تازہ ترین
ویڈیو: مرکزی وزارت داخلہ نے ملک کی دس ایجنسیوں کو دیا کمپیوٹروں کی جاسوسی کرنے کا حق

رضوان سلطان :
بھارت میں کمپیوٹر استعمال کرنے والے اب ذرا کمپوٹر دھیان سے استعمال کریں کیوں کہ مرکز ی سرکار کی طرف سے ایک نیا فرمان جاری کیا گیا ہے،۔ اس فرمان میں مودی سرکار نے ملک کی دس بڑی ایجنسیوں کو ملک بھر میں چلنے والے تمام کمپیوٹروں کی تفصیلاف میں مداخلت ، نگرانی اور ڈی کریپشن کا اختیار دے دیا ہے ۔ یعنی یہ اب آپ کے کمپیوٹر سے کسی بھی وقت تفصیلات حاصل کر سکتی ہیں۔
وزارت داخلہ کی طرف سے جمعرات کو اس جاری کئے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ بیورو یعنی آئی بی ، انفورسمنٹ دائیریکٹوریٹ ای ڈی ، سی بی آئی سینٹرل بیورو آف انسوٹیگیشن ،
این آئی اے نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی ، ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ را، سی بی ڈی ایکس ، ڈایریٹوریٹ آف سگنل انٹیلیجنس برائے جمون کشمیر ، آسام اور شمالی ریاستیں ۔ اور دہلی کمشیر کے پاس ملک کے چلنے ولاے سبھی کمپیوٹروں کی نگرانی کا اختیار حاصل ہو گا ،۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ کے سیکشن ۶۹ کے تحت ان ایجنسیز کو اختیار دیا گیا کہ وہ شر پسندوں کی سرگرمیوں پر خری نظر رکھنے کیلئے لوگوں کے پاس کمیوٹروں کی نگرانی کر سکے ۔
جمعرات کی دیر رات کو مرکزی داخلہ سیکرٹری راجیو گوبا کی طرف سے کئے گئے دستخط حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص یا سروس فراہم کرنے والی کمپنی اگر ایجنسیز کو بھر پور تعاون فراہم کرانے میں ناکام رہا تو اسے ۷ سات جیل اور جرمانہ بھی عائد کیا جایگا ۔
جمعرات کی دیر رات کو حکم نامہ جاری کرتے ہی اگلے روز اس کے خلاف سخت تنقید کی گئی ۔ تما م اپوزیشن جماعتوں نے اسے شہریوں کی آزادی پر حملہ قرار دیا ۔
کانگریس صدر راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ مودی جی ۔ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے سے آپکے مسائل حل نہیں ہونگے ۔ اس سے ۱۰۰ کروڑ ہندوستانیوں کو یہی ثابت ہو گا کہ آپ کتنے بڑے تانا شاہ ہیں ۔
ممبر پارلیمنٹ اسد الیدین اویسی نے مودی پر طنز کستے ہوئے کہا کہ اب سمجھ میں آیا کہ ۲۰۱۴ کی مہم کید وران گھر گھر مودی کا کیا مطلب تھا ۔ گھر گھر مودی کا مطلب آپ کے کمپیوٹر میں دیکھنا ہے ۔ جارج آرویل کا بڑا بھائی یہاں ہے ۔
ریاست کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے لکھا مرکز شمالی کوریا کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی نقل کر رہی ہے ۔ اب ہمارے یہاں بھی کوریا کے طرز پر پولیس تھا نے اور نیو ز چینلیں ہو نگے ۔
اس حکم نامے کے دفاع میں وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ اصول ۲۰۰۹ سے منموہن سنگھ کے دور سے موجود ہے ۔ اور اس طرح کی کوئی بھی کاروائی کرنے سے پہلے مرکزی داخلہ سیکرٹری سے منظوری لینا ہو گی ۔
وزارت خارجہ نے نے کہا اس حکم کو نافذ کرنے کا نظام پہلے سے ہی موجود ہے اور اس پر کسی طرح کی کاروائی تبھی ہو سکتی ہے جب مجاز افسر اس کام کی منظوری فراہم کرے ۔
اب سوال یہ کہ مرکز نے لوک سبھا انتخابات سے قبل ہی اچانک سے ایسا فیصلہ کیوں لیا ۔
جموں و کشمیر
جموں: اقتصادی جرائم ونگ نے دھوکہ دہی کے دو مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی
جموں، جموں کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے دھوکہ دہی کے دو الگ الگ مقدمات میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ عدالتوں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
پہلے مقدمے میں جے پور کی ایم/ایس گولڈ سکھ ٹریڈ انڈیا لمیٹڈ اور اس کے پانچ عہدیداروں پر سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع کا لالچ دے کر تقریباً 30.29 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرانے اور رقم کے غبن کا الزام ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ کمپنی سیبی، آر بی آئی اور جموں و کشمیر کے رجسٹرار آف کمپنیز کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھی۔
دوسرے مقدمے میں جعلی محکمہ ریونیو کے ریکارڈ کی مدد سے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) حاصل کرنے کے معاملے میں چار افراد اور ایک سابق پٹواری کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ ایف ایس ایل کی جانچ میں متعلقہ دستاویزات جعلی پائی گئیں۔
کرائم برانچ نے عوام سے مالیاتی دھوکہ دہی سے محتاط رہنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع اقتصادی جرائم ونگ کو دینے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تعلیمی اصلاحات کی شروعات، طلبہ کے دیگر مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: راہل گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’’ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی جانب ایک بڑا قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے والے طلبہ کی تاریخی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مظاہرین پر مبینہ تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اور وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے نوجوانوں سے معافی نہیں مانگتے۔
