تازہ ترین
وباؤں کا انسان کیلئے سبق

کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔
ایک فٹبال کھلاڑی کو ماہانہ دس لاکھ یوروز دئے جاتے ہیں اور لوگ انہیں ایک دیوتاؤں کی طرح پیار کرتے ہیں لیکن ایک بیالوجی کے ریسرچر کو محض 1800یوورز ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں ۔
اب جائیے اور کرسٹیانو رونالڈو سے پوچھئے کہ کورونا وائرس کی دوا کیا ہے ۔اس جیسے کئی وٹس ایپ پیغامات اسپین کے ایک لائف سائنس ریسرچر کی طرف سے دیے گئے بیان کو بھیجا گیا ہے ۔فٹبالروں کیخلاف کوئی غصہ یا ان سے کوئی حسد نہیں ہے ۔لیکن ممالک، حکومتوں اور لیڈروں کی غلط ترجیحات اورتنگ نظری پر مبنی اپروچ پر ضرور ناراض ہے جو آفات اور کورونا وائرس جیسی وبا کے وقت بے بسی کو ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے فضول ہیں اور وہ کسی کام کے لائق نہیں ہیں۔ہمارے وجود کو اس وقت جو خطرہ لاحق ہے ‘ہم اس کا احساس نہیں کر پا رہے ہیں۔
وبائیں دنیا کیلئے کوئی نئی با ت نہیں ہے
اس کی شروعات 430 سال قبل از مسیح ایتھنز میں طاعون سے ہوئی اور حال ہی میں سارس اور ایبولا جیسی خطرناک بیماری سے ہمارا سامنا ہوا ۔زندگی میں درپیش ان لاحق خطرات کے باوجود انسان ثابت قدم رہا اور ان پر قانو بھی پایا گیا ۔ان وباہؤں نے زیاہ سے زیادہ ہمیںڈرایا آور ہمیں تکلیف پہنچائی لیکن کسی وبا نے کبھی بھی پوری انسانیت کا صفایا نہیں کیا اور کورونا اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔
لیکن ایک ایسے وقت پر جب ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہر شعبہ میں بہت آگے بڑھے ہیں یہاں تک جب ہمیں 5G اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے لیکن پھر بھی کورونا نے امریکہ، یورپ اور چین جیسے ترقی یافتہ مماملک کو جو چیلنج دیا ہے وہ بحث گفتگو ہے۔ وائرس کچھ دنوں میں ختم ہو سکتا ہے یاہم کوئی ویکسین بنا کر اس کو محدود کر سکتے ہیں لیکن یہ سوچنا غلط ہو گا کہ ہم نا قابل تسخیر ہیں ۔
انسانیت کے سامنے در پیش کئی سوالات
ہم کورونا سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں ؟کورونا کے بعد ہم انسانوں کا کیسا برتاؤ ہونا چاہئے؟ہماری فطرت اور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ۔نئی نسل، جو زندگی کو تیار بہ تیار اور کافی پینے جیسا آسان سمجھتی ہے اب اس کے تئیں ان کا کیسا رویہ ہونا چاہئے ؟ حکومت اب کاروبار کو کیسے چلائے گی، سیاسی لیڈر کی قیادت کیسی ہو گی، ریسرچوں کا ردعمل کیسا ہو گا؟ ان جیسے سوالات کا جواب انسانیت کی بقاء کا فیصلہ کریگا۔ایک ایسے وقت میں جب دنیا ترقی یافتہ، ترقی پذیر اورپسماندہ ممالک، سپر پاور، جدیدیت، سفید فام، سیاہ فام، ذات، مذہب، سرمایہ، کمیونزم، مصنوعی اور مجازی ذہانت میں تقسیم ہوگئی ہے۔جس سے ہم صرف خود کو برتر اور دوسروں کو ابتر سمجھتے تھے لیکن کورونا وائرس ہمیں ہماری اصل اوقات دکھا رہا ہے ۔ہماری نام نہاد ترقی کی حقیقی قیمت اور قدر دکھا رہا ہے ۔تنے ہی واضح انداز میں جتنی ہمیں اب مریخ کی تصویر دکھائی دے رہی ہے ۔
کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔ہر ایک وبا انسان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرکے ان کو درست کرنے کا موقع دیتی ہے ۔
