تازہ ترین
نیشنل کانفرنس اقلیتی سیل کا وفد ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ملاقی

5اگست کے فیصلوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے گپکار اعلامیہ کی بھر پور تائید
چیلنجوں سے بھرپور جدوجہد کیلئے متحد اور ثابت قدم رہنے کی ضرورت: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
خبراردو:-
سرینگر:نیشنل کانفرنس اقلیتی سیل کے وفد نے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ کے این ایس کے مطابق اس موقعے پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، ٹریجرر شمی اوبرائے اور مشتاق گورو موجود تھے۔
اقلیتی سیل کے آرگنائزر سردار جگدیش سنگھ آزاد کی قیادت میں آئے وفد میں سرینگر، بڈگام، بارہمولہ،اننت ناگ اور پلوامہ کے اقلیتی سیل کے اراکین شامل تھے۔وفد نے اس موقعے پر کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام نے ہمیشہ ہند مسلم سکھ اتحاد کی مشعل کو فروزاں رکھا ہے اور مستقبل میں بھی اسی اصول پر قائم و دائم رہیں گے۔ وفد نے کہا کہ 5اگست2019 کے مرکزی حکومت کے یک طرفہ فیصلوں کے ذریعے ہمارے حقوق سلب کئے گئے۔
ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی تینوں خطوں کی عوام تشویش اور تذبذب میں مبتلا ہیں۔ جموں اور لداخ کے عوام کو بھی اب محسوس ہوگیا ہے کہ 5اگست کے فیصلوں سے ہم پر کون سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور ان اقدامات سے مستقبل میں کیا تباہی ہوگی۔
جموں وکشمیر اور لداخ کے عوام کو کسی بھی صورت میں مرکزی حکومت کے فیصلہ ناقابل قبول ہیں۔ صدرِ نیشنل کانفرنس کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے شروع کی گئی مشترکہ جدوجہد کی بھر پور تائید کرتے ہوئے وفد نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں اور مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں نے یک زبان ہوکر گپکار اعلامیہ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کے نظریں گپکار اعلامیہ پر مرکوز ہیں اور عوام اس اتحاد کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔
وفد نے کہا کہ 5اگست 2019کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور کورونا وائرس سے یہاں کے لوگ حد سے زیادہ متاثر ہوگئے ہیں۔ اقتصادی بدحالی نے لوگوں کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور بے روزگاری عروج پر پہنچ گئی ہے۔
5اگست کے بعد مرکزی حکومت نے جو بھی فیصلے لئے وہ کسی بھی صورت میں جموں وکشمیر کے عوام کے مفاد میں نہیں ہوسکتے ہیں۔ وفد نے کہا کہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں جموں وکشمیر میں سرکاری زبانوں میں اضافہ کیا اور اس میں امتیازی سلوک روا رکھ کر پنجابی کو نظرانداز کیا گیا۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ پنجابی کو بھی سرکاری زبانوں میں شامل کیا جانا چاہئے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اقلیتی سیل کے وفد کا گپکار اعلامیہ کی تائیدکرنے پر شکریہ ادا کیا گیا اور کہا کہ ہماری جدوجہد چیلنجوں سے بھری ہوئی ہے اور ہمیں اس دوران اتحاد کا مظاہرہ کرکے ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں توڑنے اور بانٹنے کی کوششیں کی جائینگی لیکن ہمیں متحد رہ کر ان مذموم اورناپاک کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا۔
سرکاری زبانوں میں اضافے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ یہ سب کچھ ہمیں بانٹنے کیلئے کیا جارہا ہے۔ اگر سرکاری زبانوں میں اضافہ کرنا ہی تھا تو پھر پنجابی، گوجری اور پہاڑی کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟جموں وکشمیر میں یہ زبانیں بولنے والے بھی بے شمار لوگ موجود ہیں۔ انہوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اُٹھائیں گے اور حکومت سے اس کا جواب طلب کریں گے۔
جموں و کشمیر
جموں: اقتصادی جرائم ونگ نے دھوکہ دہی کے دو مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی
جموں، جموں کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے دھوکہ دہی کے دو الگ الگ مقدمات میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ عدالتوں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
پہلے مقدمے میں جے پور کی ایم/ایس گولڈ سکھ ٹریڈ انڈیا لمیٹڈ اور اس کے پانچ عہدیداروں پر سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع کا لالچ دے کر تقریباً 30.29 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرانے اور رقم کے غبن کا الزام ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ کمپنی سیبی، آر بی آئی اور جموں و کشمیر کے رجسٹرار آف کمپنیز کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھی۔
دوسرے مقدمے میں جعلی محکمہ ریونیو کے ریکارڈ کی مدد سے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) حاصل کرنے کے معاملے میں چار افراد اور ایک سابق پٹواری کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ ایف ایس ایل کی جانچ میں متعلقہ دستاویزات جعلی پائی گئیں۔
کرائم برانچ نے عوام سے مالیاتی دھوکہ دہی سے محتاط رہنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع اقتصادی جرائم ونگ کو دینے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تعلیمی اصلاحات کی شروعات، طلبہ کے دیگر مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: راہل گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’’ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی جانب ایک بڑا قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے والے طلبہ کی تاریخی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مظاہرین پر مبینہ تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اور وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے نوجوانوں سے معافی نہیں مانگتے۔
