دنیا
وزیراعظم مودی کی نکوس کے ساتھ گول میز بات چیت

نیکوسیا، وزیر اعظم نریندر مودی نے قبرص کے صدر نکوس کرسٹوڈولائڈس کے ساتھ آج لیماسول میں قبرص اور ہندوستان کے کاروباری رہنماؤں کے ساتھ گول میز پر بات چیت کی اس گول میز کانفرنس میں بینکنگ، مالیاتی اداروں، مینوفیکچرنگ، دفاع، لاجسٹکس، میری ٹائم، شپنگ، ٹیکنالوجی، اختراع، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، اے آئی ، آئی ٹی خدمات، سیاحت اور نقل و حمل جیسے مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
گزشتہ 11 برسوں میں ہندوستان کی تیز رفتار اقتصادی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان، اگلی نسل کی اصلاحات، پالیسی کی پیش گوئی، مستحکم سیاست اور کاروبار کرنے میں آسانی کے ذریعہ دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بن گیا ہے۔ جدت طرازی، ڈجیٹل انقلاب، اسٹارٹ اپس اور مستقبل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو دی جانے والی ترجیحات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ہندوستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت اور چند برسوں میں تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی شہری ہوا بازی، بندرگاہ، جہاز سازی، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سبز ترقی کے شعبوں میں مسلسل ترقی نے قبرص کی کمپنیوں کے لیے ہندوستان کے ساتھ شراکت کے بے شمار مواقع کھولے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے ہنر مند صلاحیت اور اسٹارٹ اپس ایکو سسٹم کی طاقتوں کو مزید اجاگر کیا اور مینوفیکچرنگ، اے آئی، کوانٹم، سیمی کنڈکٹر اور اور معدنیات کو ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں تعاون کرنے والے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے طور پر اجاگر کیا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کہ قبرص ہندوستان کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے، خاص طور پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے شعبے میں اور ہندوستانی معیشت میں نئیسرمایہ کاری کے لیے قبرص میں گہری دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ مالیاتی خدمات کے شعبے میں کاروباری مشغولیت کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے این ایس سی –انٹر نیشنل ایکسچینج گفٹ سٹی، گجرات اور قبرص اسٹاک ایکسچینج کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ این آئی پی ایل (این پی سی آئی – انٹر نیشنل پیمنٹس لمٹیڈ) اور یورو بینک سائپرس نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار ادائیگیوں کے لیے یو پی آئی متعارف کرانے پر ایک سمجھوتہ کیا جس سے سیاحوں اور کاروباروں کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیر اعظم مودی نے انڈیا – یونان – قبرص ( آئی جی سی) بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل کے آغاز کا بھی خیر مقدم کیا، جو جہاز رانی، لاجسٹکس، قابل تجدید توانائی، شہری ہوا بازی اور ڈجیٹل خدمات جیسے شعبوں میں سہ فریقی تعاون کو فروغ دے گا۔ وزیر اعظم نے اس حقیقت کا خیرمقدم کیا کہ بہت سی ہندوستانی کمپنیاں قبرص کو یوروپ کے لیے ایک گیٹ وے اور آئی ٹی خدمات، مالیاتی انتظام اور سیاحت کے مرکز کے طور پر دیکھتی ہیں۔
جیسا کہ قبرص آئندہ برس یوروپی یونین کونسل کی صدارت سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے، دونوں رہنماؤں نے ہندوستان-یوروپی یونین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سال کے آخر تک ہندوستان-یوروپی یونین کے آزاد تجارتی معاہدے کو ختم کرنے کے بارے میں امید ظاہر کی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بھی بڑا فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری گول میز کانفرنس نے عملی تجاویز دی ہیں جو کہ ایک منظم اقتصادی روڈ میپ کی بنیاد بنیں گی، جو تجارت، اختراعات اور اسٹریٹجک شعبوں میں طویل مدتی تعاون کو یقینی بنائے گی۔
مشترکہ خواہشات اور مستقبل پر مرکوز نقطہ نظر کے ساتھ ہندوستان اور قبرص متحرک اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کے لیے تیار ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
وائٹ ہاؤس عشائیہ: شاہ چارلس کا ٹرمپ کے پرانے بیان پر دلچسپ جوابی وار
واشنگٹن، شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں شاہی خاندان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں برطانوی بادشاہ نے صدر ٹرمپ کے ایک پرانے بیان کا جواب بھرپور طنز و مزاح کے ساتھ دیا۔
صدر ٹرمپ نے ماضی میں ڈیووس سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر امریکہ دوسری عالمی جنگ میں مداخلت نہ کرتا تو آج یورپی ممالک کے لوگ جرمن یا جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔
شاہ چارلس نے اسی تبصرے کو بنیاد بناتے ہوئے صدر ٹرمپ کو مخاطب کیا اور کہا کہ صدر صاحب! میں یہ کہنے کی ہمت کروں گا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو امریکہ میں لوگ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے۔ شاہ چارلس کا یہ جملہ سن کر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔
شاہ چارلس اس وقت شمالی امریکہ میں برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی دور کی تاریخ کا ذکر کر رہے تھے جب دونوں طاقتیں براعظم پر قبضے کے لیے برسرِ پیکار تھیں۔ اس موقع پر شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو برطانوی رائل نیوی کی اس آبدوز کی اصل گھنٹی بھی تحفے میں دی جس نے دوسری عالمی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے خوشگوار موڈ میں کہا کہ جب بھی ہماری ضرورت پڑے، بس یہ گھنٹی بجا دیں۔ اس ظرافت بھرے انداز کو تقریب کے شرکاء نے بہت سراہا اور اسے سفارتی آداب میں ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
’’میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا‘‘ ٹرمپ کی بندوق اٹھا کر ایران کو پھر دھمکی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
ایران جنگ اور مذاکرات کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روز متعدد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک بار پھر نیا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو دھمکانے کے لیے بندوق اٹھائے ہوئے اپنی اے آئی تصویر بھی جاری کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جلد سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے معاملات کو درست انداز میں سنبھالنے میں ناکام ہے اور لگتا ہے کہ اس کو غیر جوہری معاہدہ کرنا نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی ایک اے آئی تصویر بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ بندوق تھامے دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام اہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئرپروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
یورینیئم ذخائر یورینیئم کے ذخائر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے تقریباً 400 کلو گرام افزودہ یورینیئم کا مکمل کنٹرول اسے دیا جائے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں اور ان کا خاتمہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ایرانی حکام نے معاہدے کے لیے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 20 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ نقصانات کا ازالہ مزید برآں ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 279 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اور بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ایران کا علاقائی اثر و رسوخ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس معاملہ ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللّٰہ اور غزہ میں حماس سمیت اپنے اتحادیوں کی حمایت محدود کرے، جبکہ ایران اس مؤقف سے متفق نہیں۔ ماہرین کے مطابق ان بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر1 day agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں










































































































