دنیا
پوتین پہلے اپنے معاملے میں ثالثی کریں، بعد میں ایران کے بارے میں پریشان ہو سکتے ہیں:ٹرمپ

واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتین سےیوکرین اور ایرانی بحران پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وہ اپنے معاملے میں ثالثی کریں ۔ بعد میں ایران کی صورت حال کے بارے میں پریشان ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ان کی کل روسی صدر ولادیمیر پوتین سے بات چیت ہوئی ہے جس کے دوران انہوں نے یوکرین اور ایرانی بحرانوں پر تبادلہ خیال کیا جس میں روس کی جانب سے تہران کے ساتھ بات چیت میں ثالثی کی پیشکش بھی کی گئی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ میں نے کل پوتین سے بات کی۔ انہوں نے درحقیقت ایران کے ساتھ ثالثی کی پیشکش کی۔ میں نے کہا کہ براہ کرم مجھ پر احسان کریں۔
اپنے معاملے میں ثالثی کریں۔بعد میں ایران کی صورت حال کے بارے میں پریشان ہو سکتے ہیں۔ آئیے پہلے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کریں۔
ٹرمپ نے ایران کو مکمل طور پر بے بس اور کسی بھی فضائی دفاع کی کمی کا شکار قرار دیا اور کہا ایران نے ہم سے بات چیت کے لیے رابطہ کیا اور وائٹ ہاؤس آنے کی تجویز دی۔
امریکی صدر نے نوٹ کیا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا امریکہ ایران پر بمباری کرے گا یا نہیں۔ میں کر سکتا ہوں یا نہیں کر سکتا۔ اگلا ہفتہ انتہائی اہم ہو گا ، ہو سکتا ہے کہ ہم اس ہفتے کو پورا نہ کر سکیں۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، اس لیے ہم وہی کر رہے ہیں جو ہم کر رہے ہیں۔
ایجنسی فرانس پریس کے مطابق جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا تہران نے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی ہے تو انہوں نے جواب دیا “ہاں،” انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کہا کہ بات چیت کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے آج اور ایک ہفتہ پہلے میں بہت فرق ہے۔” کیا ایسا نہیں ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ ایرانیوں نے وائٹ ہاؤس آنے کی پیشکش کی اور اس تجویز کو جرات مندانہ قرار دیا۔
ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اس بات کی تردید کی کہ کسی ایرانی اہلکار نے وائٹ ہاؤس جانے کی درخواست کی تھی اور ٹرمپ کے دعوؤں کو “جھوٹ” قرار دیا۔
مشن نے اس بات کی توثیق کی کہ تہران دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا ہے اور اگر اسے زبردستی لایا گیا تو وہ امن کو قبول نہیں کرے گا۔ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دھمکی سے اور کسی بھی کارروائی کا جواب جوابی کارروائی سے دے گا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان چھٹے روز بھی حملوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ دونوں فریقوں کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
ٹویٹر پر بدھ کے اوائل میں شائع ہونے والی ٹویٹس کی ایک سیریز میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اس کے آغاز کا اعلان کیا جسے انہوں نے اسرائیل کے خلاف “جنگ” کے طور پر بیان کیا۔ علی خامنہ ای نے کہا تہران اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں داخل نہیں ہوگا۔ دونوں فریقوں نے شہروں کے نقشوں کا تبادلہ کیا جن پر مخصوص رنگ کوڈ والے علاقوں کو بمباری کا خطرہ ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے تل ابیب کے علاقوں کے مکینوں سے شہر سے نکل جانے کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی فوج نے تہران کے علاقے “علاقے 18 ” میں موجود ایرانی باشندوں کو انخلاء کا حکم جاری کیا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
اسرائیلی قبضہ واشنگٹن معاہدے پر عملدرآمد میں بڑی رکاوٹ: لبنانی صدر
بیروت، لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیلی قبضہ واشنگٹن معاہدے پر عملدرآمد میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز کی موجودگی لبنانی فوج کی تعیناتی میں رکاوٹ ہے جنوبی لبنان میں صیہونی فورسز کی موجودگی مشترکہ اہداف کےحصول کیلئےنقصان دہ ہے۔
جوزف عون کا کہنا تھا کہ ملک میں خانہ جنگی کی گنجائش نہیں، اسرائیل کےتازہ حملوں میں 4افراد جاں بحق ہوئے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنانی حکومت کے ساتھ طے شدہ سکیورٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے صارف انکار کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حزب اللہ خطرہ بنی رہے گی، اسرائیل اس علاقے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
واضح رہے کہ پچھلے دنوں امریکا کی ثالثی میں اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں کے درمیان ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے نیتن یاہو کا مقبوضہ لبنانی علاقے کا یہ پہلا دورہ تھا، جس کے تحت اسرائیل دو علاقے لبنان کی فوج کے حوالے کرے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بحرالکاہل میں چین کا بڑا عسکری مظاہرہ، ایٹمی آبدوز سے اسٹریٹیجک میزائل کا کامیاب تجربہ
