تازہ ترین
میری خاک وطن ماتم کناں نہ ہو

الطاف جمیل ندوی
آج صبح سویرے اٹھ کھڑا ہوا تو اخبار کی محبت میں اخبارات کی تلاش کرنے چل پڑا اخبارات کی کچھ کاپیاں لیں اور ورق گردانی کے لئے اپنے مخصوص کمرے میں جاکر بیٹھ گیا نگاہوں میں اب میں نیند کے ہلکے ہلکے سے اثرات تھے اخبارات میں اول اکثر کالم نگاروں کی نگارشات دیکھنے کو اولین ترجیح دینا اب مزاج کا حصہ سا بن گیا ہے اسی لئے مخمور سی کیفیت میں کالموں کے حصے کو دیکھنا شروع کیا پر خمار آلود نگاہوں نے سرکانا شروع کیا کمبل جو کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا تو اچانک ایک ایسی خبر پر نظر پڑی جو کہ 11جولائی کو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی ایک خبر ہے .
منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود بھی 90فیصد پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 10فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ایک سروے رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ اس لت میں 13برس کے بچوں سے لیکر 64برس کی عمر کے بزرگ شہری بھی مبتلا ہیں ۔نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس رپورٹ میںیہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں میں 60فیصد نوجوان کی تعلیمی قابلیت2+10ہے جبکہ 20فیصد گریجویٹ اور10فیصد پوسٹ گریجویٹ بھی منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب اعداوشمار کے مطابق کم پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حیران کن طور پر ان پڑھ نوجوانوں کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا مرکز پڑھے لکھے نوجوان ہیں .
میں اچھل پڑا نیند غائب ہوگئی دل اداس ہوگیا کہ ہائے ہماری نوجوان نسل کہاں جارہی ہے کس نے اسے اس ذلت کی دلدل میں دھکیل دیا خیالون ہی خیالوں میں میرے اک معصوم سی صورت نگاہوں کے سامنے کھڑی ہوگئی یہ ایک اچھے خاندان کا جیالا اور لاڑلا معصوم سا نوجوان تھا جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی جس کے جسم پر ہلکی سی خراش سے بھی اس کے گھر میں چیخیں بلند ہوتی تھیں اپنے والدین کی وہ اکیلی اولاد تھی جو جی چاہتا وہ اسے ملتا یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تھا اپنے والدین کے لئے شکل و صورت بھی حد سے زیادہ دینے والے نے دی تھی اسی لئے تو ہر نگاہ اس پر پڑھ کر نگاہ کے مالک کے دل میں ہوں سی اٹھا دیتی تھی نگاہ اس پر پڑھ تو جاتی تھی پر ظالم نگاہ ہٹائے سے بھی نہ ہٹتی تھی اسے بھی ناز تھا اپنے حسن و شباب کے نکھار پر آہستہ آہستہ اس کے قدم جوانی کی دہلیز پر پڑھنے لگئے تو اس کی شوخیاں اور بھی بڑھنے لگیں اب اس کا حلقہ یاراں بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا والدین نے کبھی کوئی روک نہ لگائی سوچا یہ محو پرواز ہے تو خوب اڑے ستاروں سے کھیلے اک روز انہی خوشیوں کے درمیان اس کے والد ایک ایکسیڈنت میں مالک کو پیارے ہوگئے اسے دکھ تو ہوا پر محفل میں شامل دوستوں نے اس کے غم کا مداوا بتا دیا کہ آئے ہمارے دوست ہم تیرے غم کو چل کافور کرتے ہیں تو جام چڑھا ہم بھر دیں گئے پھر کیا تھا اسے غم کے رفع کرنے کا ایک ایسا طریقہ ملا جو اس کی بربادیوں کی ایک دلخراش داستان الم سنانے والا تھا اب جام کے ساتھ انجیکشن مل گئے پھر پوڑر اور پھر اس کی کربناک ازیتوں کا سلسلہ چل پڑا نہ نیند نہ آرام نہ سکوں جسم کی ہیت بھی بدلنے لگئی اعضاء جسمانی مضحمل ہاتھ پاؤں میں مسلسل درد کی ٹھیس جوانی میں ہی چہرے کی رونق غائب بے نور سی آنکھیں ماتھے کی شکنین اس کی بدحالی کی چغلیاں کھانے کو کافی تھیں چڑ چڑا پن نفرت و کدورت بھرا جگر اپنے ہی خیالات میں مگن بال بکھرے ہوئے دنیا کی ہر خوشی سے ناواقف وہ کش لگاتا نوجوان والدہ اس کی حالت کو دیکھ دیکھ کر خون کے آنسو روتی رہتی پر اس پر اثر نہ ہورہا تھا کبھی کسی نالی سے ماں اٹھاتی تو کبھی کسی کیچڑ کے ڈھیر سے امی کے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے جو اسے کبھی جی بھر کر دیکھنے کے متمنی ہوا کرتے تھے وہ اب نگاہیں نیچی کرنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے .
