تو خوب اڑے ستاروں سے کھیلے اک روز انہی خوشیوں کے درمیان اس کے والد ایک ایکسیڈنت میں مالک کو پیارے ہوگئے اسے دکھ تو ہوا پر محفل میں شامل دوستوں نے اس کے غم کا مداوا بتا دیا کہ آئے ہمارے دوست ہم تیرے غم کو چل کافور کرتے ہیں تو جام چڑھا ہم بھر دیں گئے پھر کیا تھا اسے غم کے رفع کرنے کا ایک ایسا طریقہ ملا جو اس کی بربادیوں کی ایک دلخراش داستان الم سنانے والا تھا اب جام کے ساتھ انجیکشن مل گئے پھر پوڑر اور پھر اس کی کربناک ازیتوں کا سلسلہ چل پڑا نہ نیند نہ آرام نہ سکوں جسم کی ہیت بھی بدلنے لگئی اعضاء جسمانی مضحمل ہاتھ پاؤں میں مسلسل درد کی ٹھیس جوانی میں ہی چہرے کی رونق غائب بے نور سی آنکھیں ماتھے کی شکنین اس کی بدحالی کی چغلیاں کھانے کو کافی تھیں چڑ چڑا پن نفرت و کدورت بھرا جگر اپنے ہی خیالات میں مگن بال بکھرے ہوئے دنیا کی ہر خوشی سے ناواقف وہ کش لگاتا نوجوان والدہ اس کی حالت کو دیکھ دیکھ کر خون کے آنسو روتی رہتی پر اس پر اثر نہ ہورہا تھا کبھی کسی نالی سے ماں اٹھاتی تو کبھی کسی کیچڑ کے ڈھیر سے امی کے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے جو اسے کبھی جی بھر کر دیکھنے کے متمنی ہوا کرتے تھے وہ اب نگاہیں نیچی کرنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے .
اس کے رگ و پے میں سرایت ہوئی وہ نشے کے اجزاء اسے تباہ کرگئے تھے وہ دوست جن کا یہ کبھی اپنا تھا سب اسے بے یار و مددگار چھوڑ چکے تھے والدہ کے بازو بھی کمزور ہوکر اسے سہارا دینے کے لئے ناکافی سے تھے جب والدہ کے بازؤں میں اسے سہارا دینے کی سکت نہ رہی تو یہ اب گندی نالیوں اور کیچڑ کے ڈھیروں کی زینت بنتا گیا پھر وہ دن بھی آئے کہ اک روز شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں اس کی امی اس کے قدموں کو چوم چوم کر رو رہی تھی پر اس کا وہ نور نظر لخت جگر بے ہوش و حواس پڑا ہوا تھا اور پھر اپنی امی کے کمزور بازؤں کے سہارے اک روز مٹی کے ڈھیر تلے دب گیا،یہ کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ کچھ سال پہلے ایک نحیف و نزار بھیک مانگتی اک خاتون بے سنا دی اپنی درد میں ڈوبی داستان جس کے ہاتھوں میں ہی نہیں انگ انگ میں لرزہ تھا پر اسے جینے کو مجبور اس کی سانسیں کر رہی تھیں ورنہ اس کے لخت جگر نے تو اسے کب کا مزار پہنچا دیا تھا تو ائے میری ملت کے پاک باز شاہین صفت نوجوانو میں تم سے مخاطب ہوں آئے میرے جگر کے ٹکڑو تم سے کہتا ہوں میری ملت کے خیر خواہو تم میرے مخاطب ہو …
پڑھ سکو تو پڑھو نا میرے دل کی صداؤں کو
مولائے کریم گواہ ہے میں اس سرمایہ کے غم میں اداس ہوں میری اجڑی بستی میں ماتم کناں ہوں میرے یہ جگر کے ٹکڑے میں شرمندہ ہوں میں نے ہی تو ان کا خیال نہ کیا جو یہ ظلمت کے شکار ہوگئے میں نے ہی تو انہیں برائی کی دلدل میں جانے دیا ہائے میری بربادی ہائے میری بے کسی
ائے قوم کے بچو میں شرمندہ ہوں
مجھے معاف کرکے اپنا کل سنوار دو نا
ہائے میری قوم کا سرمایہ کس طرح اپنی زندگیوں سے کھیل رہا ہے کس طرح اپنی خوشیوں کو آگ کی لپیٹ میں دے رہا ہے آئے میری ملت و قوم کے پاسبانو اٹھتے کیوں نہیں چلاتے کیوں نہیں
سامنے آتے ہو کیوں نہیں
دل تمہارے پرسکون ہیں کیونکر
ہائے تمہیں نیند کیسے آتی ہے
اف اداس ہوں کہ تم مسکراتے کیسے ہو
ہائے میں کیا کہوں کچھ تو سوچو
سامنے تو آؤ
میرے بچے بک رہے ہیں اپنی جاوانیاں برباد کر رہے ہیں
کوئی تو انہیں گلے لگائے کوئی تو ان کا مسیحا بن جائے
کیا یہ تمہارے بچے نہیں ہیں چلے آؤ ان بچوں کو بچانے کی فکر لے کر
میں اپنے ان لخت جگروں کو ہرگز نہ کوسوں گا ان پر الزام نہ دوں گا یہ میری بے بسی ہے یہ میری خطا ہے
یہ اجتماعی سطح پر غلطی ہے جو میرے بچے اس لعنت کا شکار ہوگئے یہ حالات و حوادث کا شاخسانہ ہے کہ میری ملت کی کوکھ اجڑنے کو چلی ہے
جو چہرے چومنے کے قابل تھے جو ہاتھ سہارے کے طالب تھے جو قدم ہماری مدد کے طالب تھے
آہ میری ملت کے خیر خواہو ہم نے انہیں بربادی کی اور دھکیل دیا ہے ہم نے ان ہاتھوں میں نشے کی اشیا دی ہیں ہم نے ان جگر کے ٹکڑوں کو بے سہارا کر دیا ہے
کیا ملت و قوم ایسے پنپتی ہے کیا قومیں ایسے عروج پاتی ہیں کہ اپنے جگر گوشوں کو فراموش کرکے چلتے رہیں نہیں.
