تازہ ترین
پراپرٹی ٹیکس کے معاملے پر کل جماعتی اجلاس کا انعقاد ناگزیر: رویندر رینا

جموں،11مارچ(یو این آئی)جموں وکشمیر بھارتیہ جنتاپارٹی کے صدر رویندر رینا نے پراپرٹی ٹیکس کے معاملے پر لیفٹیننٹ گورنر سے آل پارٹی میٹنگ طلب بلانی چاہے، جس میں سبھی سیاسی تنظیموں کے لیڈران، چیمبر آف کامرس، تاجر برادری اور بار ایسو سی ایشن شامل ہیں کو دعوت دی جانی چاہئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جائیداد ٹیکس کے معاملے پر لوگوں میں خدشات پائے جارہے ہیں جس کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے اوریہ کہ سرکاری مشینری کو بھی اس حوالے سے عوام میں بیداری مہم چلانی چاہئے۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ جائیداد ٹیکس کے معاملے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو لوگوں کے خدشات دور کرنے چاہئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2012میں عمر عبداللہ کی سرکار نے کابینہ میں پراپرٹی ٹیکس لاگو کرنے کے حوالے سے میٹنگ طلب کی جبکہ سال 2017میں محبوبہ مفتی کی سربراہی میں حکومت نے اسمبلی میں بل بھی پاس کی ۔
رویندر رینا کا مزید کہنا تھا کہ پراپرٹی ٹیکس لاگو کرنے کے پیچھے کون سی مجبوریاں ہیں ایل جی انتظامیہ کو اس حوالے سے سبھی باتیں پبلک ڈومین میں رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی ہر ریاست اور یونین ٹریٹری میں جائیداد ٹیکس لاگو ہے اور یہاں پر اس کو لاگو کرنا کوئی نئی بات نہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ شہروں کی ترقی کی خاطر پراپرٹی ٹیکس کا اطلاق ناگزیر تھا ۔
بی جے پی یوٹی صدر نے کہاکہ جیسا کہ ایل جی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایک ہزار سیکوئر فٹ مکان پر یہ ٹیکس لاگو نہیں یعنی شہری علاقوں میں چالیس فیصد آبادی کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہروں میں تعمیر وترقی کے حوالے سے ایل جی منوج سنہا کی مداخلت کے بعد ہی نیتی آیوگ فنڈس واگزار کررہا ہے لہذا پراپرٹی ٹیکس سے جو پیسے جمع ہونگے اُن کو شہروں کی ترقی کی خاطر ہی خرچ کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ پیسے دہلی نہیں جائیں بلکہ میونسپل کمیٹیوں اور میونسپل کارپوریشنز ان پیسوں کو تعمیر وترقی کے کاموں پر خرچ کریں گے۔
رویندر رینا نے کہاکہ ایل جی منوج سنہا کو اس حوالے سے عوام کے سامنے آکر خدشات دور کرنے چاہئے اور اس معاملے کو پبلک ڈومین میں رکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ میری رائے ہے کہ ایل جی منوج سنہا جائیداد ٹیکس پر آل پارٹی میٹنگ طلب کرئے اور اس میٹنگ میں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ بار ایسو سی ایشن ، چمبر آف کامرس اور تاجر برادری سے وابستہ نمائندوں کو مدعو کیا جانا چاہئے تاکہ سبھی خدشات کو دور کیا جاسکے۔
ایپ ٹیک کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں رویندر رینا نے کہاکہ جموں وکشمیر یوٹی کے نوجوان اس کمپنی سے بدل ہو گئے ہیں کیونکہ جس طرح سے سب انسپکٹر اور فائنانس اکاونٹ اسسٹنٹ امتحانات کے پیپر لیک کئے گئے امیدواروں میں ڈر کا ماحول ہے کئی دوبارہ ایسا نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ امیدوار اس وقت احتجاج پر ہیں اور ہم بھی اس بات کے قائل ہے کہ بھرتی میں ایمانداری سے کام لیا جانا چاہئے۔رویندر رینا نے کہاکہ جے کے ایس ایس بی کے چیرمین راجیش شرما نے گزشتہ روز ہی پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ امتحانات ایمانداری سے لئے جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کے دل میں جو پریشانی ہے اُس کو دو ر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید بتایاکہ چوری، جعلسازی کرنے والے آفیسران کو گھسیٹ گھسیٹ کر جیلوں میں بند کیاجانا چاہئے۔
پاکستان
ابراہم معاہدہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ پاکستان کیلئے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
نجی نیوز چینل ’’سما‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات کے خلاف ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت نہ ہم نے کوئی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی کسی نے باضابطہ طور پر ہمیں اس معاہدے میں شامل ہونے کیلئے کہا ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں، اس لیے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ممکن نہیں جن پر ’’ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’’ہمارا واضح مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں، اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام تک شامل نہیں ہے۔‘‘
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران میں 90 دن بعد بین الاقوامی انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ سروسز دوبارہ بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 90 دنوں سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث نافذ کی گئی تھی۔
رپورٹ میں ایرانی وزارت مواصلات کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کے حوالے سے کہا گیا کہ حکومت نے انٹرنیٹ سروسز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کیلئے کون سا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے ’’انٹرنیٹ آبزرویٹری نیٹ بلاکس‘‘ نے پیر کے روز کہا کہ گزشتہ 87 دنوں کے دوران ایران میں بیشتر شہری بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم رہے۔
ادارے کے مطابق صرف وہی افراد عالمی انٹرنیٹ استعمال کر پا رہے تھے جو ’’وی پی این‘‘ سروسز استعمال کرتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ابتدا میں 8 جنوری کو مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی محدود کی تھی۔
بعد ازاں یہ مظاہرے حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔
واضح رہے کہ ایران میں عام حالات میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال پر مختلف نوعیت کی پابندیاں اور سنسر شپ نافذ رہتی ہے، جبکہ متعدد ویب سائٹس تک رسائی محدود ہے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال میں آن لائن تعلیمی سرگرمیوں اور کلاسز کی وجہ سے انٹرنیٹ کی بحالی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کو افزودہ یورینیئم امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنا افزودہ یورینیئم یا تو امریکا کے حوالے کرنا ہوگا تاکہ اسے وہاں تباہ کیا جا سکے یا پھر کسی متفقہ مقام پر بین الاقوامی نگرانی میں اسے تلف کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ترجیحی طور پر یہ عمل ایران کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے کسی ایسے مقام پر ہونا چاہیے جہاں اٹامک انرجی کمیشن یا اس جیسے کسی بین الاقوامی ادارے کی نگرانی موجود ہو۔
دوسری جانب ٹرمپ کے بیان پر گھانا میں ایرانی سفارتخانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’افزودہ یورینیئم گھر میں ہے اور گھر میں ہی رہے گی۔‘‘
اس سے قبل امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ان لوگوں پر ہنستے ہیں جو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو ’’بہت عظیم اور بامعنی‘‘ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے ’’تباہ کن معاہدے‘‘ کے بالکل برعکس ہوگا۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر4 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا5 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان7 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا4 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا4 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا5 days agoمیں ایران کے ساتھ جنگ میں واپس نہیں جانا چاہتا، کچھ دن انتظار کروں گا: ٹرمپ
دنیا5 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام
ہندوستان1 week agoدفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے راج ناتھ ویتنام اور کوریا کے دورے پر روانہ
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
دنیا4 days agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ

































































