مرکزی وزراء کونسل سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ اس کامیابی کا مکمل سہرا طلبہ کو جاتا ہے، جن کے مسلسل احتجاج نے حکومت کو کارروائی پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ساکھ بحال کرنے کی وسیع تر تحریک کی پہلی بڑی کامیابی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’سب سے پہلے یہ ہمارے طلبہ کی فتح ہے، جو ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام کبھی ہماری پہچان تھا اور پوری دنیا اس کی غیر معمولی معیار کی معترف تھی، لیکن کئی برسوں سے اسے کمزور کیا جا رہا ہے، اس پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور اسے نجی ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اسی صورت حال اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے خلاف ردعمل تھا۔ دھرمیندر پردھان محض ایک علامت تھے، بدعنوانی، تعلیمی نظام کی تباہی اور نااہلی کی علامت، اور ان کا جانا بہتر ہوا۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی شعبے کا بحران کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ساختی مسئلہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وزیر اعظم نے تعلیم کے معاملے میں غلطیاں کی ہیں تو آر ایس ایس بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے، کیونکہ اس نے دیمک کی طرح نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس کے لیے سنجیدہ اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے، اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حکومت ایسا کر پائے گی۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا کہ اگرچہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبہ کے ایک اہم مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن دو ’’ناقابلِ سمجھوتہ‘‘ مطالبات اب بھی باقی ہیں۔ انہوں نے نیٹ معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج، پیلٹ گن کے استعمال اور دیگر طاقت کے استعمال میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے کہا، ’’طلبہ کے دو مطالبات اب بھی باقی ہیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور تشدد میں ملوث تمام سیکورٹی اہلکاروں اور منتظمین کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی ہونی چاہیے اور یہ کارروائی نظر بھی آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اس پورے نظام کے اصل ذمہ دار وزیر اعظم نریندر مودی کو ہندوستان کے طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کی حکمت عملی سے متعلق سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتی رہے گی اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی مہم کا اہم موضوع ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم امت شاہ کو طلبہ کے خلاف تشدد کا براہِ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے طلبہ پر فائرنگ اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی۔ ہم ہرگز یہ قبول نہیں کریں گے کہ ہمارے اپنے حفاظتی ادارے ہندوستان کے مستقبل پر گولیاں چلائیں۔ یہ پارلیمنٹ میں ایک بڑا مسئلہ ہوگا، اور جیسا کہ میں نے کہا، طلبہ وزیر اعظم سے معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘
ملک گیر احتجاج میں شریک طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے عزم نے جمہوریت اور آئین کا تحفظ کیا ہے اور اس سے کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور دیگر محروم طبقات کو بھی اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد کی ترغیب ملے گی۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری طلبہ کی بے مثال تحریک کے بعد سامنے آیا۔ یہ احتجاج متعدد ریاستوں تک پھیل گیا تھا اور اس دوران مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے پردھان کے استعفے کو بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا ہے، کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک مبینہ پولیس زیادتیوں کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا اور وزیر اعظم نوجوانوں سے عوامی معافی نہیں مانگتے، تحریک جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں ‘وسیع پیمانے پر’ فوجی آپریشن کا حکم
تل ابیب، بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی دیہات میں “وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی” شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کو جاری مشترکہ بیان میں، نیتن یاہو اور کاٹز نے یہ بھی کہا کہ فوج کو اس فلسطینی کے گھر کو مسمار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے تل کے نزدیک غیرقانونی آباد کاروں کے خلاف فائرنگ کی تھی۔
انادولو کے ایک نامہ نگار کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں واقع نابلس شہر پر ایک بڑی اسرائیلی فوجی فورس نے چھاپہ مارا۔
ایک اسرائیلی فوجی بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان واقعات کا تعلق نابلس کے قریب غیرقانونی ہاوَت گِلاد بستی کے نزدیک پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے سے ہے، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
اسرائیل کے چینل 13 نے مبینہ طور پر رپورٹ کیا ہےکہ فلسطینیوں نے ایک بستی کے سکیورٹی افسر کا ہتھیار چھین کر آباد کاروں پر فائرنگ کی۔
باور رہے کہ جمعے کے روز، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے تل پر اسرائیلی افواج اور غیرقانونی آباد کاروں کے حملے کے دوران چار فلسطینی ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جن میں تین کی حالت کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا5 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان5 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر1 week agoامرناتھ یاترا: جموں و کشمیر کے ادھم پور میں سڑک حادثے میں پانچ زائرین زخمی
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان4 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام

































































