جن لوگوں نے اس اشارے کو نہیں سمجھا انہیں اس سے بہت بڑی سبق سیکھنی پڑی ہے۔تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ’سیاہ موت‘ نامی وبا جو 1346-1353میں یورپ میں شروع ہوئی اور وسطی ایشیا تک پھیل گئی اس نے اکیلے ہی نصف یورپ کا صفایا کردیا تھا اور جس نے تاریخ کا رخ ہی بدل دیا تھا۔اُس وقت تنخواہوں میں رائج جاگیردارانہ نظام کو اس وبا نے ختم کرکے رکھ دیا ۔اموات کی وجہ سے ان لوگوں کی تنخواہیں بڑھ گئیں جو اس وبا سے محفوظ رہے ۔کہا جا رہا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے ہی بعد میں ٹیکنالوجیکل دریافتیں ہوئیں ۔تاریخ ایسی وباؤں کی بھی گواہ ہے ‘ جیسی پہلی جنگ عظیم میں طاعون‘بھی ممالک کی ایک دوسرے پر اجارہ داری حاصل کرنے کی خواہش اورلالچ پر قابو نہیں پاسکا۔
فطرت کو سمجھ کر ہی ترقی ممکن
ایک گروپ’کلب آف روم‘کا قیام اٹلی میں سنہ 1960 کی دہائی میں آیا، جو اس وقت کورونا وائرس سے جوجھ رہا ہے ۔دنیا کے بیشترسائنسدان، ماہرین اقتصادیات، صنعت کار اور سیاسدان اس گروپ کے ممبران تھے ۔سنہ 1972 میں گروپ نے ایک رپورٹ جس کا عنوان تھا ’ترقی کی حدیں‘ منظر عام پر لائی ۔گروپ نے اس بات کو واضح کیا کہ ترقی کی کچھ اپنی حدیں ہو تی ہیں ۔ دنیا کے ساتھ رشتہ رکھے بغیر انسان کی ترقی کا سفر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمارا ماحولیاتی نظام 2100 کے بعد آبادی میں اضافہ اور تیز معاشی ترقی بر داشت نہیں کر پائیگا۔
ریسرچ میں کرڑوں روپے صرف کرنے کے باوجود بھی نادیدہ مائیکرو micro-organisms سے لڑ نہیں پا رہے ہیں ۔ہم تا حال ملیریا کا موثر ویکسین بنا نہیں سکے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی خسرہ بار بار حکومت کو پریشان کرتا رہا ہے ۔آخر دنیا کی بایو میڈیکل ریسرچ کا کیا ہو رہا ہے ؟گرچہ ہم اسے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا نام دے رہے ہیں لیکن بیشتر طلباء صرف ٹیکنالوجی میں ہی دلچسپی لے رہے ہیں۔آجکل کے اس تیز رفتار دور میں طلباکالج سے فارغ ہوتے ہی صرف ٹیکنالوجی والی نوکریاں کرنا چاہتے ہیں جن میں لاکھوں روپے کی تنخواہیں ہوتی ہیں‘ ۔ ان میں سے کسی میں نہ سائنس کے تئیں لگاؤ اور دلچسپی ہے اور نہ ریسرچ میں اپنے کئی سال صرف کرنے کا صبر۔
ترقی کا ثمر ہر ایک تک پہنچ جانا چاہیے
موجودہ حالات میں حکومتوں، سربراہان، مملکتوں اور عالمی قیادت کی تمام تر توجہ انتخابات جیتنے پر ہو تی ہے ۔اس کے علاوہ تجارتی تعلقات، جنگیں اور دنیا پر اپنا دبدبہ قائم کرنا ان کی ترجیح ہوتی ہے ۔کون اپنے کھلے دل اور دور اندیشی سے انسانیت کی بقا، فلاح اور بہبودی کے بارے میں سوچتا ہے ؟بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں، جن سے دشمن کو ہلاک کیا جا سکتا ہے، ڈرون کے ذریعے کنٹرول ہونے والے ہتھیاروںکے حصول میں دلچسپی لی جا رہی ہے لیکن ہمارے لوگوں کی صحت میں بہتری لانے پر کوئی توجہ نہیں دیا جا رہا ہے ۔