رب کعبہ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی و بربادی کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کا سرمایہ یوں زیاں کا شکار ہوتا رہے اور قوم اجتماعی غفلت میں خراٹے بھرتی رہے
میری ملت کے بچو
آئے پروردگار کے پیارے بندو
آئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے شاہینو
آئے قوم کے جگر کے ٹکڑو ۔
تم میری ملت کا سرمایہ ہو تم ہی تو میری غیرت ہو
اٹھو نا میرے جگر کے ٹکڑو
اٹھو نا آئے میری ملت کے پاسبانو
تم ہی تو ہو جو میرا سرمایہ ہیں
تم یوں نہ زندگیاں داؤ پر لگاؤ
تمہاری خوشیاں منانے کے دن ہیں نشہ کرنے کے نہیں
تمہارے بازؤں کا فن دیکھانے کا وقت ہے بازو شل کرنے کا نہیں
تمہاری بہنیں تمہاری منتظر ہیں آئے ان کے محافظو یوں نہ لٹاؤ نا اپنی زندگیاں
تم ہی تو ہو جو میری ملت کا آنے والا کل ہے
تمہیں کیا ہوگیا کہ تم سرراہ گر رہے ہو ۔آئے میرے لخت
جگرو اٹھو نا تمہاری منزل تمہاری منتظر ہے
یہ سکون نہیں رب کبریاء کی قسم
یہ تمہارے لئے ناسور بن جائے گا
چلو آؤ اک نئی صبح کی نوید سنانے چلتے ہیں
میرا مولا میری ملت کے جگر کے ٹکڑوں کو سلامت رکھے
آپکا ایک گمنام بھائی آپ کے اس درد و کرب والی زندگی پر آپ کو پکارتا ہے آؤ میرے بچو میں تمہارے لب چوم لوں تم ہی تو ہو جو میری روح کی تسکین کا باعث ہیں میں تمہاری بے بسی میں تمہیں یاد کرتا ہوں .
دنیا
افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں: سربراہ آئی اے ای اے
ویانا، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتِ حال کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کی دوبارہ رسائی ضروری ہے۔
انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مجموعی تاثر یہی ہے کہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں، معائنہ کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تمام مواد اپنی جگہ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ادارے نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تنصیبات تک رسائی ختم ہونے سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ نہیں کیا۔
رافیل گروسی کے مطابق اگرچہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض مقامات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے، تاہم ادارے کا ابتدائی اندازہ پہلے کے معائنے اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، عاصم منیر اور وفد کے ارکان نے فاتحہ خوانی بھی کی۔
وزیراعظم، فیلڈمارشل اور وفد کے ارکان نے ایرانی صدر اور دیگر عہدیداروں سے تعزیت کی۔
وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ و دیگر شریک تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پیر سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرقی امور) رودریندر ٹنڈن نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مسٹر مودی 6 سے 11 جولائی تک ان تینوں ممالک کے دورے پر رہیں گے۔ وہ 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا، 8 سے 10 جولائی تک آسٹریلیا اور 10 سے 11 جولائی تک نیوزی لینڈ کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی۔ بعد ازاں وہ ثقافتی دارالحکومت یوگیاکارتا بھی جائیں گے اور پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ گزشتہ سال انڈونیشیا کے صدر کے دورۂ ہند کے بعد ہونے والے اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ملاکا میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے انڈونیشیا کا اہم کردار ہے۔
مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں مسٹر مودی آسٹریلیا جائیں گے، جہاں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ تیسرے ہند-آسٹریلیا سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں رہنما اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹر مودی میلبورن میں ایک کھیلوں کے پروگرام میں بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے تیسرے اور آخری مرحلے میں وزیر اعظم نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اپنے ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ نیوزی لینڈ ہوگا۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1986 میں نیوزی لینڈ گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں موجود حکام نے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہندوستانی طلبہ کے ویزوں اور مختلف تعلیمی کورسز کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم تینوں ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے، ان سے خطاب کریں گے اور مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا5 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان7 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
جموں و کشمیر7 days agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا2 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ



































































