اس کے رگ و پے میں سرایت ہوئی وہ نشے کے اجزاء اسے تباہ کرگئے تھے وہ دوست جن کا یہ کبھی اپنا تھا سب اسے بے یار و مددگار چھوڑ چکے تھے والدہ کے بازو بھی کمزور ہوکر اسے سہارا دینے کے لئے ناکافی سے تھے جب والدہ کے بازؤں میں اسے سہارا دینے کی سکت نہ رہی تو یہ اب گندی نالیوں اور کیچڑ کے ڈھیروں کی زینت بنتا گیا پھر وہ دن بھی آئے کہ اک روز شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں اس کی امی اس کے قدموں کو چوم چوم کر رو رہی تھی پر اس کا وہ نور نظر لخت جگر بے ہوش و حواس پڑا ہوا تھا اور پھر اپنی امی کے کمزور بازؤں کے سہارے اک روز مٹی کے ڈھیر تلے دب گیا،یہ کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ کچھ سال پہلے ایک نحیف و نزار بھیک مانگتی اک خاتون بے سنا دی اپنی درد میں ڈوبی داستان جس کے ہاتھوں میں ہی نہیں انگ انگ میں لرزہ تھا پر اسے جینے کو مجبور اس کی سانسیں کر رہی تھیں ورنہ اس کے لخت جگر نے تو اسے کب کا مزار پہنچا دیا تھا تو ائے میری ملت کے پاک باز شاہین صفت نوجوانو میں تم سے مخاطب ہوں آئے میرے جگر کے ٹکڑو تم سے کہتا ہوں میری ملت کے خیر خواہو تم میرے مخاطب ہو …
پڑھ سکو تو پڑھو نا میرے دل کی صداؤں کو
مولائے کریم گواہ ہے میں اس سرمایہ کے غم میں اداس ہوں میری اجڑی بستی میں ماتم کناں ہوں میرے یہ جگر کے ٹکڑے میں شرمندہ ہوں میں نے ہی تو ان کا خیال نہ کیا جو یہ ظلمت کے شکار ہوگئے میں نے ہی تو انہیں برائی کی دلدل میں جانے دیا ہائے میری بربادی ہائے میری بے کسی
ائے قوم کے بچو میں شرمندہ ہوں
مجھے معاف کرکے اپنا کل سنوار دو نا
ہائے میری قوم کا سرمایہ کس طرح اپنی زندگیوں سے کھیل رہا ہے کس طرح اپنی خوشیوں کو آگ کی لپیٹ میں دے رہا ہے آئے میری ملت و قوم کے پاسبانو اٹھتے کیوں نہیں چلاتے کیوں نہیں
سامنے آتے ہو کیوں نہیں
دل تمہارے پرسکون ہیں کیونکر
ہائے تمہیں نیند کیسے آتی ہے
اف اداس ہوں کہ تم مسکراتے کیسے ہو
ہائے میں کیا کہوں کچھ تو سوچو
سامنے تو آؤ
میرے بچے بک رہے ہیں اپنی جاوانیاں برباد کر رہے ہیں
کوئی تو انہیں گلے لگائے کوئی تو ان کا مسیحا بن جائے
کیا یہ تمہارے بچے نہیں ہیں چلے آؤ ان بچوں کو بچانے کی فکر لے کر
میں اپنے ان لخت جگروں کو ہرگز نہ کوسوں گا ان پر الزام نہ دوں گا یہ میری بے بسی ہے یہ میری خطا ہے
یہ اجتماعی سطح پر غلطی ہے جو میرے بچے اس لعنت کا شکار ہوگئے یہ حالات و حوادث کا شاخسانہ ہے کہ میری ملت کی کوکھ اجڑنے کو چلی ہے
جو چہرے چومنے کے قابل تھے جو ہاتھ سہارے کے طالب تھے جو قدم ہماری مدد کے طالب تھے
آہ میری ملت کے خیر خواہو ہم نے انہیں بربادی کی اور دھکیل دیا ہے ہم نے ان ہاتھوں میں نشے کی اشیا دی ہیں ہم نے ان جگر کے ٹکڑوں کو بے سہارا کر دیا ہے
کیا ملت و قوم ایسے پنپتی ہے کیا قومیں ایسے عروج پاتی ہیں کہ اپنے جگر گوشوں کو فراموش کرکے چلتے رہیں نہیں.
رب کعبہ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی و بربادی کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کا سرمایہ یوں زیاں کا شکار ہوتا رہے اور قوم اجتماعی غفلت میں خراٹے بھرتی رہے
میری ملت کے بچو
آئے پروردگار کے پیارے بندو
آئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے شاہینو
آئے قوم کے جگر کے ٹکڑو ۔
تم میری ملت کا سرمایہ ہو تم ہی تو میری غیرت ہو
اٹھو نا میرے جگر کے ٹکڑو
اٹھو نا آئے میری ملت کے پاسبانو
تم ہی تو ہو جو میرا سرمایہ ہیں
تم یوں نہ زندگیاں داؤ پر لگاؤ
تمہاری خوشیاں منانے کے دن ہیں نشہ کرنے کے نہیں
تمہارے بازؤں کا فن دیکھانے کا وقت ہے بازو شل کرنے کا نہیں
تمہاری بہنیں تمہاری منتظر ہیں آئے ان کے محافظو یوں نہ لٹاؤ نا اپنی زندگیاں
تم ہی تو ہو جو میری ملت کا آنے والا کل ہے
تمہیں کیا ہوگیا کہ تم سرراہ گر رہے ہو ۔آئے میرے لخت
جگرو اٹھو نا تمہاری منزل تمہاری منتظر ہے
یہ سکون نہیں رب کبریاء کی قسم
یہ تمہارے لئے ناسور بن جائے گا
چلو آؤ اک نئی صبح کی نوید سنانے چلتے ہیں
میرا مولا میری ملت کے جگر کے ٹکڑوں کو سلامت رکھے
آپکا ایک گمنام بھائی آپ کے اس درد و کرب والی زندگی پر آپ کو پکارتا ہے آؤ میرے بچو میں تمہارے لب چوم لوں تم ہی تو ہو جو میری روح کی تسکین کا باعث ہیں میں تمہاری بے بسی میں تمہیں یاد کرتا ہوں .
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا7 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