انسانیت کی یہ ایک بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سیاسی پنڈت کسی کام نہ آنے والے ڈاکٹرین اور نظریات پر بحث کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فلسفہ، کوئی بھی مذہب انسانیت سے بڑا نہیں ہے ۔یہ ایک ایسا سچ ہے جو تاریخ ہمیں بتانے کی کوشش کرہی ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔لیکن اس کے باوجود سرمایہ داری، کمیونزم، دایاں بازو، بایاں بازو اور تمام مذاہب کے نام پر ہم خود فریبی میں مبتلا ہیں۔یہ امریکہ اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک کیلئے محاسبہ کا وقت ہے کہ وہ سوچیں کہ وہ کس راستے پر چل کر دنیا کی رہنمائی کریں گے، تاکہ ضرورت کے وقت انسانیت کی مدد کی جا سکے ، اپنے ذاتی فائدے کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی مدد کی جائے ۔معیار زندگی میں کسی بہتری کے بغیر ترقی کسی کام کی نہیں ہے ۔
ترقی جس میں بقائے باہم کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہو وہ صحیح معنوں میں کوئی ترقی ہے ہی نہیں ۔تمام ممالک بغیر کسی امتیاز کے تنگ نظر سیاسی نظریات کی وجہ سے تکالیف سے دو چار ہیں ۔کم از کم اب لوگوں کیلئے ایک جامع صحت کو تجارتی خواہشات پر ترجیح ہونی چاہیے ۔ ممالک کو پبلک ہیلتھ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے ۔ایک ساتھ یا انفرادی طور پر صحت مند دنیا تمام ممالک کی پہلی ترجیح ہو نی چاہئے ۔دنیا کو اب چونکہ کرونا دبا کا سامنا ہے ‘ اس لئے تمام اختلافات کو بھلا کر تمام ممالک کو ایک ساتھ آگے آ کر ‘ ایک دوسرے سے اشتراک کرکے ریسرچ شیئر کرکے اس بحران پر قابو پانا چاہئے ۔شکوک و شبہات ‘الزامات‘ دغابازیوں سے صرف انسانیت کا خاتمہ ہو گا‘ اس سے خوشی میسر ہو گی اور نہ خوشحالی آئیگی ۔کورونا اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے سوچنے کا انداز بدلنا ہو گا ۔کورونا نے ثابت کیا کہ انسان فانی ہے ۔اس نے ہمیں خبر دا ر کیا کہ ہمیں روبوٹوں اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ رہنے سے پہلے فطرت اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لینا چاہئے ۔اگر ہم تلخ حقائق سے اپنی آنکھیں پھیر لیں گے تو ہم ایک مہلک بحران کی گرفت میں آئیں گے ۔تاریخ کا حوالہ دیتے وقت قبل از مسیح اور بعد از مسیح کے بجائے قبل از کورونا اور بعد از کورونا کہا جائیگا ۔اب جبکہ کورونا وائرس حملہ آور ہوا ہے ہمیں ایک اچھا انسان بن جانا چاہئے … جس میں انسانیت ہو لیکن کیا ہم ایسا بن سکتے ہیں ؟
وائرس سے ہوا بھاری نقصانان
وائرسوں کے نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں ان کے حملے تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں ۔ یول فیور، جائیکا، مرس، ایبولا، سوائن فلو، سارس یا کوئی دیگر وائرس انسانیت کو چیلنج کررہا ہے۔عالمی صحت ادارے کو ہر ماہ 5,000 نئی علامات ملتی ہیں یہ اس کا ایک ثبوت ہے ۔عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق ان وباؤں کی وجہ سے ہو ئے نقصانات کا حجم سالانہ 57 بلین ڈالر ہے ۔یہ سوچنا غلط ہو گا کہ صرف دو ماملک میں جنگوں سے بھاری نقصان ہوتا ہے ۔
ان نادیدہ مائیکرو آرگنزم کیخلاف جد وجہد کی زیادہ قیمت چکانی پڑیگی اگر دانشمندگی سے کام نہیں لیا گیا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا7 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