مرکزی وزراء کونسل سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ اس کامیابی کا مکمل سہرا طلبہ کو جاتا ہے، جن کے مسلسل احتجاج نے حکومت کو کارروائی پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ساکھ بحال کرنے کی وسیع تر تحریک کی پہلی بڑی کامیابی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’سب سے پہلے یہ ہمارے طلبہ کی فتح ہے، جو ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام کبھی ہماری پہچان تھا اور پوری دنیا اس کی غیر معمولی معیار کی معترف تھی، لیکن کئی برسوں سے اسے کمزور کیا جا رہا ہے، اس پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور اسے نجی ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اسی صورت حال اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے خلاف ردعمل تھا۔ دھرمیندر پردھان محض ایک علامت تھے، بدعنوانی، تعلیمی نظام کی تباہی اور نااہلی کی علامت، اور ان کا جانا بہتر ہوا۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی شعبے کا بحران کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ساختی مسئلہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وزیر اعظم نے تعلیم کے معاملے میں غلطیاں کی ہیں تو آر ایس ایس بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے، کیونکہ اس نے دیمک کی طرح نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس کے لیے سنجیدہ اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے، اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حکومت ایسا کر پائے گی۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا کہ اگرچہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبہ کے ایک اہم مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن دو ’’ناقابلِ سمجھوتہ‘‘ مطالبات اب بھی باقی ہیں۔ انہوں نے نیٹ معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج، پیلٹ گن کے استعمال اور دیگر طاقت کے استعمال میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے کہا، ’’طلبہ کے دو مطالبات اب بھی باقی ہیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور تشدد میں ملوث تمام سیکورٹی اہلکاروں اور منتظمین کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی ہونی چاہیے اور یہ کارروائی نظر بھی آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اس پورے نظام کے اصل ذمہ دار وزیر اعظم نریندر مودی کو ہندوستان کے طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کی حکمت عملی سے متعلق سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتی رہے گی اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی مہم کا اہم موضوع ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم امت شاہ کو طلبہ کے خلاف تشدد کا براہِ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے طلبہ پر فائرنگ اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی۔ ہم ہرگز یہ قبول نہیں کریں گے کہ ہمارے اپنے حفاظتی ادارے ہندوستان کے مستقبل پر گولیاں چلائیں۔ یہ پارلیمنٹ میں ایک بڑا مسئلہ ہوگا، اور جیسا کہ میں نے کہا، طلبہ وزیر اعظم سے معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘
ملک گیر احتجاج میں شریک طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے عزم نے جمہوریت اور آئین کا تحفظ کیا ہے اور اس سے کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور دیگر محروم طبقات کو بھی اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد کی ترغیب ملے گی۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری طلبہ کی بے مثال تحریک کے بعد سامنے آیا۔ یہ احتجاج متعدد ریاستوں تک پھیل گیا تھا اور اس دوران مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے پردھان کے استعفے کو بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا ہے، کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک مبینہ پولیس زیادتیوں کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا اور وزیر اعظم نوجوانوں سے عوامی معافی نہیں مانگتے، تحریک جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں ‘وسیع پیمانے پر’ فوجی آپریشن کا حکم
تل ابیب، بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی دیہات میں “وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی” شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کو جاری مشترکہ بیان میں، نیتن یاہو اور کاٹز نے یہ بھی کہا کہ فوج کو اس فلسطینی کے گھر کو مسمار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے تل کے نزدیک غیرقانونی آباد کاروں کے خلاف فائرنگ کی تھی۔
انادولو کے ایک نامہ نگار کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں واقع نابلس شہر پر ایک بڑی اسرائیلی فوجی فورس نے چھاپہ مارا۔
ایک اسرائیلی فوجی بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان واقعات کا تعلق نابلس کے قریب غیرقانونی ہاوَت گِلاد بستی کے نزدیک پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے سے ہے، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
اسرائیل کے چینل 13 نے مبینہ طور پر رپورٹ کیا ہےکہ فلسطینیوں نے ایک بستی کے سکیورٹی افسر کا ہتھیار چھین کر آباد کاروں پر فائرنگ کی۔
باور رہے کہ جمعے کے روز، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے تل پر اسرائیلی افواج اور غیرقانونی آباد کاروں کے حملے کے دوران چار فلسطینی ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جن میں تین کی حالت کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
دنیا1 week agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان1 week agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے ایران مذاکرات سے متعلق مالی فائدے کے الزامات مسترد کر دیے
دنیا1 week agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا1 week agoایران کی عرب ممالک کو سخت دھمکی، اونٹوں کے دور میں واپس پہنچا دیں گے
دنیا4 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے منشیات فروش کی 38 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی غیر قانونی جائیداد ضبط کر لی
































































