بیجنگ، چین نے بحرالکاہل میں بڑا عسکری مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی آبدوز سے اسٹریٹیجک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ، تجربہ سالانہ فوجی تربیت کاحصہ تھا۔
تفصیلات کے مطابق چینی بحریہ نے پیر کے روز بحرالکاہل میں اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔
چینی پیپلز لبریشن آرمی کی بحریہ کے ترجمان وانگ شومینگ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ‘وی چیٹ’ پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی کہ “6 جولائی کی دوپہر 12 بج کر 1 منٹ پر چینی بحریہ کی ایک اسٹریٹجک نیوکلیئر آبدوز سے بحرالکاہل کے کھلے سمندر میں ایک اسٹریٹجک میزائل کامیابی سے داغا گیا۔” ترجمان کا کہنا تھا کہ سمندر میں وارہیڈ کیساتھ طویل فاصلے تک مار والے میزائل کا تجربہ کیا، جس نے سمندر میں پہلے سے طے شدہ ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ تجربہ سالانہ فوجی تربیت کا حصہ تھا جس کے بارے میں متعلقہ ممالک کو آگاہ کیا گیا تھا۔ اس تجربے سے قبل ہی پاپوا نیو گنی اور نیوزی لینڈ کے حکام نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا تھا کہ چین بحرالکاہل میں جوہری صلاحیت کے حامل میزائل کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
پاپوا نیو گنی کے وزیر خارجہ جسٹن ٹکاچینکو نے تصدیق کی کہ چینی سفیر نے ذاتی طور پر فون کر کے انہیں اس تجربے کے حوالے سے پہلے سے مطلع کیا تھا۔
نیوزی لینڈ کے حکومتی ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ چین نے انہیں اس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ٹیسٹ کے بارے میں الرٹ کر دیا تھا۔
دوسری جانب جاپان نے اس میزائل تجربے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، میزائل داغے جانے سے قبل جاری ایک مشترکہ حکومتی بیان میں ٹوکیو کا کہنا تھا کہ “ہم نے چین سے اس بیلسٹک میزائل تجربے پر نظرثانی کا پرزور مطالبہ کیا تھا تاکہ یہ جاپانی فضائی حدود سے گزر کر جاپان کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہ کرے۔”
دفاعی ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں چین کی اس تازہ ترین بحری اور جوہری طاقت کے مظاہرے سے خطے میں دفاعی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
کیف، نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے روس نے یوکرین پر بڑا فضائی حملہ کردیا ، جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ترکیہ میں شیڈول نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں اچانک شدت آگئی۔ روسی فوج نے یوکرینی دارالحکومت کیف پر اب تک کا ایک بہت بڑا فضائی حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
‘الجزیرہ ٹی وی’ نے کیف کے فوجی سربراہ کے حوالے سے بتایا روسی فوج نے یوکرینی دارالحکومت کو نشانہ بنانے کے لیے 68 ہلاکت خیز میزائل اور 351 ڈرون داغے۔ یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ محض ایک ہفتے کے دوران دارالحکومت کیف پر روس کا یہ دوسرا بڑا اور تباہ کن حملہ ہے، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، حملوں کے نتیجے میں اب تک 46 افراد کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ترکیہ میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ہی یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ روس اس اہم سفارتی بیٹھک کو سبوتاژ کرنے یا دباؤ بڑھانے کے لیے یوکرین کو بڑے حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے، جو اب سچ ثابت ہو گیا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی فوج نے بھی اس حملے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے روس کے زیرِ کنٹرول جزیرہ نما کرائمیا میں روسی توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ . یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روسی کنٹرول والے علاقے ‘سواستوپول’ میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق نیٹو اجلاس کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے ان حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا5 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا7 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
ہندوستان5 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان6 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا
دنیا6 days agoدوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات،ایران کی تردید



































































































